Daily Mashriq

مجھے کیوں نکالا؟

مجھے کیوں نکالا؟

کالم کا عنوان پڑھ کر اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ان الزامات کو کالم کا حصہ بنائیں گے جو ان دنوں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے محولہ بالا سوال کے حوالے سے تحریک انصاف کی جانب سے ایک پمفلٹ کی شکل میں اور سوشل میڈیا پر عام کئے جارہے ہیں تو ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں، اور اگر اس کے بعد لیگ (ن) کی جانب سے تحریک کی پمفلٹ کے جواب میں ایک اور پمفلٹ کی صورت تقسیم کئے جارہے ہیں جسے جواب آں غزل سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے تو آپ اپنا ٹٹو چھاویں بنیں، ہمارا ایسا بھی کوئی ارادہ نہیں ہے کیونکہ نہ تو ہمارا تعلق تحریک انصاف سے ہے نہ ہی لیگ (ن) کے ساتھ ہمیں کوئی ہمدردی یا مخاصمت ہے بلکہ ہم تو ایک غیر جانبدار کالم گھسیٹ ہیں جو اپنی سوچ کے مطابق سیاسی، سماجی معاملات پر کالم باندھتے رہتے ہیں اور اسی سوچ کی بناء پر آج کا کالم ضبط تحریر میں لانے کی جرأت کر رہے ہیں کیونکہ جن حالات اور حقائق نے ہمیں یہ کالم لکھنے پر آمادہ کیا ہے اس حوالے سے فارغ بخاری مرحوم کا یہ شعر ہمارے پیش نظر رہا ہے کہ

