تجربات سے گریز کیجئے یہ بہت ضروری ہے

تجربات سے گریز کیجئے یہ بہت ضروری ہے

کے سارے طبقات اور مختلف الخیال لوگ کسی سے بھی سو فیصد راضی نہیں ہوتے۔ لکھنے والوں کا معاملہ دیگر افراد کے مقابلے میں کچھ زیادہ حیران کن ہے۔ آج ایک تحریر کی بدولت جو لوگ آپ کو مجاہد حریت فکر قرار دے رہے ہوتے ہیں کل کسی دوسری تحریر پر ناراض ہو کر اداروں کا دلال قرار دے دیتے ہیں۔ صحافت کے کوچے میں پچھلے 45برسوں سے دن رات سے زیادہ بعض پڑھنے والوں کی رائے بدلتی دیکھی۔ ان دنوں بھی فتوؤں اور الزامات کی چاند ماری کا سامنا ہے۔ اچھا! تو کیا محض لوگوں یا پھر چند اداروں کی خوشنودی کو مقدم سمجھ کر اپنی فہم ان کے پلڑے میں ڈال دی جائے؟ جب کبھی اس سوال پر غور کرتا ہوں تو اُستاد محترم مرحوم ومغفور سید عالی رضوی یاد آجاتے ہیں۔ سال 1993ء میں اس طالب علم کی ایک تحریر پر ہنگامہ برپا ہوا تو انہوں نے کہا ’’دیکھو کالم نگار یا کسی تحریر نویس کیلئے لوگوں اور اداروں کی خوشنودی سے زیادہ اہم ترین بات یہ ہوتی ہے کہ تاریخ اسے اور اس کی تحریروں کو کیا مقام دے گی‘‘۔ وہ دن ہے اور آج کا دن کبھی داد کے ڈونگروں سے جی بہلایا نہ کبھی فتوؤں اور گالیوں پر بدمزہ ہوا۔ بات سمجھ چکا ہوں عدم اتفاق والے کسی تاخیر کے بغیر آپ کی ذات‘ قومیت اور عقیدے پر حرف گیری کریں گے۔ یہ ہمارے آج کا المیہ نہیں اس سوچ کا دروازہ جولائی 1977ء کے بعد سے کھلا ہے۔ پسند وناپسند کا ظالم ومظلوم پالتے مذاہب وعقیدوں اور نسل پرستی کی بکل مارے کسی سے خوش نہیں ہوتے، ان میں سے بعض تو خدا سے بھی۔ فضیل بن عیاضؒ عربی کے بلند پایہ شاعر تھے ان سے کسی نے دریافت کیا آپ لوگوں کو ناراض کیوں کرتے ہیں؟۔ عیاض نے کہا ’’اس کی جواب طلبی سے ڈرتا ہوں جو عادلین کا عادل ہے‘‘ رتی برابر خودستائی کے بنا عرض کروں لاریب میری کوئی مذہبی‘ مسلکی اور قومیتی شناخت ہوگی مگر تحریر وتجزیہ کے وقت ان سے جان چھڑا کر لکھتا ہوں۔ غیرجانبداری کا دعویٰ بالکل نہیں آدمی جانبدار ہوتا ہے سو میں بھی ہوں انڈس ویلی (موجودہ پاکستان) کے زمین زادوں کیساتھ کھڑا ہوں۔ قومی جمہوریت‘ مساوات اور بلاامتیاز انصاف پر یقین کامل ہے، اداروں کی خوشنودی اور جماعتوں کی منیجری کبھی مرغوب نہیں ہوئی اور نہ کبھی ہوگی۔

