Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

جب عالمگیرؒ کی تخت نشینی کاجلسہ ہوا تو کام کے لوگوں کو عطایا دئیے گئے۔ ایک بہروپیہ بھی مانگنے آیا۔ مگر عالمگیرؒ عالم دین تھے‘ اس کو کس مد سے دیتے اور ویسے صاف انکار کرنا بھی آداب شاہی کے اعتبار سے نازیبا معلوم ہوا‘ چپکے سے ٹالنا چاہا‘ اس سے کہا کہ انعام کسی کمال پرہوتا ہے‘ تمہارا کمال ہے کہ نا آشنا صورت میں آئو۔ مگر وہ بھی بھیس بدل کر آیا۔ بادشاہ نے پہچان لیا‘ کبھی دھوکہ نہیں کھایا کہ جس روز دھوکہ دے دے گا‘ انعام کا مستحق ٹھہرے گا‘ اتفاق سے عالمگیرؒ کو سفر دکن کا درپیش تھا‘ بہروپیہ داڑھی بڑھا کر‘ مقدس لوگوں کی صورت بنا کر راستہ میں کسی گائوں میں جا بیٹھا۔ کچھ روز کے بعد شہرت ہوگئی۔ عالمگیرؒ کی عادت تھی کہ جہاں جاتے تھے علماء و فقراء سے برابر ملتے تھے۔ چنانچہ جب اس مقام پر پہنچے وہاں شہرت سن کر اول وزیر کو اس کے پاس بھیجا‘ وزیر نے کچھ مسائل تصوف کے پوچھے‘ اس نے سب کے معقول جواب دئیے۔ بات یہ تھی کہ اس وقت بہروپئے ہر فن کو قصداً حاصل کرتے تھے۔ وزیر نے عالمگیرؒ سے بہت تعریف کی۔ عالمگیرؒ خود ملنے گئے۔ آپس میں خوب گفتگو رہی اور خوب سمجھا کہ شاہ صاحب کامل شخص ہیں۔ چلتے وقت ایک ہزار اشرفیاں بطور نذر پیش کیں۔ اس نے لات ماری اور کہا کہ تو اپنی طرح ہم کو بھی سگ دنیا خیال کرتا ہے۔ اس سے اور بھی اعتقاد بڑھا۔ واقعی استغنا عجیب چیز ہے۔ عالمگیر لشکر میں واپس چلے گئے‘ پیچھے پیچھے بہروپیہ صاحب پہنچے کہ لائیے انعام‘ خدا حضور کو سلامت رکھے۔ بادشاہ نے کہا ارے تو تھا‘ غرض انعام دیا‘ مگر معمولی اور کہا کہ اس وقت جو پیش کیا تھا‘ اس کو نہیں لیا تھا؟ وہ تو اس سے بہت زیادہ تھا؟ اور میں اس کو واپس تھوڑا ہی لیتا۔ اس نے کہا کہ حضور اگرمیں لیتا تو نقل صحیح نہ ہوتی کیونکہ وہ فقیری کاروپ تھا اور فقیری کی شان کے خلاف تھا۔

(تاریخی واقعات)

حضرت محمد بن سیرینؒ خوابوں کی تعبیر بتانے میں اپنے وقت کے امام تھے۔ایک عورت نے خواب دیکھا کہ وہ ایک سانپ کا دودھ دوہ رہی ہے۔ اس نے ابن سیرینؒ سے خواب کی تعبیر پوچھی۔ جواب میں فرمایا: دودھ فطرت ہے اور سانپ دشمن ہے۔ اس کا فطرت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ لہٰذا اس عورت کے پاس اہل بدعت نشست و برخاست رکھتے ہیں۔ ابن سیرینؒ نے خود خواب دیکھا کہ جوزا‘ ستارہ ثریا سے آگے بڑھ گیا ہے اور ثریا اس کے نقش قدم پر چل پڑا ہے۔ فرمایا: حضرت حسن بصریؒ وفات پائیں گے اور ان کے بعد میری موت واقع ہوگی اور وہ مجھ سے افضل ہیں‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

ایک شخص نے حضرت محمد بن سیرینؒ سے خواب کی تعبیر پوچھی۔ کہا: میں نے دیکھا گویا میں جوہر کے جام سے شہد چاٹ رہا ہوں۔ فرمایا: خدا سے ڈرو۔ قرآن مجید کو دہرانے کی عادت بنالو‘ تم نے قرآن مجید پڑھا اور پھر اسے بھلا دیا ہے۔

(حیرت انگیز واقعات)

متعلقہ خبریں