Daily Mashriq

کیا یہ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بغیر ممکن نہ تھا؟

کیا یہ وزیراعلیٰ کی ہدایت کے بغیر ممکن نہ تھا؟

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ کو بھتہ خوروں اور منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈائون کی ہدایت کی نوبت نہیں آنی چاہیئے تھی پولیس اور انسداد منشیات کے متعلقہ ادارے اپنے فرائض کی انجام دہی میں تساہل نہ برتیں تو بھتہ خوری اور خاص طور پر منشیات فروشی ممکن ہی نہیں بھتہ خوری کے واقعات اب خال خال ہی سامنے آتے ہیں لیکن شہر میں جا بجا منشیات کے عادی افراد کے جمگھٹے لگا کر سرعام نشہ کرنا اس تاثر کیلئے کافی ہے کہ صوبائی دارالحکومت پشاور میں منشیات کا حصول با آسانی ممکن ہے دن میں کسی بھی وقت منشیات کے عادی افراد کو سرعام اور بلا ناغہ منشیات سپلائی ہوتی ہے منشیات فروش سرعام نشے کے عادی افراد سے لین دین کرتے دکھائی دیتے ہیں اگر وہ کسی کو نظر نہیں آتے تو وہ تھانے کی پولیس ہی ہوگی جس کے اہلکار خود بھی نشے کے عادی افراد کی جیبوں کی تلاشی لینے آتے ہیںصوبائی دارالحکومت میں اس قدر کھلے عام منشیات کا دھندہ چلنے کے باوجود حکومت کم ہی اس کا سختی سے نوٹس لیتی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کو نئی نسل کو بچانا ہے تو آئس اور دیگر منشیات کی سپلائی روکنا ہوگی جیسے کمزور اور درخواست دہندہ قسم کے الفاظ کی ادائیگی کی بجائے ایسا کرنے کی ضرورت تھی کہ آئی جی خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام سے جواب طلب کرتے کہ ان کی آنکھوں کے سامنے یہ مکروہ دھندا دھڑلے سے ہو رہا ہے اس پر انہوں نے کارروائی کیوں نہیں کی؟کارخانو اور دیگر حساس مقامات پر چھاپہ مارنے کے حکم کی افادیت سے انکار نہیں لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا ایک خود کار نظام کے تحت کیوں نہیں ہوتا وزیراعلیٰ کو اس کی ہدایت کیوں کرنا پڑتی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ اگر کسی تھانے کی حدود میں منشیات کا دھندہ ہورہا ہے تو یہ متعلقہ ایس ایچ او کی ملی بھگت اور چشم پوشی کے بغیر ممکن ہی نہیں اور اگر کوئی تھانہ اس سے پاک ہے یا بہت رازداری سے وہاں منشیات فروشی ہوتی ہے تو یہ اس علاقے کے تھانیدار کی دیانت داری اور فرائض کی ادائیگی پر دال ہے ۔ منشیات فروشی کا لفظ اکثر وبیشتر چرس وآئس ہی کیلئے استعمال ہوتا ہے اور پولیس بھی ہدایات ملنے پرپست درجے کے کارندوں کے خلاف ہی حرکت میں آتی ہے بڑے بڑے سودگران منشیات کی گرفتاری اور ان کے خلاف کارروائی انسداد منشیات کے ادارے کی ذمہ داری ہے البتہ شراب اور چرس سپلائی کرنے والے موٹر سائیکل سوار کارندوں اور گاڑی کی ڈگی میں شراب کی بوتلیں بھر کر گاہکوں تک پہنچانے والے بھی پولیس ہی کی ذمہ داری میں آتے ہیں شراب کی سپلائی تو اب شاید منشیات فروشی کے زمرے ہی میں نہیں سمجھا جاتا اس لئے کہ اسے چکھنے والوں میں ایوان سے لیکر اقتدار کی غلام گردشوں اور بڑے بڑے سرکاری عہدوں پر تعینات افراد سبھی شامل ہیں ہمارے نمائندے کے مطابق خیبرپختونخوا میں منشیات کے کاروبار میں ملوث سیاستدانوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے جو احسن قدم ہوگا لیکن ہر کارروائی کی ابتداء سیاستدانوں سے ہی کیوں کی جائے کیوں نہ اعلیٰ سرکاری افسران کے خلاف بھی اس ضمن میں تحقیقات ہوں اور ایک ایسی روایت قائم ہو جو سنجیدہ اور مئوثر ہونے کے ساتھ ساتھ عوام کیلئے بھی قابل قبول اور باعث اطمینان ہو۔

نیب قوانین بیوروکریسی کیلئے نرم سیاستدانوں کیلئے سخت کیوں؟

وفاقی حکومت کی جانب سے اختیارات محدود کئے جانے کے بعد قومی احتساب بیورو کے ایگزیکٹیو بورڈ کا چھوٹے مقدمات صوبوں اور متعلقہ حکام کے حوالے کرنے کے عمل کے بعد اب نیب پر سیاستدانوں ہی کے احتساب کی چھاپ مزید گہری ہونے کا تاثرفطری ہوگاابتدائی طور پر خیبرپختونخوا کے جن مقدمات کو چیف سیکریٹری خیبرپختونخوا کے حوالے کیا گیا ہے ان کی نوعیت فی الحقیقت ایسی تھی نہیں کہ نیب اس پر کارروائی کرتا اس حد تک تو معاملہ درست ہے صوبائی احتساب کمیشن کا اگر خاتمہ نہ ہوچکا ہوتا توان مقدمات کو آگے بڑھانے کا ایک موزوں فورم ہوتا اب ان مقدمات کو اینٹی کرپشن کے حوالے ہونے کا امکان ہے جس کی کارکردگی اور کمزور حیثیت کو دیکھتے ہوئے ان مقدمات کے قصہ پارینہ بنائے جانے کی پیشگوئی غلط نہ ہوگی۔نیب قوانین میں ترامیم کے ذریعے بیوروکریسی اور کاروباری طبقے کے خلاف تحقیقات اورکارروائی کا جو لائحہ عمل ہے اس کے تحت بیوروکریسی کوگویا کھلی چھٹی مل جائے گی جبکہ سیاستدانوں کے خلاف کارروائی کا طریقہ کار جدا اور امتیازی ہوگا جس سے نیب کے اختیارات اور کارروائیوں کو منصفانہ قرار دینے کی گنجائش مزید کم ہوجائے گی حکومت نے اگر احتساب کا حقیقی نظام نافذ کرنا ہے تو پھر اسے سب کو ایک چھڑی سے ہانکنے کی پالیسی اختیار کرنی چاہیئے ایسے طریقہ کار اور قواعد وضوابط اختیار کرنے سے گریز کرنا ہوگا جو مختلف طبقات کیلئے مختلف ہوں۔ایسے اقدامات، کارروائیاں اور قانون سازی سے گریز کیا جانا چاہیئے جس سے یہ تاثر ابھرے کہ احتساب بلاامتیاز نہیں بلکہ اس کا رخ ایک خاص طبقے کی طرف ہے۔

متعلقہ خبریں