Daily Mashriq


کس کی جیت کس کی ہار (پہلا حصہ)

کس کی جیت کس کی ہار (پہلا حصہ)

کابینہ کی تشکیل یا نوتشکیل بلاشبہ وزیراعظم کا ہی صوابدیدی اختیار ہے، اس میں نکتہ یا نقطہ آرائیاں کرنا ایک بے کار سا عمل یا ردعمل ہے تاہم کابینہ میں رد وبدل یونہی نہیں ہوا کرتا اس کے کچھ نہ کچھ عوامل لازمی طور پر ہوتے ہیں۔ کابینہ کی تشکیل نو کے بعد وزیراعظم عمران خان نے جو اہم بات کی وہ صرف دو ہی تھیں کہ یہ رد وبدل وزیراعظم کا اختیار ہے اور جو کارکردگی نہیں دکھائے گا وہ گھر جائے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک بات یہ بھی کی ہے کہ صوبائی حکومتوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، یہ مناسب نہیںکیونکہ صوبے کے معاملات صوبائی چیف ایگزیکٹو کے ہا تھ میں ہے یہ صوبائی مداخلت کے زمرے میںآتا ہے۔

وزیراعظم کے محولہ بالا بیانات سے یہ تاثر لیا گیا ہے کہ کابینہ کی تشکیل نو کارکردگی کی پرکھ کے نتیجے میں رونما ہوئی ہے، تاہم صرف ایک وزیر کابینہ سے خارج کیا گیا ہے لیکن عملاً صورتحال برعکس ہے، وہ سابق وزیرصحت محمود کیانی کے علاوہ اپنے سب سے زیادہ چہیتے وزیرخزانہ اسد عمر سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور وزیر اطلاعات فواد چودھری وہ بھی کچھ اکھڑے اکھڑے لگ رہے ہیں، علاوہ ازیں اس رد وبدل کو ناقص کارکردگی کے زمرے میں بھی لیا جا رہا ہے، جس کی ذمہ داری وزراء پر نہیں بلکہ وزراء کے کپتان پر ہی آتی ہے کیونکہ کابینہ کی تشکیل انہی کی مرہون منت ہے۔ جہاں تک سابق وزیر خزانہ کا تعلق ہے تو وہ غورطلب معاملہ ہے، کیونکہ ان کو جس طرح موسم خزاں زدہ کیا گیا ہے وہ کئی اشارے دے رہا ہے کیونکہ جب وہ کہہ رہے تھے کہ آئی ایم ایف سے معاملہ طے پاگیا ہے اور ادھر وفاقی بجٹ پیش کرنے میں صرف ایک دوماہ کا وقفہ تھا، ایسے ماحول میں ان سے قلمدان بغیر اعتماد میں لئے لے لینا ایک انوکھا فیصلہ ہی کہلا سکتا ہے، چنانچہ اسد عمر کا اس فیصلے پر جو ردعمل آیا ہے، جو انہوں نے اپنے قریبی احباب کو بیان کیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسد عمر کسی طور ناکام نہیں تھے بلکہ وہ جو کر رہے تھے اس میں ان کو کپتان کی آشیرباد حاصل تھی، اسد عمر کا کہنا ہے کہ انہیں امریکا سے واپسی پر کپتان نے بتایا کہ وہ انہیں وزارت خزانہ کی ذمہ داری سے سکبدوش کر کے دوسری وزارت کی ذمہ داری دے رہے ہیں کہ ان پر بہت دباؤ ہے جو اب برداشت میں نہیں رہا ہے، جب عمران خان کا دعویٰ ہے کہ وہ خودمختار وزیراعظم ہیں اور کسی کے دباؤ میں آنے والے نہیں ہیں تو پھر وہ کس کے دباؤ کا ذکر کر رہے ہیں۔ وہ کون سی قوت ہے جو اسد عمر کا وزارت خزانہ میں مزید ٹھہرنا گوارہ نہیں کر رہا ہے، یہ وضاحت یا اسد عمر یا پھر خود عمران خان ہی کر سکتے ہیں، اسد عمر کو پی ٹی آئی کا دماغ کہا جاتا تھا اسد عمر کے جانے سے گویا پی ٹی آئی دماغ سے خالی ہو گئی۔

