Daily Mashriq


یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟

یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا؟

سوال گندم جواب چنا۔ امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے حالیہ سینیٹ انتخابات کے حوالے سے بیان کیا دیا‘ بقول مرزا غالب: میں چمن میں کیا گیا گو یاد بستاں کھل گیا، حالانکہ جو سوال سراج الحق نے اُٹھایا ہے کہ سینیٹرز کی خرید وفروخت سے سینیٹ کی اخلاقی حکومت ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ سینیٹ میں چند گھوڑے نہیں پورا پورا اصطبل بک گیا، تو اس قسم کے سوالات تو پہلے ہی سیاسی اور صحافتی سطح پر اُٹھائے جا رہے تھے۔ تجزیوں اور کالموں میں بھی اسی حوالے سے استفسارات کئے جا رہے ہیں مگر تحریک انصاف کے حلقوں نے جس بات پر تلملا کر جوابی وار کرنے شروع کردئیے ہیں وہ سراج الحق کے بیان کا وہ حصہ ہے جس میں موصوف نے تحریک کے سربراہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ایک نیا پنڈورہ باکس کھول دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’چیئرمین سینیٹ کے الیکشن میں تحریک انصاف نے کہا کہ اوپر سے حکم ملا ہے کہ چیئرمین کیلئے سنجرانی کو ووٹ دینا ہے‘ اب یہ معلوم نہیں کہ یہ عرش معلی سے حکم آیا تھا یا کہیں اور سے‘ جس طرح بکنے والے مجرم ہیں اسی طرح خریدنے والے بھی مجرم ہیں۔‘‘ انہوں نے چیف جسٹس سے مطالبہ کیا کہ وہ نومنتخب سینیٹرز کو بلا کر حلف لیں کہ انہوں نے ووٹ نہیں خریدے۔ اگر چیف جسٹس ایک سال پہلے پشاور کا دورہ کرتے تو انہیں یہاں ہریالی نظر آتی، میٹرو منصوبے نے پورے شہر کو اُکھاڑ کر رکھ دیا ہے۔ جب تک سیاست سے ملاوٹ ختم نہ ہو جائے دودھ میں ملاوٹ ختم نہیں ہوسکتی‘‘۔ امیر جماعت اسلامی کے ان چبھتے ہوئے جملوں پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ترجمان شوکت علی یوسفزئی نے جماعت اسلامی کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ جماعت اسلامی کے وزراء آستین کے سانپ نکلے۔ پانچ سال اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد جاتے ہوئے ملبہ دوسروں پر ڈالا جا رہا ہے جو جماعت اسلامی کی پرانی عادت ہے۔ سراج الحق زیادہ سادے نہ بنیں‘ جب پانچ سال اقتدار کے مزے لئے تو اب ذمہ داری بھی اُٹھائیں۔ اگر کوئی خرابی تھی تو موصوف پانچ سال خاموش کیوں رہے۔ آئندہ جماعت اسلامی کو کسی بھی طور حکومت میں شامل نہیں کریں گے۔ پشاور کی ترقی میں بڑی رکاوٹ جماعت کے وزیر رہے جنہوں نے ہر جگہ کیڑے نکالے۔ ادھر پی ٹی آئی کے ترجمان فواد چوہدری نے بھی دل کے پھپھولے پھوڑتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ سراج الحق (ن) لیگ کے اتحادی ہیں اسلئے ان کے لہجے میں (ن) لیگ بول رہی ہے۔ جماعت اسلامی کشمیر میں (ن) لیگ اور خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی اتحادی ہے جبکہ پنجاب میں ان کا ناظم شیر کے نشان پر جیتا۔ اس ساری صورتحال پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ

بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی

سوال مگر وہیں ہے کہ سوال گندم جواب چنا‘ یعنی سراج الحق نے یہ جو نیا پنڈورہ باکس کھول دیا ہے جسے انگریزی میں فرام دی ہارسز ماؤتھ کہا جاتا ہے اور جس کے بارے میں اوپر کی سطور میں لکھا بھی جا چکا ہے کہ یہ سوال تو تقریباً ہر تجزیہ کار اور کالم نگار کے علاوہ کئی ایک سیاسی رہنماؤں کے بیانات میں بھی دیکھا‘ پڑھا اور پرکھا جاسکتا ہے کہ سینیٹ کے حالیہ انتخابات میں کیا ہوا، اور اب سراج الحق نے زیادہ واضح کرکے رکھ دیا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے انہیں پیغام دیا کہ سینیٹ انتخابات میں سنجرانی کو ووٹ ڈالا جائے کہ بقول ان کے ’’اوپر سے کہا گیا ہے‘‘ تو اس کا جواب دینے کے بجائے ادھر ادھر کی ہانکی جا رہی ہے اور شوکت یوسفزئی اپنے دل کا غبار جماعت کے صوبائی وزراء کے پانچ سالہ اقتدار کے مزے لینے کے طعنے دے کر نکال رہے ہیں تو فواد چوہدری کو جماعت اسلامی کے گلے میں نون لیگ بولتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے، جیسا کہ کئی برس پہلے بھارتی گلوکارہ لتا منگیشکر نے مہدی حسن کے بارے میں یہ تاریخی الفاظ کہے تھے کہ ’’شری مہدی جی کے گلے میں بھگوان بولتے ہیں‘‘۔ تو اب شاید فواد چوہدری کو بھی پانچ سال کے بعد یہ پتہ چلا کہ جماعت اسلامی کے سربراہ سراج الحق کے لہجے میں نون لیگ بول رہی ہے، حالانکہ تحریک انصاف کے دونوں رہنماؤں پر لازم تھا کہ وہ ’’اوپر‘‘ کے حکم کی وضاحت کرتے۔ حالانکہ شوکت یوسفزئی نے موصوف کو سادہ ماننے سے انکار کرتے ہوئے ان کے وزراء پر پانچ سال تک حکومت کے مزے لینے کے حوالے سے طنز بھی کیا ہے۔ اسلئے اب دیکھنا یہ ہے کہ سراج الحق واقعی سادہ ہیں یا پھر پشتو کے ایک ضرب المثل کے مطابق ’’پہ سادہ و کہ گل دار‘‘ یعنی سادوں میں اندر سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ خیر وہ سادہ ہیں یا گل دار‘ سوال تو انہوں نے خوب کیا جس کا جواب لازمی ہے۔ اس پر بھی ایک پاکستانی فلم سلمیٰ یاد آگئی ہے جو دراصل ایک بھارتی فلم شاردا کا چربہ تھی، اس میں ایک ان پڑھ شخص کو پڑھانے کیلئے اُستاد رکھا جاتا ہے، وہ اسے ’الف‘ سے ’ی‘ تک پڑھاتا ہے تو شاگرد سادگی سے کہتا ہے کہ یہ تو مجھے آتا ہے۔ آپ مجھے ’الف‘ سے پہلے اور ’ی‘ کے بعد جو کچھ ہے وہ پڑھائیں، تو سراج الحق بھی اتنے سادہ نہیں ہیں بلکہ وہ بھی سینیٹ انتخابات کے حوالے سے ’الف‘ سے پہلے اور ’ی‘ کے بعد کے بارے میں استفسار کر رہے ہیں اسلئے تحریک والے ادھر ادھر کی نہ ہانکیں یعنی شف شف نہ کریں سیدھا شفتالو بول دیں یعنی بقول فراق جلالپوری

تو ادھر ادھر کی نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا

مجھے رہزنوں سے گلہ نہیں تری رہبری کا سوال ہے

متعلقہ خبریں