Daily Mashriq

سری لنکا میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعات

سری لنکا میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعات

سری لنکا میں ایسٹر کے موقع پر دہشت گردی کے بدترین واقعات میں دوسو افراد کا زخمی ہونا نہایت دلخراش اور افسوسناک واقعات ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ ان واقعات کی ذمہ داری کسی جانب سے قبول نہیں کی گئی ہے اور تحقیقات ابھی بہت ابتدائی مراحل میں ہیں، تاہم دھماکوں کے بعد مذہب کی بنیاد پر فسادات کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا، پولیس کے مطابق اتوار کی رات کو شمال مغربی علاقے میں ایک مسجد پر پیٹرول بم حملہ کیا گیا جبکہ مسلمان افراد کی2 دکانوں کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی۔ دوسری جانب سری لنکن وزیراعظم رنیل وکرما سنگھے نے اس بات کی تصدیق کی کہ حکومت کو پہلے ہی ایک غیر معروف مسلمان گروہ کی جانب سے مسیحی عبادت گاہوں پر متوقع حملے کی اطلاع مل گئی تھی۔ پولیس ذرائع نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کولمبو میں2 مقامات سے اب تک13 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے، تاہم انہوں نے مزید تفصیلات نہ بتاتے ہوئے صرف اتنا کہا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق ایک ہی گروہ سے ہے۔ ضروری نہیں کہ سری لنکا کی حکومت کو جو اطلاعات ملی تھیں وہ درست ہوں اور ان سنگین واقعات میں کوئی مسلم تنظیم ملوث ہو لیکن بہرحال تحقیقات کا رخ اس جانب ہونا فطری امر ہوگا۔ اس قسم کے واقعات میں مسلمانوں کے حوالے سے شہر میں اونٹ بدنام کا باعث رہے ہیں یہاں تو چونکہ مسلم تنظیم پر باقاعدہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے اس لئے الزام مسلمانوں پر آنا فطری امر ہوگا۔ علاوہ ازیں مساجد پر حملوں کی بھی کوشش کی گئی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات میں براہ راست مسلمانوں پر شک وشبے کے اظہار کا وتیرہ اختیار کیا جانا من حیث المجموع مسلمانوں کیلئے منفی ذہنیت کا اظہار اور منفی خیالات کا باعث ہے۔ سری لنکا ایک عرصے تک تامل باغیوں سے نبردآزما رہا ہے اور سری لنکا حکومت کو اس قسم کے واقعات سے نمٹنے کا بہت تجربہ ہے۔ سری لنکا کے حساس اداروں نے خدشات بھی ظاہر کئے تھے لیکن اس کے باوجود ایسٹر کے موقع پر گرجا گھروں، ہوٹلوں اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانا جس منصوبہ بندی کا حامل معاملہ ہے یقین نہیں آتا کہ سری لنکا کی کوئی چھوٹی مسلم تنظیم اس میں ملوث ہو سکتی ہے کیونکہ اس قسم کی منصوبہ بندی اور اس پر عملدرآمد کسی بڑے نیٹ ورک کا کام ہی ہو سکتا ہے۔ اس بات کا امکان موجود ہے کہ سری لنکا کا کوئی بڑا پڑوسی ملک سات پردوں کے پیچھے سے اس میں اس چھوٹی سی تنظیم کی سرپرستی کی صورت میں ملوث ہو۔ خطے کے چھوٹے ممالک کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے معاملات میں بھارت کی دلچسپی اور ملوث ہونا کوئی راز کی بات نہیں۔ بھارت ماضی میں تامل باغیوں کی بھی سرپرستی کرتا رہا ہے جن کا خاتمہ کرنے میں سری لنکا نے پاکستان کے تعاون سے کامیابی حاصل کی۔ بہرحال امکانات کچھ بھی ہو سکتے ہیں اس لئے جب تک مکمل طور پر تحقیقات نہیں ہوتیں کسی تنظیم کے ملوث ہونے کا تاثر خود سری لنکا میں داخلی طور پر تصادم اور کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ جہاں تک دہشت گردی اور اس قسم کے واقعات کا تعلق ہے اس کی کسی دین دھرم میں گنجائش نہیں کجا کہ اسلام جس کی معنی سلامتی ہے۔ مسلمان کی تعریف ہی یہ ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اسلام میں کسی کو زبانی ایذا دینے کی گنجائش نہیں اس لئے اس قسم کے واقعات کو ایک سازش کے تحت ہی مسلمانوں سے جوڑا جاتا رہا ہے حالانکہ دہشتگردوں کا کوئی دین ومذہب نہیں ہوتا، ان کا مقصد غارت گری اور خوف پھیلانا ہوتا ہے اور اس کے پس پردہ بعض قوتوں کے مفادات ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قسم کے واقعات کا موثر مقابلہ کرنے کی راہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم اور وہاں کی عوام نے دکھائی ہے۔ انہوں نے دہشتگرد کے نہ تو رنگ ونسل اور نہ ہی مذہب کا نام لیا بلکہ انہوں نے دہشتگرد کا نام بھی زبان تک نہ لایا اور اس کیلئے صرف دہشتگرد کا لفظ استعمال کیا۔ وہاں مساجد پر حملوں کے واقعات کے بعد مسلمانوں سے جس قسم کی یکجہتی کا مظاہرہ کیا گیا اسی کردار وعمل کے مظاہرے کی آج سری لنکا کی قوم کو مسیحی برادری کیساتھ کرنے کی ضرورت ہے۔ مسلم رہنماؤں کو بالخصوص اور مسلم برادری خواہ وہ سری لنکا میں ہو بھارت، یورپ یا پاکستان میں ہو دنیا بھر کے مسلمانوں کو مسیحی برادری سے پوری طرح کی ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ دہشت گردی کی عملی مذمت اور ان دہشت گردوں کو تنہا ظاہر کیا جا سکے۔ اس قسم کے یکجہتی کے اظہار ہی سے مسلمانوں کے حوالے سے منفی نظریات کو غلط ثابت کیا جا سکتا ہے۔ دنیا کے جس خطے میں بھی دہشتگردی اور بدامنی پھیلانے کے واقعات ہوں اُن کی یکساں مذمت کرنا ہر فرد کی ذمہ داری بنتی ہے۔ معاشرے میں تخریب اور دہشت گردی خواہ جس ملک اور جس علاقے میں ہو پوری دنیا میں بسنے والے لوگ کسی نہ کسی طرح اس سے متاثر ضرور ہوتے ہیں۔ یوں یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے جس سے بین الاقوامی طور پر کوششیں کرکے نمٹنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں