جمہوریت اور عوامی حقوق

جمہوریت اور عوامی حقوق

دنیا کے تقریباً سارے خطوں میں ستر ہویں اور اٹھارویں صدی میں اسلامی تعلیمات سے آگاہی کے بعد عوام کی آرا کا احترام اور اُن کے بنیاد ی حقوق کی حفاظت کے لئے امریکہ ، فرانس اور یورپ کے دیگر ممالک میں مختلف قسم کی بادشاہتوں اور آمریتوں کے خلاف تحاریک اُٹھیں اور کامیاب ہوئیں اور ان کے ذریعے بتدریج ایسی حکومتیں وجود میں آئیں جن میں عوامی رائے کو اہمیت دی جانے لگی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ترقی کرتے کرتے آج کا جمہوری نظام اور اس کے تحت ایک ''ترقی یافتہ '' تہذیب و ثقافت پر مبنی عالمی معاشرہ وجود میں آیا ۔ آج کا جمہوری نظام اور اس کے ثمرات کے گہرے اثرات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ مغرب کے انسان کے نزدیک اس سے بہتر نظام معاشرت و سیاست ومعیشت نہ پہلے کہیں تھا اور نہ اس کے بعد کہیں آسکتا ہے ۔ اسی نکتہ وضاحت کے لئے امریکہ و یورپ کے فلاسفر ، دانشوروں اور سیاستدانوں نے اپنی فکر کو تصانیف اور فلم و میڈیا کے ذریعے اور اپنی معاشرت و سیاست کو عملی صورت میں ایسے جادوئی انداز میں پیش کیا کہ آج جمہوریت کے خلاف کوئی بھی بات کرنا اپنے آپ کو مشکل بلکہ مشکلات میں ڈالنے کے مترادف ہے ۔ امریکی فلاسفر فوکو یاما نے تو (The end of history and the last man) لکھ کر بات ہی ختم کردی اور یہی وجہ ہے کہ آج اسلامی دنیا میں بھی جمہوریت کا بڑ ا غلغلہ اُٹھا ہے اگر چہ بہت کم اسلامی ملکوں میں جمہوری نظام قائم ہوسکا ہے ۔ مسلمان ملکوں میں جمہوری نظام کے استحکام میں کیا رکاوٹیں ہیں اور کیوں یہ نظام بار بار پٹٹر ی سے اُتر جاتا ہے اور کیوں آج بھی اسلامی ملکوں کی اکثریت میں جمہوریت کی بجائے امریت اور بادشاہت قائم ہے، اس کے بہت سارے اور وجوہات ہو سکتے ہیں لیکن دو وجوہات بہت اہم ہیں۔ ایک یہ کہ مسلمان ملکوں کے عوام کی نگاہوں میں مدینہ طیبہ اسلامی فلاحی ریاست، اس کے حکمران (خلفائے راشدہ) اور قرآن وسنت بطور اسلامی آئین و دستور رچے بسے ہیں جبکہ آج کے جمہوری نظام میں ایک عام آدمی کو ایک ووٹ کے تحت ہر ایرے غیرے اور نتھو خیرے کو ووٹ دینے کاحق حاصل ہے اور پھر یہ غریب عوام اپنی رائے کے اظہار کیلئے (جو ووٹ ڈالتے ہیں) آزاد کہاں ہوتے ہیں ۔ گائوں کی سطح پر کٹر پنچ اور چودھری اور خان وڈیرے و سردار سے لے کر ہر ضلع اور علاقے کے اپنے اپنے مخصوص ٹھیکدار ہوتے ہیں جو غریب عوام کے شناختی کارڈ ز اپنے قبضے میں رکھ کر الیکشن کے دن باقاعدہ گنتی کروا کر ووٹ ڈلوا تے ہیں۔ دوسری بڑی وجہ یہ ہے کہ امریکہ اور بعض دیگر طاقتور جمہوری ممالک اسلامی ممالک میں اپنے ہاں کے طرز کی جمہوریت پروان چڑھتا دیکھنا بھی نہیں چاہتے کیونکہ اگر صحیح معنوں میں جمہوریت قائم ہو جائے تو پھر تو سارے فیصلے پارلیمنٹ کے ذریعے ہوںگے اور یوں ان سپر طاقتوں کے مفادات ضرور متاثر ہونگے کیونکہ ہر ملک اپنے عوام کے حقوق کی پاسداری کا خیال رکھے گا ۔ بادشاہت اور آمریت میں تو ایک آدمی یا زیادہ سے زیادہ پانچ دس آدمیوں سے اپنی بات منوانا آسان ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سپر طاقتیں اسلامی ممالک اور تیسر ی دنیا کے غریب ممالک میں اپنی پسند کی حکومتیں کبھی ایک توکبھی دوسرے طریقے سے بنواتے ہیں اور عوام بے چارے رُلتے رہ جاتے ہیں ۔ بقول شاعر 

