Daily Mashriq

ہم نہیں تو کوئی نہیں ؟

ہم نہیں تو کوئی نہیں ؟

وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کوئٹہ میں اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ مژدہ سنایا ہے کہ اداروں کے درمیان کوئی محاذ آرائی نہیںچپقلش صرف اخبارات میں ہی نظر آتی ہے۔شاہدخاقان عباسی کی اس بات کا یقین کرنے کو بے ساختہ دل چاہتا ہے کیونکہ وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو اور اس ناتے اصلی اور آئینی وزیر اعظم ہیں ۔کسر ِنفسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ اپنے اصلی وزیر اعظم ہونے کی لاکھ تردید کریںوہ ہر جملے میں میاںنوازشریف کے ویژن کی بات کرکے اور انہیں ہی اصلی وزیر اعظم قرار دے کر اپنے نقلی وزیر اعظم ہونے کا اعلان کریں مگر وزیر اعظم ہائوس میں شاہد خاقان عباسی کی موجودگی اور اس حیثیت میں روز مرہ ذمہ داریوں کی بجا آوری اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اصلی اور آئینی وزیر اعظم ہیں ۔ ان کی تمام تر کسر نفسی کے باوجودفوج عدلیہ ،عوام سب انہیں اصلی وزیر اعظم ہی سمجھتے ہیںبلکہ بہت سے لوگ تو نوازشریف کے اصلی وزیر اعظم ہونے کا تاثر زائل کرنے کے لئے شاہد خاقان عباسی کو کچھ زیادہ ہی اصلی وزیر اعظم ثابت کر نا چاہتے ہیں ۔خدشہ ہے کہ کہیں وہ محمد خان جونیجو کی طرح کسی روز خود کو واقعی اصلی وزیر اعظم ہی نہ سمجھ بیٹھیں اور سسٹم کو لپیٹنے کا جو کارنامہ میاںنوازشریف انجام نہ دے سکے وہ شاہد خاقان عباسی کے ہاتھوں انجام پزیر ہوجائے۔ چوہدری نثار علی خان کی طرح نہ سہی مگر ان سے کم تر درجے پر ہی شاہد خاقان عباسی کا رشتہ بھی فوج سے گہرا ہے ۔ان کے والد خاقان عباسی ائر کموڈور کی حیثیت سے ریٹائر ہونے کے بعد سعودی عرب میں کاروبار کر تے تھے ۔اچانک انہوں نے سعودی عرب سے کوہ مری کا رخ کر کے جنرل ضیاء الحق کے اوپننگ بیٹسمین راجہ ظفر الحق کو للکارا مگر کہا جاتا ہے اس للکار کو جنرل ضیاء الحق کی خاموش تائید حاصل تھی ۔مری کہوٹہ کا یہ انتخابی معرکہ پاکستان کے مہنگے ترین حلقوں میں سرفہرست تھا جہاں خاقان عباسی نے بے تحاشا سرمایہ لگا کر عوام کو اپنی جانب راغب کرنے میں کامیابی حاصل کی تھی ۔شاہد خاقان عباسی جب تک اس منصب پر موجود ہیں انہی کا دستخط بہت سے معاملات کے بند دروازے کھولنے کے لئے ''کھل جاسم سم ''کا کام دیتا رہے گا۔ان کا اس منصب پر ہونا اس بات کا پتا دے رہا ہے کہ ملک میں سسٹم اور جمہوریت فنکشنل ہیں ۔اس لئے ان کی طرف سے قوم کا یہ مژدہ سنانا بھی معنی خیز ہے کہ ملک میں اداروں کے درمیان کوئی محاذ آرائی نہیں۔ایک طرف وزیر اعظم کا فرمایا ہوا بجا مگر جب ٹی وی چینلوں کا رخ کریں تو ملک میں محاذ آرائی کا ایک طوفان اُمڈتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ایک طرف مسلم لیگ ن کے عقاب پوری طرح محاذ آرائی کی تیاری کرتے دکھائی دے رہے ہیں تو دوسری طرف سیاسی جماعتیں لفظوں کے شعلے اُگل رہی ہیں۔