پانی کے بلوں میں اضافہ' احتجاج کی نوبت نہ آنے دی جائے

پانی کے بلوں میں اضافہ' احتجاج کی نوبت نہ آنے دی جائے

حکومتی ادارے اپنی ذمہ داریاں اور عوام کو سہولتوں کی فراہمی کا فریضہ انجام دینے میں کتنے مستعد اور فعال ہیں ان کا حال شہریوں کو بخوبی معلوم ہے۔ شہری اداروں کی کارکردگی کا تذکرہ قابل اعادہ نہیں لیکن جہاں موقع ملتاہے سرکاری اداروں کی جانب سے عوام کو لوٹنے کا پورا پورا اہتمام کیا جاتاہے جس طرح حکمران فرائض سے غفلت پر سرکاری اداروں کی کارکردگی کا نوٹس نہیں لیتے اسی طرح شہریوں پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے پر بھی حکمرانوں کو کسی تکلیف کااحساس نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کو عوام کی تکلیف اور مشکلات کااحساس ہوتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کا حکمرانوں اور حکومتی اداروں پر اعتماد اٹھتا جا رہا ہے اور ہر شخص اپنی جگہ عمال حکومت اور حکومتی اداروں کی کارکردگی اور سہولیات سے نالاں ہے۔ اس قسم کے حالات میں جہاں سرکاری اداروں کی ناکامی کوئی راز کی بات نہیں' ہونا تو یہ چاہئے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے یا کم از کم ان پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ شہر میں پانی کے بلوں میں ایک سال کے اندر دو مرتبہ اضافہ کیا گیا۔ حیات آباد میں دو صدر دروازوں کا بتا کر ہر دو دروازے والے گھر کے پانی کے بل پر اضافہ در اضافہ کیا جا چکا ہے جبکہ پی ڈی اے کی جانب سے شہر کی طرح وہاں پر بھی پانی کے بل دو گنے کردئیے گئے ہیں۔ شہر کے نسبتاً پانی کے بوسیدہ اور زنگ آلود پائپوں سے فراہمی' رستے پائپوں کی مرمت اور پانی کی فراہمی کی ذمہ داری نبھانے کی طرف تو کوئی توجہ در کنار ایسا لگتا ہے کہ متعلقہ عمال حکومت اس کو اپنے فرائض منصبی کا حصہ ہی نہیں سمجھتے۔ ستم بالائے ستم یہ کہ اس کا نوٹس لینے والا بھی کوئی نہیں مگر پانی کے بلوں میں ظالمانہ اضافہ اور بلوں کی وصولی میں تعجیل در تعجیل حیران کن ہے۔ عوام کو قہر درویش برجان درویش کے مصداق اس تعدی پر مشترکہ اور منظم احتجاج کی بجائے اسے سہہ لینے کا رویہ تبدیل کرلینا چاہئے۔ شہریوں کے نمائندہ افراد کو اس ضمن میں عوام کی مدد سے سنجیدہ رویہ اختیار کرکے حکام کو پانی بلوں میں اضافہ واپس لینے پر مجبور کرنے کی سعی کرنی چاہئے۔
پشاور کی ثقافت بارے منفی فلم
ٹور ازم کارپوریشن خیبر پختونخوا کی جانب سے تیار کردہ ٹیلی فلم ''پراجیکٹ پشاور'' کی کہانی کا جو خلاصہ اخبارات میں شائع ہوا ہے۔ اس سے لگتا ہے کہ گویا فلم کی کہانی پڑوسی ملک بھارت میں لکھی گئی ہو جس میں پشاور اور خیبر پختونخوا کے چہرے کو داغدار کرنے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔ کسی سرکاری ادارے کی طرف سے اس قسم کے فلم کی تیاری تو سمجھ سے بالا تر ہے کوئی فلم ساز اس طرح کی کہانی پر فلم بنانے پر پیسہ ضائع نہیں کرسکتا۔ فلمی کہانی صرف کہانی نہیں ہوتی بلکہ حقیقت حال کی عکاس ہوتی ہے۔ اگر اس تناظر میں بھی دیکھا جائے تو اس وقت صوبائی دارالحکومت میں اس قسم کے حالات بالکل نہیں کہ کسی غیر ملکی کو پھانس کر پشاور لا کر اغواء کرلیا جائے اور بھتہ وصول کیا جائے۔ خیبر پختونخوا میں پاک فوج اور پولیس کی مشترکہ کوششوں سے بھتہ خوروں کی بیخ کنی کے لئے جو موثر اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں اس فلم سے ان مثبت تاثرات اور شہریوں کے اطمینان کا خون ہوا ہے جس پر اضطراب کااظہار فطری امر ہے۔ٹور ازم کارپوریشن اگر صوبے کی ثقافت کا اصل چہرہ دکھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور ان کو ٹیلی فلم کے موضوع کی اہمیت کاعلم تک نہ تھا تو فلم سازی کی کیا ضرورت تھی۔ اس امر کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ اس طرح کی فلم چلا کر صوبے کے ماتھے پر کلنک کا داغ لگانے کی سعی کیوں کی گئی اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟

اداریہ