Daily Mashriq


’’جوڈیشل مارشل لاء ‘‘۔کی مغالطہ آرائی کا پردہ چاک

’’جوڈیشل مارشل لاء ‘‘۔کی مغالطہ آرائی کا پردہ چاک

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک بار پھر اعلان کیا ہے کہ ملک میں جمہوریت رہے گی۔ ملک میں پھیلی ہوئی جوڈیشل مارشل لاء کی چہ مگوئیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جوڈیشل مارشل لاء کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ’’کس نے مارشل لاء لگانا ہے اور کس نے لگنے دینا ہے۔ کس میں ہمت ہے کہ مارشل لاء لگائے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ’’کوئی دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ کے 17 جج گھروں کو چلے جائیں گے اگر ایسی کوئی کوشش ہوئی‘‘۔ چیف جسٹس کے اتنے بلند آہنگ الفاظ استعمال کرنے کا مقصد یہ صاف نظر آتا ہے کہ ایسی سینہ بسینہ گفتگو ختم ہو اور ملک جمہوری تقاضے کے مطابق عام انتخابات کی طرف پوری توجہ سے بڑھے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ یہ تاثر کون قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مسلم لیگ ن کا میاں نواز شریف کا جتھا اس میں پیش پیش ہے۔ کبھی کہا کہ فیصلے کہیں اور لکھے جاتے ہیں اور پڑھے عدلیہ میں جاتے ہیں، کبھی کہا جاتا ہے کہ ججوں کے دلوںمیں بغض اور انتقام ہے لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ یہ جسے بغض اور انتقام کہا جاتا ہے اس کی حقیقت کیا ہے۔ آخر میاں صاحب نے ایسا کیا کیا ہے؟ میاں صاحب نے اپنے طویل دور اقتدار میں جو کیا ہے اور کرنے کے جو کام نہیں کیے ان کی فہرست طویل ہے ۔ ان کے طرز حکمرانی نے ملک میں رشوت اور سفارش اور میرٹ کی بے توقیری کا کلچر رائج کیا ہے لیکن یہ مقدمہ عدالت میں نہیں چل رہا۔ اس مقدمے کا فیصلے تو عوام اور تاریخ نے کرنا ہے۔ عدالتوںمیںمیاں صاحب سے صرف یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ لندن کے جو فلیٹس ان کے خاندان کی ملکیت ہیں ان کے لیے پیسہ کہاں سے آیا اور آیا اس پر سرکاری ٹیکس ادا کیے گئے تھے یا نہیں۔ میاں صاحب کئی مہینوں سے ملک کی عدالت کو اس سادہ سوال کا جواب نہیں دے رہے الٹا اداروں کی بے توقیری پر کمربستہ ہیں۔ کہتے ہیں کہ کیس تو پاناما کا تھا اور نکالا اقامہ کی بنیاد پر گیا۔ انہیں نکالا اقامہ چھپانے کی بنیاد پر گیا ہے جو قانون کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن عدالتی کارروائی سے صرف نظر کرتے ہوئے انہوں نے ملک کے وزیر اعظم کے عہدے کی بے توقیری کی جب انہوں نے وزیر اعظم ہوتے ہوئے ایک بیرونی ملک کی فرم میں ملازمت اختیار کی۔میاں صاحب کا دعویٰ ہے کہ انہیں بیس کروڑ عوام کا مینڈیٹ حاصل تھا لیکن انہوں نے بیس کروڑ عوام کے ووٹ کو یہ عزت دی کہ ان کا وزیر اعظم ہوتے ہوئے ایک بیرونی ملک کی فرم میں ملازمت اختیار کر لی۔ خود تو ’’بیس کروڑ عوام ‘‘ کے ووٹ کو انہوں نے یہ عزت دی کہ ان کے منتخب وزیر اعظم کو ایک غیر ملکی فرم کا معمولی منیجر بنا ڈالا لیکن اب وہ پاکستان میں ووٹ کو عزت دو کے نعرے پر اداروں سے محاذ آرائی کی مہم چلا رہے ہیں۔ خود انہوں نے ووٹ کو یہ عزت دی کہ ان کے دورِ وزارت عظمیٰ کے دوران قومی اسمبلی کے جو ایک سو دو اجلاس ہوئے ان میں سے وہ کل مل ملا کر چھ اجلاسوںمیں شریک ہوئے۔ ان کی اپنی پارٹی کے منتخب ارکان کو ان سے یہ شکایت رہی کہ میاں صاحب ملاقات کا وقت بھی نہیں دیتے کہ وہ ان سے پارٹی اور حکومت کے معاملات کے بارے میں کوئی شکوے شکایت کر سکیں۔ ووٹ کو عزت دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ آپ کسی سے جو وعدے کریں ان کو پورا کریں۔ میاں صاحب کے بھائی شہباز شریف نے چھ ماہ ‘ ایک سال ‘ دو سال اور اڑھائی سال میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدے کیے۔ خود میاں صاحب نے دسمبر 2017ء میں بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ کیا جو آج بھی ختم نہیں ہوئی لیکن میاں صاحب نے کبھی عوام سے اس پر معذرت تک کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ میاں صاحب کے منشور میں تعلیم عام کرنے کا وعدہ تھا، لیکن آج بھی ملک میں کروڑوں بچوںکو سکول میسر نہیں۔ ہزاروں سکول ایسے ہیں جہاں نہ چار دیواری ہے ‘ نہ پینے کا پانی ‘ نہ بیت الخلا کی سہولت۔ ہزاروں سکول ایسے ہی جن کا عملہ سرکاری خزانے سے تنخواہیں لیتا ہے لیکن سکول نہیں ہیں۔ جان ‘ مال اور آبرو کی حفاظت کی ذمہ داری حکومت کی ہے لیکن لوگ سیکورٹی گارڈ رکھتے ہیں۔ حق زندگی بنیادی انسانی حق ہے۔ ہسپتالوںمیں دوائیاں ناقص دی جاتی ہیں ۔ حال ہی میں بچوں کی دوائیوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ یہ ناقص تیار ہو رہی ہیں۔ ہسپتالوںمیں ایک ایک بستر پر چار چار مریضوںکو لٹایا جاتا ہے۔ طویل دور حکمرانی کے باوجود ملک میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہیں بن سکا جس میں حکمران شریف خاندان کے افراد کا علاج ممکن ہوتا۔ خود میاں نواز شریف علاج لندن میں کراتے ہیں۔ شہباز شریف لندن میں طبی معائنہ کراتے ہیں اور بیگم کلثوم نواز آج بھی لندن میں زیرِ علاج ہیں۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی اس بات سے اتفاق ہی کیا جا سکتا ہے کہ ووٹ کی عزت لوگوں کو ان کے آئینی حقوق دینے میں ہے۔ ووٹ کی عزت کا مطلب ہے کہ ووٹروں سے سچ بولا جائے ۔ قومی اسمبلی سارے ملک کے عوام کا منتخب ایوان ہے۔ اس میں کھڑے ہو کر میاں صاحب نے کہا یہ ہیں وہ ذرائع و وسائل جن سے لندن فلیٹس خریدے گئے ۔ اگر میاں صاحب عدالت میں وہ سب ذرائع اور وسائل پیش کر دیتے تو مقدمہ اتنا طول نہ پکڑتا۔ لیکن انہوں نے ایوان میں جو کچھ کہا عدالت میں اس پر پورے نہیں اُترے ۔ بجائے اپنی صفائی پیش کرنے کے الٹا وہ اداروں کے خلاف محاذ آرائی کے ذریعے معصومیت اور مظلومیت کا تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پہلے فوج کی طرف اشارہ کیا جار ہا تھا اور کہا جا رہا تھا کہ جمہوریت کو خطرہ ہے لیکن پاک فوج نے ایک سے زیادہ بار وضاحت کر دی ہے کہ وہ جمہوریت کے ساتھ ہے۔ اور پھر ملک میں جمہوری حکومت خود ان کی اپنی پارٹی کی قائم ہے ۔ پھر عدلیہ کی طرف انگلی اٹھائی گئی کہ جج انتقام اور بغض سے بھرے ہوئے ہیں ۔ اب جوڈیشل مارشل لاء کی اصطلاح پھیلائی جا رہی ہے جس میں فوج اور عدلیہ دونوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔ لیکن چیف جسٹس نے واضح الفاظ میں اس مغالطہ آرائی کا پردہ چاک کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ کسی میں ہمت نہیں کہ وہ مارشل لاء لگائے ‘ عدلیہ جمہوریت کی حفاظت کر رہی ہے ۔ وہ جمہوریت جس میں آئین کی بالادستی ہونہ کہ حکمرانوں کی مطلق العنانی۔

متعلقہ خبریں