ہم آگے بڑھتے اور اصل موضوع پر بات کرتے ہیں۔ ملک گیر پارٹیوں یا مؤثر قوم پرست جماعتوں کے راستے میں کانٹے بونے والے اس ملک جمہوریت اور مستقبل کی کوئی خدمت نہیں کر رہے، جس طرح حلقوں کی سیاست کرنے والوں کا تحریک انصاف‘ جنوبی پنجاب‘ صوبہ محاذ‘ سندھ کے گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس‘ بلوچستان میں بلوچستان عوامی پارٹی کی طرف ہانکا کیا جا رہا ہے اس سے ملک گیر جماعتوں کا بندوست تو ہو جائے گا مگر فائدے کی بجائے نقصان ہوگا۔ ویسا ہی نقصان جو 1985ء کے غیرجماعتی انتخابات کے نتیجے میں ہوا اور اس کے اثرات آج تک موجود ہیں۔ ذات برادری‘ عقیدہ اور نسل پرستی کے جس نئے دور کا دروازہ کھولا جا رہا ہے وہ درست ہے نا فیڈریشن کے مفاد میں ہے۔ مٹی کے مادھوؤں کے ذریعے حکومت سازی بھی شاید مستقبل میں کرلی جائے لیکن کمزور انتظامی اور حکومتی ڈھانچے‘ اصلاح احوال کے وہ اہداف حاصل نہیں کر پائیں گے جن کی ضرورت ہے۔ ہم کیسے مان لیں کہ حلقوں کی سیاست کو مقصد زندگی سمجھنے والے درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کر پائیں گے۔ پٹواری‘ کانگو‘ ایس ایچ او، اس سے بڑھ کر تحصیلدار مرضی کا ہو تو دنیا جنت جنہیں محسوس ہو وہ سیاسی جمہوری نظام کی اقدار کو کیا سمجھیں گے۔ عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ تجربوں سے اجتناب کیا جائے، 70برسوں میں بہت تجربے ہوئے نتائج کے کھنڈرات ہمارے سامنے ہیں۔ بہت ادب سے درخواست ہے کہ حب الوطنی کا چورن اور غداری کے تمغے فروخت کرنے سے گریز کیا جائے۔ طبقات اور بعض اداروں کی خوشنودی کیلئے جو لوگ یہ سودے فروخت کر رہے ہیں انہیں بھی خوف خدا سے کام لینا چاہئے۔ یہ 22کروڑ لوگوں کاملک ہے اس کے نظام حکومت بارے فیصلے کا حتمی اختیار لوگوں کو ہی ہے۔ ریاست کا کام تجربے کرنا نہیں بلکہ اس امر کو یقینی بنانا ہے کہ عدم توازن نہ قائم ہونے پائے۔
فی الوقت ضرورت اس امر کی ہے کہ سنجیدگی کیساتھ مختلف طبقات کی شکایات پر توجہ دی جائے کیونکہ اگر کسی طبقے کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کی بجائے کرائے کے لوگوں کے ذریعے الزام تراشی کروائی جاتی رہی تو دوریاں بڑھ سکتی ہیں۔ جان کی امان رہے تو عرض کروں دوریاں بڑھ رہی ہیں۔ یہ بجا ہے کہ ریاست کے سامنے مطالبات رکھنے والے طبقات کو بھی اپنے طرز تکلم اور اپنی صفوں میں موجود بعض لوگوں کے ان خیالات کا نوٹس لینا ہوگا جن پر اعتراضات ہو رہے ہیں۔ یہ ہمارا ملک ہے ہم سب کا، بجا کہ ناانصافیاں ہیں‘ عدم مساوات ہے‘ جمہوریت کے نام پر طبقاتی نظام مسلط ہے‘ میرٹ کا کوئی وجود نہیں‘ جائز شکایات کا ازالہ نہیں ہوتا مگر یہ سارے مسائل مشترکہ عوامی جدوجہد سے حل ہوسکتے ہیں۔ تقسیم کے عمل کو پذیرائی دے کر ہرگز نہیں۔ سماج کی وحدت اسی صورت قائم رہ سکتی ہے کہ فرد کے جرم کی سزا اس کی قومیت‘ مذہب یا عقیدے کے لوگوں کو نہ دی جائے۔ اچھے برے لوگ ہر طبقے اور مکتب میں ہوتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اچھے لوگوں کا تناسب زیادہ ہوتا ہے، ان زیادہ تناسب والے دردمند شہریوں سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ چپ کا روزہ توڑ دیجئے۔ لوگوں کے جمہوری حقوق اور آزادی اظہار پر پابندیوں کے کبھی بھی مثبت نتائج نہیں نکلتے بلکہ اس سے دوریاں بڑھتی ہیں۔ جن حالات سے پاکستان دوچار ہے یہ حالات محبتوں کو فروغ دینے اور وحدت کو قائم رکھنے کے متقاضی ہیں۔

اداریہ