Daily Mashriq

امریکی صدر کا بلا جواز دھمکی آمیز خطاب

امریکی صدر کا بلا جواز دھمکی آمیز خطاب

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں روایتی دھمکی آمیز لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اب دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔فورٹ میئر آرلنگٹن میں تقریبا آدھے گھنٹے تک کی گئی تقریر میں صدر ٹرمپ نے پاکستان، افغانستان اور انڈیا کے بارے میں اپنی انتظامیہ کی پالیسی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔صدر ٹرمپ نے جہاں دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کیا ہے وہاں ان کو اس امر کا بھی اعتراف ہے کہ ماضی میں پاکستان ہمارا بہت اہم اتحادی رہا ہے اور ہماری فوجوں نے مل کر ہمارے مشترکہ دشمن کے خلاف لڑائی کی ہے۔ پاکستان کے عوام نے دہشت گردی کی اس جنگ میں بہت نقصان اٹھایا ہے اور ہم ان کی قربانیوں اور خدمات کو فراموش نہیں کر سکتے۔صدر ٹرمپ نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنے ملک سے ان تمام شر انگیزوں کا خاتمہ کرے جو وہاں پناہ لیتے ہیں اور امریکیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ہم پاکستان کو اربوں ڈالر دیتے ہیں لیکن وہ دوسری جانب انہی دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں جو ہمارے دشمن ہیں۔افغانستان کے بارے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جلد بازی میں امریکی فوجیوں کے انخلا کے باعث افغانستان میں دہشت گردوں کو دوبارہ جگہ مل جائے گی اور اس بارے میں وہ زمینی حقائق پر مبنی فیصلے کریں گے جس میں ڈیڈ لائن نہیں ہو گی۔ یاد رہے کہ امریکی فوج نے افغانستان میں براہ راست فوجی کاروائی 2014سے ختم کر دی ہے اور اس وقت افغانستان میں8400 امریکی فوجی موجود ہیں جو کہ افغان فوج کی مدد کر رہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اس تقریر کاایک مقصد یہ نظر آتاہے کہ اس کے ذریعے امریکی صدر نے افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی راہ ہموار کرتے ہوئے امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے وعدے سے پھِر گئے ہیں۔عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ امریکی صدر نے طالبان سے سیاسی ڈیل کا اشارہ بھی دیاہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ موثر فوجی کوششوں کے بعد ممکن ہے کہ ایسا سیاسی تصفیہ ہوجائے جس میں افغانستان میں موجود طالبان عناصر بھی شریک ہوں۔ان کا مزید کہنا تھا، تاہم کوئی نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا لیکن امریکا طالبان کا سامنا کرنے کے لیے افغان حکومت اور فوج کی حمایت جاری رکھے گا۔پاکستان کو امریکی صدر کی طرف سے براہ راست دھمکی یقینا ایک سنجیدہ معاملہ ضرور ہے جس پر وزارت خارجہ اور عالمی فورمز پر سنجیدگی سے بات ہونی چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی صدر کا پاکستان کے حوالے سے اس قسم کے خیالات کے اظہار سے اب جا کر امریکی پالیسی مکمل طور پر واضح ہوئی ہے جس کے بعد پاکستان کو دنیا میں اپنے اتحادی ممالک اور دوستوں سے کھل کر بات کرنے کا موقع ملے گا اور اس پر لائحہ عمل طے کرنے میں آسانی ہوگی۔ امریکی عہدیداروں کا مختلف اوقات میں مختلف قسم کی دھمکیوںکا سلسلہ کوئی نئی بات نہیں۔ امریکی صدر کا براہ راست اپنے خطاب میں کھلی دھمکی اور الزام تراشی کا اعادہ غیرمتوقع نہ تھا۔ اگردیکھا جائے تو عملی طور پر امریکہ دھمکی دئیے بغیر پاکستان کے ساتھ منہ میں رام رام بغل میں چھری کی پالیسی روز اول سے اختیار کئے ہوئے آیا ہے۔ امریکہ کی بغیر ثبوتوں کی دھمکیوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے دیکھا جائے تو پاکستان کے اندر دہشت گردی اور حالات کی خرابی میں ملوث قوتوں میں صرف راء اور پڑوسی ملک کی انٹیلی جنس ایجنسی ہی ملوث نہیں رہی ہے بلکہ اس میں بلیک واٹر سمیت دیگر تنظیموں کا بھی ہاتھ رہاہے۔ امریکیوں کا تھوک کے حساب سے ویزے لے کر پاکستان آنا اور مختلف جاموں میں کام کرنا بھی کوئی راز کی بات نہیں۔ بہر حال ممالک اور حساس اداروں کی سطح پر دونوں کو حقیقت حال کا بخوبی علم بھی ہے اور باہم کشمکش اور اس کے اثرات سے بھی واقف ہیں۔ امریکی صدر کے لب و لہجے میں جہاں پاکستان کے حوالے سے عدم اعتماد عیاں تھا وہاں ان کا ماضی میں پاکستان اورامریکہ کے درمیان اشتراک عمل اور طالبان سے مذاکرات کا عندیہ دینے سے یہ امر بھی بخوبی واضح ہے کہ امریکہ پاکستان کی اعانت سے طالبان سے مذاکرات کا خواہاں ہے لیکن امریکہ کو شاید اس امر کا اندازہ نہیں کہ افغان طالبان پر پاکستان دبائو ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں البتہ ایک موثر رابطہ کار اور مذاکرات میں اعانت کا کردار بخوشی اور بحسن و خوبی ادا کرسکتا ہے اور اس کا اظہار اور پیشکش قبل ازیں بھی ہوچکی ہے۔ جہاں تک امریکہ کے پاکستان پر دہشت گردوں کے خلاف موثر کارروائی نہ کرنے کا الزام ہے اگر امریکہ ہی سے اس تناظر میں سوال کیا جائے کہ انہوں نے عالمی فوج کی بھرپور امداد کے باوجود افغانستان میں کیا ایسی موثر کارروائیاں کرکے کامیابی سمیٹی جس کی مثال دی جاسکے۔ امریکہ کو اگر عالمی لائو لشکر سمیت طاقت کے بل بوتے پر کامیابی حاصل ہوتی تو اس کے اثرات کے باعث پاکستان میں بھی قیام امن میں مدد ملتی مگر مشکل یہ ہے کہ اب بھی پاکستان کو سرحد پار سے دہشت گردوں سے مشکلات درپیش ہیں۔ افغانستان کے مسئلے کا حل مذاکرات اور مفاہمت کا متقاضی ہے۔ اگر امریکہ کا افغانستان سے انخلاء مقصود ہے تو ان کو دھمکی آمیز لب و لہجہ اختیار کرنے کی بجائے مناسب انداز میں پاکستان کی اعانت کے حصول کی سعی کرنی چاہئے۔ امریکہ اگر افغانستان میں طویل المدت قیام کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تو اس کے لئے پاکستان پر الزام تراشی کی ضرورت نہیں۔ امریکہ پہلے ہی سے افغانستان کے قدرتی وسائل سے بھرپور استفادے کی منصوبہ بندی کرچکا ہے اور اسی مقصد کے لئے افغانستان میں مزید فوج لانا مقصود ہے ۔ امریکہ کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا مقابلہ ایسے سخت جاں جنگجو گروہ سے ہے جو سخت سے سخت حالات میں بھی خود کو منواچکے ہیں۔ بہتر یہی ہوگا کہ امریکہ افغانستان سے جلد سے جلد نکلنے کی راہ ہموار کرے۔ عراق جیسی غلطی نہ دہرانے کا واحد راستہ مذاکرات کے ذریعے افغانستان میں ایک ایسے مستحکم اور نمائندہ حکومت کا قیام ہے جس کے پڑوسیوں اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں اس کے علاوہ جو بھی راستہ چنا جائے اس کے محفوظ و مامون ہونے کا یقین نہیں ہو سکتا۔

اداریہ