Daily Mashriq

ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی

ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلانے کی غلطی نہیں کریںگے۔ اس سے افغانستان میں دوبارہ دہشت گردوں کو جگہ مل جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ افغان حکومت کے ساتھ مل کر اس وقت تک کام کرے گا جب تک افغانستان ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہو جاتا۔انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ وہ کتنے مزید فوجی افغانستان میں بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں بیس دہشت گرد تنظیمیں کام کررہی ہیں۔انہوں نے پاکستان کے بارے میں کہا کہ اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کاساتھ دیتا رہے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وہ چاہتے ہیں کہ خطے میں دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو جائے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی کارکردگی سے اس کی سنجیدگی کا پتہ لگے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ دہشت گرد تنظیموں کے خاتمے میں پاکستان کا تعاون چاہتے ہیںاور دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ کی تو اس کیلئے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ ہماری پوری کوشش ہے کہ جوہری ہتھیار یا ان کی تیاری میں استعمال ہونے والا مواد دہشت گردوں کے ہاتھ نہ لگے۔ ان کے اس بیان سے ایک بار پھر دس سال پہلے والے امریکی بیانیہ کا احیاء نظر آتا ہے جس میں کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان کے جوہری اثاثے خطرے میں ہیں کہ دہشت گرد ان پر قبضہ کر لیں گے اور پاکستان سے یہ مطالبہ کیاجاتاتھا کہ وہ اپنا جوہری پروگرام کیپ کردے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے یہ واضح اور ملفوف اشارے پاکستان کے لیے واضح دھمکی ہیں۔ انہوں نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ دہشت گرد تنظیموں کاصفایا کرے ورنہ پاکستان کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

پاکستان کا موقف واضح ہے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے ۔ پچھلے دنوں امریکی سنٹرل کمانڈکے جنرل ووٹیل اور افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل نکولس سے گفتگو کرتے ہوئے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جا وید باجوہ نے کہا تھاکہ امداد سے قطع نظر عالمی دنیا دہشت گردوں کے خلاف پاکستان کی کارروائیوں اور قربانیوں کا اعتراف کرے۔ انہوں نے کہا تھا کہ پاک فوج اور پاکستانی قوم نے ہر رنگ ، ہر نسل کے دہشت گردوں کے خلاف جنگ لڑی ہے۔ اس کے باوجود افغانستان کی حکومت' بھارت اور امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں۔اور یہ کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی کرتا ہے۔ پاک فوج کے ترجمان نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ حقانی نیٹ ورک اگر کوئی تھا تو آپریشن ضرب عضب کے بعد اس کا وجود باقی نہیں ہے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ بھی کہہ چکے ہیں کہ پاکستان میں حقانی نیٹ ورک کا کوئی وجود باقی نہیں ہے۔ تو پھر امریکہ کے اصرار کہ پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں اور پاکستان کا انکار کہ پاکستان میں کوئی دہشت گردوں کی کوئی پناہ گاہیں نہیں ہیں ، اس سے آگے بڑھنے کا کیا طریقہ ہو سکتا ہے؟
ایک یہ کہ اگر امریکہ کو معلوم ہے پاکستان میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں تو وہ پاکستان کو ان دہشت گردوں کے بارے میں انٹیلی جنس فراہم کرے تاکہ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے۔ پاکستان بار بار یہ اعلان کرتا رہا ہے کہ کوئی اچھے یا برے دہشت گرد نہیں ہوتے۔ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتے ہیںان کا کوئی وطن ہوتا ہے نہ قبیلہ۔ پاکستان دہشت گردی کے ہاتھوں ساٹھ ہزار فوجیوں اور سویلین لوگوں کے شہادتوں سمیت بھاری نقصان اُٹھا چکا ہے۔ اس لیے امریکہ اگر پاکستان کو دہشت گردوں کے ٹھکانوں کے بارے میں انٹیلی جنس فراہم کرے تو پاکستان لامحالہ ان کے خلاف کارروائی کرے گا جیسے کہ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب'آپریشن خیبر اور آپریشن کراچی میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ اس سے امریکہ پر یہ واضح ہو جائے گا کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جنگ پاکستان کی اپنی جنگ ہے یا یہ ثابت ہو جائے گا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بے بنیاد اور غلط انٹیلی جنس پر مبنی ہیں۔ اس کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ امریکہ پاک افغان سرحد کے انتظام کی پاکستان کی کوشش میں مدد کرے اور سرحد کی باڑھ بندی کو جلدمکمل کرنے میں تکنیکی اور مالی معاونت کرے۔ اور پاکستان میں موجودافغان باشندوں کی اپنے وطن واپسی میں تعاون کرے۔ پاکستان افغان سرحد کی باڑھ بندی سے خفیہ طور پر اور غیر قانونی طور پر سرحد پار کرنے پر پابندی عائدہوجائے گی اور یہ امکان نہیں رہے گا کہ پاکستان سے دہشت گرد افغانستان میں داخل ہوں یا افغانستان سے دہشت گرد پاکستان میں داخل ہوں۔اس طرح پاکستان اور افغانستان دونوں دہشت گردوں کی کارروائیوں سے محفوظ ہو جائیں گے۔ اگر دونوں ملکوں میں سے کسی میں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہوں گی تو فعال نہیں رہ سکیں گی۔ پاکستان میں تین عشروں سے لاکھوں افغان باشندے مقیم ہیں اور ان کی تعداد میں روزانہ اضافہ اور کمی ہوتی رہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک افغانستان سے روزانہ ہزاروں افغان پاکستان آتے جاتے تھے جن پر اب قانونی دستاویزات کے ساتھ سفر کرنے کی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ لیکن اب بھی اڑھائی سو میل لمبی سرحد کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جس کی نگرانی نہیں ہو سکتی۔اس سرحدی باڑھ کی نگرانی کے لیے پاکستان افغانستان اور امریکہ مشترکہ انتظام پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔امریکہ اگر خطے میں دہشت گردی کا خاتمہ چاہتا ہے تو اس کا ثبوت یہ ہو گا کہ امریکہ پاکستان میں مقیم افغانوں کی وطن واپسی اور پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی میں تعاون کرے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی افغانستان میں امن واستحکام کو لاحق حقیقی خطرات سے ناواقفیت کا نتیجہ نظر آتی ہے۔ اس حوالے سے آئندہ کسی نشست میں بات کی جائے گی۔

اداریہ