Daily Mashriq


چھترول

چھترول

بعض اوقات کسی واقعے کی وجہ سے بھی کوئی لفظ بہت زیادہ مشہور ہو جاتا ہے۔ پچھلے چند دنوں سے ہمارے نئے نویلے وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ کے حوالے سے ایک خبر بڑی تیزی سے گردش میں ہے، میڈیا اسے خوب اچھال رہا ہے۔ انہوں نے پریس کانفرنس میں حکومت مخالف مظاہرین کی چھترول کرنے کا کہا تھا ان کا پس منظر چونکہ پاک فوج کا ہے تو ان کی اس بات کو کچھ زیادہ ہی محسوس کیا گیا ہے۔ ان کا اس حوالے سے یہ کہنا ہے کہ میں نے تو رسماً ایک بات کی تھی اور اس وقت میں وزیر داخلہ بھی نہیں تھا! ہمارے خیال میں اس کا فائدہ نئے وزیرداخلہ کو یہ ہوا ہے کہ اب وہ میڈیا کے سامنے گفتگو کرتے ہوئے احتیاط برتیں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ بہت سے لوگ چھترول کے معنی ہی نہیں جانتے! خیر یہ تو ایک اچھی بات ہے اس منحوس لفظ کے معنی کا نہ جاننا ہی عوام کیلئے بہتر ہے (ہم نے چھترول کیلئے منحوس کا لفظ بڑے دکھی دل کیساتھ استعمال کیا ہے) شاید معنی نہ جاننے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہ لفظ فرہنگ آصفیہ اور فیروزاللغات دونوں میں نہیں ہے، تو پھر یہ لفظ آیا کہاں سے؟ اس کا جواب توکوئی ماہرلسانیات ہی دے سکتے ہیں اور ان کا فرمایا ہوا مستند بھی ہوگا، فی الحال ہمارے موٹے دماغ میں جو بات آرہی ہے وہ یہی ہے کہ چھترول ایک کثیرالمعنی لفظ ہے اس کو کسی ایک معنی تک محدود نہیں کیا جاسکتا۔ ویسے اپنی سہولت کیلئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ چھترول اور تھانے کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور پولیس اپنے روایتی طریقۂ کار کے مطابق اب تک چھترول کی مدد سے کتنے ہی بے گناہوں سے ان گناہوں کا اقرار کروا چکی ہے جو کبھی ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں آئے تھے۔ 90کی دہائی کے ایک مقبول ڈرامے اندھیرا اُجالا میں عرفان کھوسٹ اور جمیل فخری ڈائریکٹ حوالدار اور تھانیدار کا کردار ادا کرتے ہوئے چھترول کا لفظ بہت زیادہ استعمال کرتے تھے ’’اندر لے جاکر اس کی ٹھیک ٹھاک چھترول کرو یہ کیسے نہیں بولے گا‘‘ چھترول کے بہت سے طریقے ہوتے ہیں، ملزم کے ہاتھ پاؤں چارپائی کے چارپایوں سے کس کر باندھ دئیے جاتے ہیں اور تھانے کا ایک صحت مند سپاہی کسی چھڑی یا چمڑے کے کوڑے سے اس کی پشت پر اس شدت سے چھترول کرتا ہے کہ ملزم کو نہ صرف چھٹی کا دودھ یاد آجاتا ہے بلکہ اپنے اوپر لگائے گئے ان تمام الزامات کو بسر وچشم قبول بھی کر لیتا ہے! لفظ چھترول میں عوام کیلئے حقارت کا پہلو پایا جاتا ہے اسی لئے وزیر داخلہ کے لفظ چھترول استعمال کرنے پر میڈیا میں اتنا ہنگامہ کھڑا کیا گیا ہے؟ ویسے ایک بات ذہن میں ضرور رکھنی چاہئے کہ چھترول کو صرف تھانے تک محدود نہیں کیا جاسکتا چھترول کا لفظ ہر زیادتی، ظلم وستم، استحصال، جبر، ڈرانا دھمکانا اور کسی بھی چیز کو خلاف قانون طریقے سے حاصل کرنے کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لغت میں اس لفظ کی عدم موجودگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس کی معنویت کو عوام سے جان بوجھ کر چھپانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ایک بات تو بالکل واضح ہے کہ وطن عزیز کو کسی بھی مشکل کا سامنا کرنا پڑے اس کی وجہ کچھ بھی ہو قربانی کا بکرا عوام کو بنایا جاتا ہے، یوں کہئے بائیس کروڑ عوام کا چھترول بڑی دیدہ دلیری کیساتھ کیا جاتا ہے۔ پچھلے دوچار مہینوں میںگیس کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کیا گیا ہے اور عوام ہزاروں روپے کے بل جمع کروا رہے ہیں اسی کو چھترول کہتے ہیں، یہ چھترول کچھ اس قسم کی ہے کہ زخم نظر نہیں آتا اور آدمی ہیوی ویٹ قسم کے بل جمع کرتے کرتے زندہ درگور ہو جاتا ہے۔ اسی طرح مہنگائی بھی ایک قسم کی عوامی چھترول ہے۔حکومت کیساتھ ساتھ لوگ بھی اپنی اپنی حیثیت کے مطابق ایک دوسرے کا چھترول کرتے رہتے ہیں! لوگوں کو کتوں اور گدھوں کا گوشت کھلایا جا رہا ہے، دودھ میں پانی کی ملاوٹ تو اب پرانی بات ہوگئی ہے آج کل کیمیکل ملا دودھ سرعام بک رہا ہے، گیس اور بجلی کی چوری، ٹیکس چوری اور اسی طرح کے دوسرے بیسیوں چھترول ہیں، بندہ کس کس کا ذکر کرے؟ یہ سارے چھترول تو اپنی جگہ مگر اب چھترول کی ایک نئی شکل سامنے آئی ہے جو یقینا بڑی معنی خیز ہے اور سوچ کے بہت سے در وا کر دیتی ہے! یہ وزیراعظم کی طرف سے وزرائے کرام کی چھترول ہے! بقول کپتان جو کھلاڑی اچھی بیٹنگ نہیں کر رہا ہے اس کا تبدیل کیا جانا ضروری ہے۔ پرانی ٹیم تبدیل کرکے نئی ٹیم لانا یقینا ایک مثبت قدم ہے اور اس حوالے سے میڈیا پر اچھے برے تبصرے بھی دیکھنے میں آرہے ہیں لیکن ایک بات بالکل واضح اور خوش آئند ہے کہ کپتان میں مشکل فیصلے کرنے کی قوت بدرجہ اتم موجود ہے۔ وہ اب تک ایسے بہت سے فیصلے کرچکے ہیں جنہیں سیاست میں عام طور پر بہت مشکل سمجھا جاتا ہے، اگرچہ کرکٹ کے مقابلے میں سیاست ایک مختلف کھیل ہے اسکی پیچیدگیاں، نزاکتیں اور نشیب وفراز سمجھنے کیلئے ایک عمر درکار ہوتی ہے دلوں کا حال تو رب کریم ہی بہتر جانتا ہے لیکن اگر نیت صاف ہو تو منزل آسان ہو جاتی ہے! وزیراعظم کی مہنگائی روکنے والی ہدایت بھی ایک اچھی خبر ہے، رمضان المبارک کی آمد آمد ہے یہ برکتوں والا مہینہ اپنے جلو میں جہاں بہت سی خیر اور برکات لیکر آتا ہے وہاں مہنگائی کا ایک طوفان بھی ساتھ اُمڈ آتا ہے جو یقینا ہماری بے حسی کا ایک واضح ثبوت ہے، کہتے ہیں رمضان المبارک لوٹ مار کا مہینہ ہے ہر عمل کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے لیکن ہمارے مہربان اس بابرکت مہینے میں اپنے بھائیوں کو لوٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ کم ازکم اس مقدس مہینے میں تو انہیں اپنے غریب بھائیوں کی چھترول نہیں کرنی چاہئے۔