میاں نوا ز شریف کی وطن واپسی

میاں نوا ز شریف کی وطن واپسی

سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ اگر انہیں احتساب عدالت میں حاضری سے مزید استثنیٰ نہ ملا تو وہ واپس آ ئیں گے اور عدالت میں پیش ہوں گے۔ میاں صاحب کے اس فیصلہ پر پہنچنے میں موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا مشورہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ وزیر اعظم عباسی نے اپنے سرکاری دورہ برطانیہ میں توسیع کر دی ہے ‘ ان کی سرکاری مصروفیات جمعہ کے روز مکمل ہو گئی تھی اور سابق وزیر اعظم سے ملاقات بھی کی ہے ۔ اگرچہ بعض حلقوں میں یہ قیاس آرائیاں جاری ہیں کہ میاں نواز شریف اپنی اہلیہ کی صحت کی خرابی کی بنا پر لندن میں قیام میں توسیع کر سکتے ہیں لیکن بعض دیگر ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کے عدالت میں حاضر نہ ہونے کے باعث پارٹی کی انتخابی مہم متاثر ہو گی۔ اور پارٹی کی قوت ہی میاں نواز شریف کا سہارا ہے۔ میاں نواز شریف نے احتساب عدالت میں ہر تاریخ کو پیش ہونے کے ذریعے جو قانون کی پاسداری اور مظلومیت کا تاثر قائم کیا ہے وہ ان کے غیر حاضر ہونے کے باعث زائل ہو جائے گا۔ دوسری طرف یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ احتساب عدالت میں مقدمہ چونکہ آخری مراحل میں داخل ہو رہا ہے اس لیے ممکن ہے عدالت انہیں سزا سنا دے۔ تاہم میاں صاحب کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ہر قسم کے نتیجہ کے لیے تیار ہیں ۔ اس لیے عین ممکن ہے کہ وہ اگلی پیشی کے لیے بھی استثنیٰ کی درخواست دیں لیکن استثنیٰ نہ ملنے کی صورت میں وہ وطن واپس آئیں گے اور عدالت میں پیش ہوں گے اس طرح ان کی قانون کی پاسداری اور مظلومیت کے تاثر کو تقویت ملے گی اور قائد کے بیانیے کو اگر تقویت ملتی ہے تو اس سے ن لیگ کو آئندہ انتخابات میں فائدہ ہو گا۔
تحریک انصاف: ووٹوں کی فروخت کی تحقیقات
تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے ان ارکان کو صفائی کا موقع دینے کے لیے ایک چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں ووٹوں کی قیمت وصول کی۔ کہا جا رہا ہے کہ حکومت کے ایما پر انسداد دہشت گردی کے محکمہ نے ان ارکان کے ٹیلی فون ٹیپ کیے تھے اور جب یہ ارکان کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے تو انہیں وہ ٹیلی فون ٹیپ بھی سنوائی جائیں گی۔ لیکن ووٹوں کی خرید فروخت ثابت کرنے کے لیے ان ٹیلی فون ٹیپس کے علاوہ بھی بہت کچھ درکار ہو گا۔ مثال کے طور پر یہ کہ آیا اس ٹیلی فونی گفتگو کے حوالے سے رقم وصولی بھی کی گئی یا نہیں اور یہ کہ نامزد ارکان نے پارٹی لائن کے خلاف ان رقوم کے عوض ووٹ حقیقتاً فروخت بھی کیے اور یہ کہ آیا پارٹی لائن ان نامزد ارکان پر واضح بھی کی گئی تھی۔ ممکن ہے چھ رکنی کمیٹی کے پاس یہ سب شواہد موجود ہوں تاہم ان کے بغیر محض ٹیلی فونی گفتگو کے ٹیپس کی بنیادپر فیصلہ ممکن ہے کسی عدالت میں پذیرائی حاصل نہ کر سکے۔ شوکاز نوٹس ان ارکان کو ان پر الزام عائد کرنے کے بعد ملے ہیں ۔ ان الزامات سے ان کی سبکی ہوئی ہے اور ان کا سیاسی کیریئر متاثر ہوا ہے۔ فرض کیجئے کوئی رکن یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے کہ ٹیلی فونی گفتگو کے باوجود اس نے کال کرنے والے کی تجویز قبول نہیں کی تھی تو اس کا کیا بنے گا؟ اور پھر ٹیلی فون ٹیپ کرنا کہاں تک بنیادی انسانی حقوق کی پاسداری کے مطابق ہے؟ یہ سوال اپنی جگہ سامنے آئے گا۔ اگر یہ الزامات ثابت سمجھے جائیں تو ان ارکان کا سیاسی کیریئر ختم ہو جائے گا لیکن کیا تحقیقاتی کمیٹی کا اس نتیجہ پر پہنچنا کافی ہوگا یا الیکشن کمیشن تک بات جائے گی۔ تحریک انصاف کے چیئرمین کا ان ارکان کو شوکاز نوٹس بھیجنے کا فیصلہ اگرچہ دلیرانہ ہے تاہم الزامات ثابت کرنے سے پہلے ان کو بدنام کرنے کا فیصلہ مناسب نہیں سمجھا جا سکتا۔

اداریہ