امیر شہر غریبوں کو لوٹ لیتا ہے
کبھی بحیلئہ مذہب کبھی بنا م وطن
پاکستان اُن اسلامی ممالک میں شامل ہے جہاں جمہوریت اور آمریت کی بڑی خون ریزفر ی سٹائل کُشتیاں ہوتی رہی ہیں اور آج بھی جاری ہیں اور ایک دنیا ہمارا تماشا دیکھ رہی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ ہر حکومت عوام کے حقوق دلانے میں ہلکان ہو ہو کر ختم ہو جاتی ہے لیکن پاکستان کے عوام بے چارے ستر برس بعد اپنی ایک نئی نسل کے ختم ہونے ، دوسری کے ریٹائرڈ ہونے اور تیسری کے جوان ہونے پر آج بھی صاف پینے کے پانی کے لئے ترستے ہیں ۔اس کے باوجود کوئی بھی سیاستدان جب عوام سے خطاب کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو ایک ہی نعرہ لگاتا ہے ۔۔عوام ، عوام ، عوام ، دلچسپی اور حیرانگی کی بات یہ ہے کہ مارشل لا والے مارشل لا اس لئے لگا تے ہیں کہ عوام کے ووٹوں سے منتخب حکمران نے عوام کے حقوق کو پامال کیا تھا اور پھر مارشل لاء کے خلاف جمہوریت کے علمبر دار جلسوں میں یہی نعرہ بلند کرتے ہیں کہ ہم تو عوام کے حقوق کی پاسداری کے لئے یہ سب پاپڑ بیلتے ہیں ۔ حالانکہ جس طرح سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا اسی طرح ان سیاستدانوں کے سینوں میں (الا ماشاء اللہ ) دل تو ہوتا ہوگا لیکن وہ کم از کم عوام کے غم میں گھلنے والا نہیں ہوتا ورنہ چین ، جنوبی کوریا اور بعض دیگر ممالک دیکھیں نا جو ہمارے بعد آزاد ہوئے ہیں لیکن اُن کے عوام ہم جیسے مفلوک الحال نہیں ہیں ۔ ان وجوہات کی بناء پر ہمارے حکمرانوں کو عوام کی بددعائیں لگتی رہتی ہیں کہ یہ بے چارے ان پر اعتماد کر کے ووٹ سے ان کے صندوق بھر والیتے ہیں اور جواباً یہ اپنی تجوریاں بھر لیتے ہیں ۔ لیکن اب شاید وقت نے پانسا پلٹا ہے اور عوام آہستہ آہستہ بیدا ر ہوئے ہیں اور میڈیا کی برکت سے اب کوئی سیاستدان ان کے حقوق پر ڈاکہ نہیں ڈا ل سکے گا اور عوام ان سیاستدانوں کی غلامی اور بے جا فرمانبرداری کا طوق اور جواز اُتار پھینکنے والے ہیں ۔ اللہ کرے کہ وہ دن جلد نصیب ہو ۔

اداریہ