ملک میں عدلیہ فوج اور انتظامیہ کے درمیان اختلافات کا تاثر بھی ملتا ہے اور تین اہم سیاسی جماعتوں مسلم لیگ ،تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے درمیان بھی اختلافات کی خلیج گہری ہوتی جا رہی ہے۔باقی سیاسی جماعتیں اس صف بندی کے حوالے سے اپنا موقف طے کرتی محسوس ہوتی ہیں ۔مسلم لیگ نے جی ٹی روڈ پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تو اس کا قطعی کوئی فائدہ نہیں ہو ااول تو ن لیگ نے اپنی سٹریٹ پاور کا خوف ختم کر دیا دوسرا یہ کہ جواباََ تحریک انصاف اور علامہ طاہرالقادری نے عوامی طاقت کے مقابل عوامی طاقت کے استعمال کے اشارے دئیے جس سے عوامی طاقت کے استعمال کا کارڈ بے اثر ہو کر رہ گیا ۔جس سے ملک میں سیاسی کشمکش میں ایک توازن سا قائم ہوتا محسوس ہوا۔سیاسی جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کوئی انہونی بات نہیں اور ایسے میں جب انتخابات قریب آرہے ہوں سیاسی قائدین کے لہجوں کی تلخی بڑھنا حالات اور وقت کی ضرورت سمجھا جا تا ہے مگر اصل اور خطرناک معاملہ اداروں کی کشمکش ہے ۔اس وقت تک جو صورت حال بنتی دکھائی دے رہی تھی اس میں عدلیہ اور فوج ایک طرف اور انتظامیہ دوسری طرف کھڑی تھی۔اس تصویر سے سسٹم کے لئے واضح خطرات پیدا ہو رہے تھے ۔ماضی میں اداروں کی اس طرح کی محاذ آرائی کا فیصلہ طاقت کے اصول کے تحت ہوتا رہا ہے اور خالص طاقت کی لڑائی میں جیت سب سے زیادہ طاقتور کی ہوتی ہے۔اس بار بھی محاذ آرائی اور طاقت کے کھیل کا فیصلہ اسی اصول کے تحت ہونا یقینی ہے ۔ایسے میں انتظامیہ کے سربراہ شاہد خاقان عباسی نے اداروں کے درمیان محاذ آرائی کا تاثر دور کرنے کی کوشش کی ۔دوسرے لفظوں میں ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کے جو لوگ احتجاج کررہے ہیں وہ بطور سیاسی جماعت ہی کر رہے ہیں اور ایک سیاسی جماعت کے طور پر یہ ان کا حق ہے۔شاہد خاقان عباسی کے اس بیان کے بعد ملک میں یک گونہ اطمینان پیدا ہو نا چاہئے کہ اداروں کے درمیان محاذ آرائی کاکوئی امکان نہیں۔حقیقت یہ ہے کہ محاذ آرائی سے گریز میں ہی سب کا بھلا ہے ۔سسٹم چلتا رہے تو باریاں لگتی رہتی ہیں ،دنوں کا اُلٹ پھیر جاری رہتا ہے مگر سسٹم ہی لپیٹ دیا جائے تو سب سیاسی لوگ جیل اورریل تک محدود ہوجاتے ہیں اس سے نئی قباحتیں جنم لیتی ہیں۔پرانے چہرے قصۂ ماضی بن جاتے ہیں اور وقت کا دھارا انہیں منظر سے کہیں دور بہت دور پہنچا دیتا ہے اور جب حالات بدل جاتے ہیں تو کئی نئے چہرے اس منظر پر راج اوروقت کے لے پر رقص کرنے کو تیا ربیٹھی ہوتی ہے ۔پاکستان میں تین فوجی حکومتوں نے یہی سبق سکھا یا ہے ۔اس لئے ''ہم نہیں تو کوئی نہیں'' کے ردعمل پر مبنی رویہ وقتی طور پر کسی مضمحل روح اور مجروح انا کو تسکین پہنچا نے کا باعث تو بنتا ہے مگراس سے طویل المیعاد فائدہ نہیں ہوتا۔

اداریہ