اسد عمر نے کراچی رخصت ہوتے وقت میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ وہ اب ضرورت کے تحت اسلام آباد آیا کریں گے، اس کے علاوہ کابینہ کی تشکیل کے بعد عمران خان نے اپنے حکومتی لائحہ عمل کیلئے ایک اہم اجلاس منعقد کیا جس میں اسد عمر، فواد چودھری، اور محمود کیانی نظر نہیں آئے گویا! یا تو ان کو اس اجلاس کیلئے مدعو نہیں کیا گیا تھا یا پھر انہوں نے اپنی ناراضی کے اندراج کی غرض سے شرکت نہیں کی۔ یہ پہلا کابینہ کی تشکیل نو کا ردعمل ہے جو پارٹی کے مستقبل کی نشاندہی کر رہا ہے۔ عمران خان نے کابینہ کی جو تشکیل نو کی ہے وہ بھی بڑی دلچسپ رعنائیوں سے مزین ہے اور اس پر تبصرے بھی ہو رہے ہیں۔ کابینہ پر ایک نظر ڈالی جائے تو کابینہ میں تقریباً نصف کے برابر وہ وزیر ہیں جو سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی کابینہ میں رہے ہیں، علاوہ ازیں آٹھ کے لگ بھگ وہ افراد ہیں جو قبل ازیں پی پی کے دور میں وزیر تھے، جن میں شاہ محمود قریشی، ندیم افضل چن، فردوس عاشق اعوان، اعظم سواتی، حفیظ شیخ، فواد چودھری، فہمیدہ مرزا اور نورالحق قادری نمایاں ہیں ۔

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت اور کابینہ میں عبدالحفیظ شیخ کی شمولیت عمران خان کے اس بیانئے کی نفی ہے جو انہوں نے سابقہ حکمرانوں کیلئے اپنایا تھا کیونکہ عمران خان کا مؤقف شروع سے ہی یہ رہا ہے کہ گزشتہ 10سالوں میں پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے قومی خزانے اور عوام کو لوٹا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی کے دور میں زرداری صاحب بغیر وزیر خزانہ کو ملائے لوٹ مار کرسکتے تھے؟ اس سے بڑی خبر یہ ہے کہ اسد عمر کی جگہ کو ’پُر‘ کرنے کیلئے وزیراعظم عمران خان کو اپنی پارٹی میں کوئی بھی قابل فرد نظر نہیں آیا اور انہیں مجبوراً پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کی کابینہ کا حصہ رہنے والے ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو نئے پاکستان میں وزارت خزانہ کا چارج دینا پڑگیا چنانچہ سوشل میڈیا پر ازراہ تفنن یہ جملے گردش کر رہے ہیں کہ آصف زرداری نے عمران خان کو فون کر کے پیشکش کی ہے کہ اس طرح پی پی کے سابق وزراء کو بھرتی کرنے کی بجائے پی پی کو حکومت ٹھیکے پر دیدی جائے وہ چلا لے گی۔ خیر محولہ بالا بات لطیفے کے زمرے میں ہے تاہم پاکستان جیسے ممالک جہاں معاشی مسائل سے بڑھ کر کوئی اور مسئلہ نہیں ہوتا، وہاں معاشی ٹیم ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ تحریک انصاف کی بات کی جائے تو یہ وہ شاید واحد جماعت تھی جس نے حکومت بننے سے پہلے ہی اپنے وزیرِ خزانہ کا اعلان کر دیا تھا، اس کی وجہ شاید یہی تھی کہ ان کے نزدیک ان سے زیادہ قابل فرد کوئی اور تھا ہی نہیں۔ معیشت کے حوالے سے اسد عمر پارٹی اور عمران خان کے ناک، کان اور زبان بن گئے۔ ڈالر، بیرون ملک اثاثوں، آف شور کمپنیوں، مہنگائی، پیٹرول کی قیمت، ٹیکس کی وصولی سمیت تمام تر معاملات پر اسد عمر کا کہا پارٹی میں پتھر پر لکیر ہو جایا کرتا تھا۔ یہی وجہ تھی عمران خان نے متعدد مرتبہ اس بات کا اعلان کیا تھا کہ پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہوئی تو اسد عمر ہی وزیر خزانہ ہوں گے۔

متعلقہ خبریں