Daily Mashriq

عام آدمی کو چھت دینے کی اچھی کوشش

عام آدمی کو چھت دینے کی اچھی کوشش

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ایک آدمی کی سب سے بڑی ضرورت چھت ہوتی ہے جبکہ پاکستان میں صرف پیسے والے لوگ گھر بنانے کا سوچ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم بینکوں سے قرضے کیلئے قانون میں تبدیلی لارہے ہیں۔ ہاؤسنگ اسکیم سے40 سے زیادہ صنعتیں چلنا شروع ہوجائیں گی۔ اس کے علاوہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نوجوان اپنا کاروبار شروع کریں، یہ سنہری موقع ہے۔ وزیراعظم نے اپنی چھت کے خواہش مندوں کی خواہشات اور مجبوری کا جو احاطہ کیا ہے اس کا اندازہ اس سے وابستہ لوگوں ہی کو ہوسکتا ہے۔ مہنگائی کے اس دور میں جہاں جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کیلئے لاکھوں جتن کرنے پڑتے ہیں کوئی دیوانہ ہی اپنی چھت بنانے کا خواب دیکھ سکتا ہے اگرچہ حکومت نے عام آدمی کو گھر دینے کیلئے قابل تعریف سیکم شروع کی ہے لیکن اس کے باوجود اس محروم طبقے کی دسترس سے باہر ہے جس کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے بینکوں سے قرضے لینے کے قوانین میں تبدیلی لانے اور آسانی پیدا کرنے کا عندیہ تو دیا ہے لیکن بینکوں اور ایچ بی ایف سی کے قوانین میں خواہ جتنی بھی تبدیلی لائی جائے قرض دینے اور محفوظ وصولی کیلئے جو کم سے کم شرائط وضوابط ہوں گی وہ بھی کم پیچیدہ اور مشکل نہ ہوں گی لہٰذا جتنی بھی غیرضروری شرائط ہوں ان کا خاتمہ کر کے حصول قرض کے مراحل کو سہل اور کم سے کم مدت میں اجراء یقینی بنایا جائے۔ ہاؤسنگ سکیمز سے چالیس صنعتوں کے چلنے اور نوجوانوں کو کاروبار کے بہتر مواقع اپنی جگہ اصل مقصد عام آدمی کو چھت کی فراہمی ہی ہونا چاہئے اس ضمن میں حکومت وسائل کی فراہمی سے لیکر منصوبہ بندی کیساتھ کام کی مقررہ مدت کے اندر تکمیل پر پوری طرح توجہ دے تاکہ یہ منصوبہ کامیاب ثابت ہو۔

پی ٹی آئی کو شیخ رشید کا صائب مشورہ

گورنر پنجاب چوہدری سرور نے کہا ہے کہ اگر سب کچھ کسی اور نے کرنا ہے تو کیا ہم آلو چنے بیچنے آئے ہیں؟ ٹیم میں اختلافات ہیں لیکن پارٹی قیادت پر سب متفق اور متحد ہیں۔ دریں اثناء وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے پی ٹی آئی والوں کو مفت اور مفید مشورے دیئے ہیں۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اگر تحریک انصاف اپنے گندے کپڑے گھر کے اندر دھوئے تو آدھے مسائل ختم ہو جائیں گے۔ شیخ رشید نے کہا کہ وزیراعظم کے اردگرد کچھ لوگ میچور نہیں ہیں۔ تحریک انصاف کی صفوں میں اختلافات اور گروپ بندی کوئی غیرمعمولی بات نہیں، ہر سیاسی جماعت کی صفوں میں اس طرح کے رہنما ہوتے ہیں، پارٹی اجلاس میں گرما گرمی بھی ہوتی ہے لیکن میڈیا پر اس کا تذکرہ اس طرح سے نہیں ہوتا جس طرح وزیرخارجہ اور گورنر پنجاب نے کچھ عرصہ قبل پریس کانفرنس کر کے کیا۔ اس طرح کے اختلافات کو درون خانہ حل کرنا ہی حکمران جماعت اور اس کے عہدیداروں کے مفاد میں ہے۔ تحریک انصاف ضرورت سے زیادہ اظہار خیال کرنے والے عناصر کو آٹھ ماہ قبل ہی سوچ سمجھ کر بولنے کا پابند بنا دیتی تو آج ہنڈیا بیچ چوراہے پھوٹنے کی نوبت نہ آتی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شیخ رشید کے مشورے کو پارٹی عہدیداران پلے باندھ لیں یا پھر پارٹی سربراہ ایسے عناصر کیخلاف سخت نوٹس لیں۔ تحریک انصاف کی صفوں میں ہم آہنگی ہی ان کو مشکل حالات سے نکال سکتی ہے۔

ریاست مدینہ کا قیام ماحول بنائے بغیر ممکن نہ ہوگا

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر قبلہ ایاز نے حکومت کو تجویز دی ہے کہ ریاست مدینہ کیلئے ٹاسک فورس قائم کی جائے، کم عمری میں شادیوں کی حوصلہ شکنی کی ضرورت ہے، علما، منبر ومحراب اور دینی طبقات معاشرتی مسائل کو اپنے ایجنڈا کا حصہ بنا لیں تو صورتحال میں بہتری لائی جا سکتی ہے، ہماری سوسائٹی میں انسانی زندگی کا احترام نہیں رہا اس پر تمام طبقات کو محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کی جانب سے ریاست مدینہ کیلئے ٹاسک فورس کے قیام کی تجویز کیساتھ ساتھ مناسب امر یہ بھی ہے کہ اسلامی تعلیمات اور تہذیب وتمدن بارے شعور وآگہی پیدا کی جائے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اسلام میں قوانین سے زیادہ افراد کو اطاعت احکام قرآن وسنت پر زور دیا گیا ہے، اس کی زیادہ ذمہ داری علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے۔ حکومتی مساعی کے طور پر سکولوں، کالجوں اور جامعات کی سطح پر اسلامی تعلیمات پر توجہ اور ذہن سازی کی ضرورت ہے۔ حکمرانوں کا صرف ریاست مدینہ کی مثالیں دینے سے ریاست مدینہ قائم نہیں ہوگی اس کیلئے سخت جدوجہد کی ضرورت ہے جو نظر نہیں آتی۔ اب تو حکمرانوں کے لبوں سے ریاست مدینہ کے الفاظ بھی کم ہی سننے کو ملنے لگے ہیں۔ اسلامی تعلیمات سے آگہی جتنی زیادہ ہوگی رشوت وبدعنوانی، کسی کا حق غصب کرنا، چوری چکاری اور دیگر معاشرتی برائیوں میں خودبخود کمی آتی جائے گی۔ سوسائٹی میں انسانی زندگی کا احترام اور ایثار واخوت لانے کا بہترین طریقہ بھی اسلامی تعلیمات کی پیروی ہی سے ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں