Daily Mashriq


عصری شعور کے ساتھ علم و انسان دوستی کو فروغ دیجئے

عصری شعور کے ساتھ علم و انسان دوستی کو فروغ دیجئے

ستر سال کی تاریخ بڑی دلچسپ بھی ہے اور باعث عبرت بھی۔ دلچسپ یوں کہ '' تجربہ کاروں'' نے اتنے تجربے کئے کہ اب اگر وہ دو چار ماہ تک کوئی تجربہ نہ کریں تو تجربہ خود ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے '' حضور نصیب دشمناں طبیعت تو ٹھیک ہے''؟۔ باعث عبرت یوں ہے کہ جن بنیادوں پر بٹوارہ ہوا تھا ان سے جان نہیں چھڑا پائے۔ بٹوارے کی بنیادوں میں بھرے نفرت کے بارود نے بارڈر کے دونوں اور کسی کو چین نہیں لینے دیا۔ زیادہ تر وسائل دونوں طرف جنگی ساز و سامان کا ڈھیر لگانے پر صرف ہوئے اور ہو رہے ہیں۔ غربت آسمان کو چھو رہی ہے۔ بھارت میں بھی کوئی نوٹ آسمان سے نہیں برستے۔ الیکٹرانک میڈیا کے بھارت دیش یا ہندی فلموں کے بھارت کے سوا بھی ایک بھارت ہے۔ غربت و افلاس' تعصبات' جنون اور عدم برداشت کا رقص جاری ہے۔ واہگہ کے اس اور بھی حالات ایسے ہی ہیں۔ دودھ وشہد کی نہریں کہیں نہیں دکھائی دیتیں۔ 60فیصد لوگ خط غربت کے نیچے کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ بے روز گاری ہے' بد امنی اور عدم برداشت۔ سب سے سنگین مسئلہ شہریوں اور ریاست کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج ہے جو دن بہ دن گہری ہوتی جا رہی ہے۔ داخلی و خارجی پالیسیوں کا کوئی وجود نہیں۔کرپشن میں گردن تک سب دھنسے ہیں البتہ گالی' گولی' پھانسی کے حقدار فقط سیاستدان ہیں۔ اچھا ویسے سیاستدان ہیں کتنے؟ سادہ سا جواب یہ ہے کہ سیاست کاروں کے بیچوں بیچ چند ایک اور ان کی سنتا کون ہے۔ مذہب و سیاست اور حب الوطنی منافع بخش کاروبار ہیں۔ ہمارے آپ کے دیکھتے دیکھتے سائیکل نہ خرید سکنے والوں کی اولادیں ارب پتی ہوئیں۔ فٹ پاتھ پر بوریاں بیچنے والے ارفع و معتبر ہوئے۔ قانون بالا دستوں کے گھر کی لونڈی ہے اور دستور اس کا کوئی پرسان حال نہیں۔ یہ سب ہے اور ہم 22کروڑ ہیں 'جی رہے ہیں سسک سسک کر' من بھاتا کھابا بھائیوں کا گوشت کھانا ہے۔ یہ سطور لکھتے لکھتے مجھے عربی کے نامور شاعر حاذق یاد آئے۔ دمشق کی جامعہ مسجد کی سیڑھیوں پر بلند ہوتے ہوئے حاذق نے ایک پہرکہا تھا'' لوگو! مٹی کا رزق بننے سے بچنا چاہتے ہو تو بھائیوں کا گوشت کھانا چھوڑ دو۔ مساوات اور انصاف کو افضل تر سمجھو' ظلم سے ہاتھ اور دامن بچائو۔ علم اور انسانوں سے دوستی کرو' بانٹ کر کھانے میں راحت ہے''۔

تقریباً سوا تیرا سو سال بعد بھی اگر حاذق زندہ ہوتے تو یہی کہتے جو انہوں نے دوسری صدی ہجری کے د وسرے عشرے میں کہا تھا۔ زمانے نے تیز رفتار ترقی کی' دنیا چاند پر پہنچ گئی۔ نئے جہانوں کی تسخیر کے لئے کوشاں ہے۔ ایک ہم ہیں ماضی کے سحر سے نکلنے اور حال میں زندہ رہنے کو اس لئے تیار نہیں کہ حال میں علم و جستجو کے بغیر زندہ رہنا محال ہوتا ہے ۔ اوراق الٹ پلٹ کر دیکھ لیجئے کیسا فخر کاشت ہے ماضی میں اور ہم جی بہلا رہے ہیں۔ اس سوال سے آنکھیں چراتے ہیں کہ ہم آج کہاں کھڑے ہیں۔ کہنے کو ایٹمی طاقت ہیں مگر ایک تعلیمی ادارہ ایسا نہیں جو بین الاقوامی معیار پر پورا اترتا ہو۔ ایک ہسپتال ایسا نہیں جہاں ہماری اشرافیائوں کے مرد و زن کا علاج ہوسکے۔ عام آدمی کا ان ہسپتالوں میں جو حشر ہوتا ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ پانچ مختلف اقسام کے نصاب ہائے تعلیم ہیں۔ یعنی سماجی یکتائی کی ضرورت پچھلے 70برسوں سے کسی نے محسوس ہی نہیں کی۔ کیا ایک علم و انسان دوست سماج کی تعمیر کے بغیر ایسا نظام تشکیل پا سکتا ہے جو انصاف و مساوات سے منور ہو؟ ظاہر ہے جواب نفی میں ہوگا۔ اب سوچنے والی بات یہ ہے کہ ہماری آئندہ نسلوں کا مستقبل کیاہے؟ حساب واضح ہے۔ وہ بھی ہماری طرح پرکھوں کو کوستے پھریں گے۔ کیا تبدیلی لانا فقط کسی حکومت کی ذمہ داری ہے؟ طالب علم کا جواب یہ ہے کہ جی نہیں۔ اجتماعی ذمہ داری ہے۔ اجتماعی ذمہ داری شخصی احتساب سے شروع ہوتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہم سب دوسرے کا احتساب چاہتے ہیں اپنی باری پر آئیں بائیں شائیں کرتے ہیں۔ کیوں صاحب؟ مجھے معاف کیجئے گا کہ ایک طالب علم کی حیثیت سے کسی ایک فرد یا طبقے اور ادارے کو موجودہ صورتحال کا ذمہ دار نہیں سمجھتا۔ ہم سب اس کے اجتماعی طور پر ذمہ دار ہیں مگر جان ویسے ہی چھڑواتے ہیں جیسے ہمارے سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان اپنی وزارت کے چار سالہ دور کی خرابیوں کو ماننے پر تیار نہیں اور شخصی قصیدہ شوق سے پڑھتے ہیں۔2018ء کے انتخابات میں نسلی غلاموں کی طرح ذات پات' برادری' زبان' فرقے اور علاقے کے نام پر ووٹ دینے کی بجائے ان سماج سدھاروں کو آگے لائیں جو کھوکھلے دعوے کرنے کی بجائے عمل کرکے دکھا سکیں۔ ہم سب اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اپنی محبوب سیاسی جماعتوں کو مجبور کریں کہ وہ معاشرے میں اکثریتی طبقات سے تعلق رکھنے والے با شعور امیدواروں کو پارٹی ٹکٹ جاری کریں۔ ان مخدوموں' خانوں' وڈیروں' جاگیر داروں' سرمایہ داروں اور سرداروں سے ہمارا لینا دینا کیا ہے۔ ایک یہی صورت ہے جو تبدیلی کا ابتدائیہ بن سکتی ہے۔ ہم متحد ہو کر ریاست کو مجبور کریں کہ دستور میں دئیے گئے سیاسی' مذہبی و معاشی حقوق سے متصادم نظریات رکھنے والوں کو مزید کھیل کھیلنے کا موقع نہ دیا جائے۔ یقین کیجئے اگر ہم نے عصری شعور کے ساتھ اپنے حال اور آئندہ نسلوں کے مستقبل کے لئے انقلابی قدم نہ اٹھایا تو اگلے ستر سال بھی یہی ہوگا۔ طبقاتی جمہوریت اور جرنیلی جمہوریت کے پجاری ہم پر مسلط رہیں گے۔ ایک حقیقی قومی جمہوری فلاحی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو پائے گا۔ فیصلہ آپ کے اپنے اختیار میں ہے۔ یاد رکھئے فیصلہ کرنے میں تاخیر مہلک ثابت ہوگی۔

متعلقہ خبریں