ضبط کرتا ہوں تو درد اور سوا ہوتا ہے
مرے اندر کوئی بچوں کی طرح روتا ہے
1۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہم کبھی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھتے، اقتدار کی بھول بھلیوں کے حوالے سے انسانی تاریخ بلکہ المیہ یہ ہے کہ جب کوئی اقتدار سے باہر ہوتا ہے تو مسکین، نیک و پارسا نظر آتا ہے مگر جب اقتدار کی دیوی مہربان ہوتی ہے تو خود پسندی، انانیت بلکہ فرعونیت کے روئیے گھیر لیتے ہیں، ان حالات کی روشنی میں جب میاں صاحب کے گزشتہ تمام ادوار کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات واضح ہو کر سامنے آجاتی ہے کہ تاریخ میں عبرتناک انجام سے دوچار ہونے والے مقتدروں کی طرح میاں صاحب بھی کاسہ لیسوں، خوشامدیوں اور چاپلوسوں میں گھرے رہے، کسی معقول آواز پر انہوں نے کان کبھی نہیں دھرے، ان کے بارے میں تو یہاں تک مشہور ہے کہ ان کو مشورے دینے والے ان کے ''کچن کیبنٹ'' کا حصہ تھے اور انہی کے غلط مشوروں نے ہمیشہ ان کے اقتدار کے ''ٹائی ٹینک'' کو آئس برگ سے ٹکرا کر پاش پاش کیا، نتیجہ اقتدار کی غلام گردشوں سے باہر نکلنے پر منتج ہوا۔
2۔ میاں صاحب نے پارلیمنٹ کو پرکاہ برابر اہمیت نہیں دی، اسمبلی میں آنے کو توہین سمجھتے رہے، ان کی دیکھا دیکھی ان کے وزراء نے بھی اس مقدس ادارے کو جوتے کی نوک پر رکھا، اگر کبھی میاں صاحب اسمبلی تشریف لائے بھی تو اسے اسمبلی پر احسان سمجھا اور ماتھے پر شکنیں سجائے تمام وقت یوں منہ بسورے بیٹھے رہتے کہ وہ نہایت اہم کام چھوڑ کر اپنا قیمتی وقت ضائع کرنے آگئے ہیں۔
3۔کابینہ کا اجلاس بلانے کی بجائے چند مخصوص لوگوں جن میں بعض اہم وزراء اور ذاتی مشیر ہوتے تھے' سے مشاورت کرکے حکومت کا کام چلاتے رہے۔ ابھی چند ہفتے پہلے ایک وفاقی وزیر نے ملاقات کے لئے اجازت نہ ملنے پر استعفیٰ دے دیا تھا' بعد میں جس کی منت زاری کی جاتی رہی اس روئیے نے خود پارٹی کی صفوں میں منفی رویوں کو جنم دیا۔
4۔خیبر پختونخوا کو قدرت نے جس وسیع آبی ذخائر سے مالا مال کر رکھا ہے اور صوبے کے بالائی علاقوں میں نہ صرف بڑے ڈیمز بلکہ لا تعداد چھوٹے آبشاروں پر مناسب مقامات پر ٹربائن لگا کر اس قدر وافر مقدار میں بجلی جنریٹ کی جاسکتی ہے جو پاکستان کی ضروریات سے کہیں زیادہ اور انتہائی سستی ہے' مگر اس جانب سے مکمل طور پر آنکھیں بند کرکے فرنس آئل' کول پاور پلانٹ اور ایل این جی کے نہایت مہنگے منصوبوں کے ذریعے ملک کے عوام پر مہنگی ترین بجلی فروخت کرنے کی منصوبہ بندی کرکے پیچھے چھپے مقاصد کیا ہیں؟ اس بارے میں واقفان حال اچھی طرح جانتے ہیں مگر شاید آپ نہیں جانتے۔ اتنی بات خیبر پختونخوا کے لوگ بھی اچھی طرح جانتے ہیں کہ خیبر پختونخوا کے پن بجلی کے چھوٹے بڑے منصوبے اس لئے روبہ عمل لانے کی سوچ نہیں پنپ رہی کہ پھر صوبے کو پن بجلی کی رائلٹی دینی پڑے گی جبکہ پہلے یہی اس حوالے سے اے جی این قاضی فارمولے پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل نہیں کیا جا رہا ہے اور تربیلا' ورسک سے حاصل ہونے والی بجلی کی رائلٹی بھی اب تک سالانہ 6ارب پر منجمد کی گئی تھی۔ اسی طرح پٹرول اور گیس کی رائلٹی میں بھی انصاف کے تقاضوں کا کوئی خیال نہیں کیاجاتا۔
5۔میاں صاحب آپ کہتے ہیں آپ نے کوئی کرپشن نہیں کی۔ چلئے مان لیتے ہیں مگر کبھی آپ نے یہ بھی سوچا کہ اقتدار میں آکر جس رعونت کا مبینہ طور پر آپ مظاہرہ کر تے رہے ہیں آپ کی یہ ادا یقینا اللہ کو پسند نہیں آئی ہوگی۔ تاریخ کے اوراق الٹ کر دیکھ لیجئے' وہ جو اپنے اپنے زمانے میں خود کو نا گزیر سمجھتے رہے ہیں آج ان کے مقابر بھی شاید کہیں نظر نہیں آتیں' آپ بھی نا گزیر نہیں ہیں تو پھر ساری زندگی اقتدار سے چمٹنے کی خوبو( آپ سمیت تمام سیاستدانوں نے) کہاں سے پال لی ہے۔ اب یہ باریوں کا سلسلہ ختم کرکے آئین میں ترمیم کرنے پر تمام جماعتوں کا تعاون حاصل کریں کہ صرف دو بار وزیر اعظم کے بعد کسی کو بھی تیسری بار وزیر اعظم بننے کا حق نہیں ہوگا۔ اس سے ملک میں موروثیت پر مبنی سیاست کا بھی خاتمہ ہو جائے گا اور ملک صحیح ٹریک پر چل پڑے گا۔ رہا یہ سوال کہ آپ کو کیوں نکالا تو آپ نے اللہ کے بندوں کے مسائل حل کرنے میں غفلت کامظاہرہ کیا اور جب اللہ ناراض ہوتا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت بچانے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔

اداریہ