ووٹر کی عزت کہاں ہے؟

ووٹر کی عزت کہاں ہے؟

دنیا میںجمہوری نظام ایک ایسا طرز حکومت ہے جس میں کسی حد تک عوام کے مسائل کا حل ہے گوکہ یہ اسلامی نظام کا متبادل قطعاً نہیں مگر پھر بھی دنیا میں رائج نظاموں میں اچھا نظام ہے مگر افسوس کی بات ہے کہ جمہوریت کو چلانے والے جمہوری لوگ سیاست کو باپ دادا کی میراث بنا دتے ہیں اور جمہوریت کو جمہوریت کی ڈگر پر چلنے نہیں دیتے اور پارٹی اور جمہوری نظام کو آمریت، مطلق ا لعنانی اور وفاداریوں کی تبدیلی کی طرف لے جاتے ہیں۔ اقتدار کی مسند تک پہنچتے ہی یہ سیاسی پارٹیاں اور ان کے قائدین نہ تو ووٹ اور نہ ووٹر کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ سیاستدانوں کا ووٹر کیساتھ اس وقت تک تعلق اور واسطہ ہوتا ہے جب تک ووٹر سے ووٹ نہیں لیا جاتا، جونہی ووٹ لیا جاتا ہے تو پھر سیاسی لیڈر اور ووٹر کے رابطے ختم ہو جاتے ہیں۔ اگر ہم پاکستانی سیاست پر نظر ڈالیں تو ہمیشہ ان سیاستدانوں نے ووٹ کی توہین اور بے عزتی کی ہے۔1988-1993 میں محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت اور 2012 میں یوسف رضا گیلانی کی حکومت ختم ہونے پر کس نے مٹھائیاں بانٹی، حالانکہ پی پی پی نے عوام سے ووٹ لیا تھا اور نواز شریف کو عوامی مینڈیٹ اور ووٹ کا احترام کرنا چاہئے تھا مگر میاں نواز شریف اور ان کی پارٹی نے پی پی پی حکومتوں کے ختم ہونے پر شکرانے کے نوافل ادا کئے تھے۔ حال ہی میں سینیٹ کے الیکشن میں جس طرح صوبائی اسمبلیوں کے ممبران نے 8،10 اور 12 کروڑ میں ووٹ بیچے کیا یہ ووٹ کی عزت ہے اور جبکہ تحریک انصاف نے 20 ایم پی ایز کو پا رٹی سے بھی نکالا۔ کیا صوبائی اسمبلیوں کے ان ممبران نے عوامی مینڈیٹ کا قتل نہیں کیا اور ووٹ کی توہین نہیں کی۔ ماضی میں جس طرح میاں نواز شریف نے محترمہ بینظیر بھٹو کی حکومت کو ختم کرنے کیلئے چھانگا مانگا میں ایم این اے کی خرید وفروخت کی، کیا یہ ووٹ کی عزت ہے مگر جب عدلیہ نے پانامہ کیس میں میاں نواز شریف پر ہاتھ ڈالا تو انہوں نے عدلیہ اور مسلح افواج کی کردار کشی شروع کردی۔ نواز شریف کے اردگرد لوگ اور اُن کے وزرائے کرام وہ کونسی پارٹی ہے جس کا وہ ماضی میں حصہ نہیں رہے۔ کیا ان سیاستدانوں کا یہ متضاد کردار نہیں حالانکہ ووٹر ایک نظریئے کو ووٹ دیتا ہے مگر افسوس صد افسوس یہی سیاستدان خود ووٹر اور ووٹ کی اہمیت نہیں سمجھتے۔ اگر ہم غور کریں تو پاکستان میں جمہوریت کے نام پر موروثینظام رائج ہے۔ عوام تو مختلف پارٹیوں کے نظریات کو ووٹ دیتے ہیں مگر بعد میں ہمارے یہی سیاستدان وفاداریاں تبدیل کر کے ووٹر کو کوڑے کے ڈرم میں پھینک دیتے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت نہیں بلکہ موروثی سیاست ہے۔ کیا سیاست اور کیا ووٹ۔ کیا ان چند ہزار سرمایہ داروں، جاگیرداروں اور کارخانہ دارں کے علاوہ 21 کروڑ عوام میں کوئی اور نہیں جو ملک کی باگ ڈور سنبھال سکے۔ ایک سیاستدان کے اصول ہوتے ہیں۔ میں ان سیاستدانوں سے پو چھنا چاہتا ہوں کہ یہ تو منٹ منٹ بعد زندگی کے اصول اور نظریات بدلتے رہتے ہیں۔ یہ کس ووٹ اور سیاست کی بات کرتے ہیں۔ جہاں تک مسلح افواج کا سیاست میں عمل دخل ہے تو یہی سیاستدان فوج کو اقتدار پر شب خون مارنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر ہم سیاسی وفاداریوں، موروثیت اور ووٹ کی بات کریں تو پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف پہلے تحریک استقلال میں تھے۔ آصف زرداری کے والد حاکم علی زرداری پہلے عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے نائب صدر تھے۔ موجودہ دور مسلم لیگ ن کے قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں بہت سے ایسے سیاستدان ہیں جو ماضی قریب میں مشرف اور پاکستان مسلم لیگ ق اور پی پی پی کا حصہ تھے۔ ان میں زاہد حامد، امیر مقام، ماروی میمن، دانیال عزیز، راجہ جاوید اخلاص، میجر طاہر اقبال اور ان کے علاوہ بہت سے ایسے ایم این اے، ایم پی اے اور سیاستدان تھے جو نواز شریف کے سخت مخالف پرویز مشرف کے خاص تھے۔ ارباب فیملی 1977 میں پی پی پی میں تھی۔ اس کے بعد 1990 میں عوامی نیشنل پارٹی، 1993 میں پھر پی پی پی اور 1997 میں نیشنل عوامی پارٹی کا حصہ رہی۔ آفتاب شیرپاؤ پہلے پی پی پی میں تھے پھرانہوں نے قومی وطن پارٹی کی بنیاد ڈالی۔ کلثوم سیف اللہ 1970میں نیشنل عوامی پارٹی سے صوبائی اسمبلی کی ممبر بنی، ان کے بیٹے سلیم سیف اللہ خان پاکستان مسلم لیگ کا حصہ رہے۔ ان کے دوسرے بیٹے انور سیف اللہ 1990 سے 1997 تک مسلم لیگ کے سینیٹ کے ممبر اور ہمایوں سیف اللہ خان مسلم لیگ ق کے قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔ جاوید ہاشمی پہلے جماعت اسلامی اس کے بعد مسلم لیگ ن اور پھر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ امیر مقام پہلے جماعت اسلامی بعد میں مسلم لیگ ق اور مشرف کے ساتھی رہے جبکہ اب مسلم لیگ ن کے خیبر پختونخوا کے صدر ہیں۔ بابر اعوان، نذر محمد گوندل، فردوس عاشق اعوان، امتیاز صفدر وڑائچ، رانا آفتاب احمد خان، صمصام بخاری اور غلام سرور خان، افضل چن اورکئی دوسرے ایم این اے، ایم پی اے نے پی پی پی سے علیحدگی اختیار کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت کی۔ شاہ محمود قریشی پہلے مسلم لیگ پھر پی پی پی اور اب تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔

اداریہ