Daily Mashriq

اچھے کام کرنے کا زمانہ نہ رہا؟

اچھے کام کرنے کا زمانہ نہ رہا؟

پشاور تعلیمی بورڈ میں مبینہ بے قاعدگیوں کی تحقیقات کا حکم دینے اور انکوائریاں مکمل نہ ہونے سے قبل ہی قائمقام چیئر مین بورڈ کو ہٹانا دال میں کچھ کالا ہونے سے بڑھ کر معاملہ ہے مشیر تعلیم کی ان کو ہٹانے کی وجہ بتانے میں ناکامی سے بات مزید واضح ہو جاتی ہے ۔سوال یہ بھی ہے کہ اب جبکہ تعلیمی بورڈوں کے چیئر مینوں کی تعیناتی کیلئے انٹر ویو کا عمل بھی مکمل ہوچکا ہے اور تقرریوں میں زیادہ وقت باقی نہیں رہا ایسے میں عجلت میں قائمقام چیئرمین پشاور تعلیمی بورڈ کو ہٹانے کی کیا ضرورت تھی؟۔قائمقام چیئر مین کی کارکردگی کے حوالے سے سوال اس لئے اٹھایا نہیں جا سکتا کہ اولاً وہ مستقل نہ تھے دوم یہ کہ ان کی تعیناتی کے چند ماہ ہی ہوئے تھے ایسے میں تعلیمی بورڈ کے مافیا پر ہاتھ ڈالنا ہی ان کا جرم نظر آتا ہے سرکاری عہدوں پر مستقل بنیادوں پر میرٹ پر تقرری سے گریز اور سرکاری عہدیداروں کو آزادانہ طور پر کام کا موقع نہ دینے کی روایت کاجب تک خاتمہ نہیں ہوتا استعداد اور دیانت داری صفت کی بجائے جرم تصور ہونے لگے اور اعلیٰ حکام کی بد عنوان عناصر کو ہٹانے کی نوبت آنے لگے تو تبدیلی کیسے ہوگی میرٹ کا بول بالا کیسے ہوگا۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو اس اہم موقع پر قائم مقام چیئر مین بورڈ کو ہٹانے کی تحقیقات کرنی چاہیئے یا پھر انہوں نے جو انکوائریاں شروع کرائی تھیں ان کو نتیجہ خیز بنانے اورمتعلقہ عناصر کے خلاف شفاف کارروائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں اور اس عمل کو قائمقام چیئر مین بورڈ کے ہٹنے پر متاثر نہ ہونے دیا جائے۔

سیاحتی مقامات میں صفائی کا سنگین مسئلہ

سیاحتی مقامات میں کوڑاکرکٹ پھیلانے پر سپیکر ہائوس سمیت سرکاری عمارتوں پر جرمانہ عائدکرکے8لاکھ روپے کی وصولی جہاں سنجیدہ اقدام ہے وہاں ماحولیاتی آلودگی صفائی کا خیال نہ رکھنے اور کوڑا کرکٹ محفوظ طریقے سے ٹھکانے نہ لگانے میں سرکاری اداروں کا بھی حصہ ہونا وہ افسوسناک حقیقت ہے جس کے باعث صوبے میں صحت وصفائی کا نظام درست نہیں ہو پارہا ۔ سی اینڈ ڈبلیو آفس، خیبرپختونخوا ہائی ویز اتھارٹی، وائلڈ لائف، فارسٹ اورعملے کی طرف سے صفائی کا خیال نہ رکھنے پر ان کے خلاف مزید تادیبی کارروائی کی اس لئے بھی ضرورت ہے کہ اگر سرکاری اداروں کا یہ حال ہو تو پھر عوام سے کیسے توقع کی جائے۔خیبر پختونخوا میں صفائی کا کم خیال رکھنے کا رجحان ویسے بھی زیادہ ہے اور یہ ایک ایسی معاشرتی برائی ہے جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے بنا بریں صحت وصفائی کے حوالے سے صوبے کے سکولوں میں بچوں کی ابتداء ہی سے تربیت کی ضرورت ہے تاکہ اس معاشرتی خامی پر قابو پایا جا سکے۔والدین کو نظافت کو بچوں کی گھٹی میں ڈالنے کی کوشش اور تربیت کرنے کی ضرورت ہے اس سطح سے ا بتداء کی جائے تب جا کر صوبے میں صفائی کے نظام میں بہتری ممکن ہے جہاں تک حکومتی مساعی کا تعلق ہے سیاحتی مقامات کی صفائی پر خصوصی توجہ مثبت امر ہے سیاحتی مقامات میں صفائی کا خیال نہ رکھنے پر جرمانہ کی جو رقم وصول ہوئی ہے اس کا خرچ مزید ڈسٹ بن لگانے اور سیاحتی مقامات کی صفائی ستھرائی اور سہولتوں کی فراہمی پر خرچ کیا جائے ۔

محکمہ صحت کا مثبت اقدام

محکمہ صحت کی جانب سے مہمند سے تعلق رکھنے والی بچی کی سانپ کے کاٹے سے موت سے متعلق انکوائری میںڈی ایچ او چارسدہ اور ایم ایس ٹی ایچ کیو شبقدر ہسپتال سمیت چار ڈاکٹرز کو انکے عہدوں سے تبدیل کرکے ان کیخلاف حکومت کو انضباطی کارروائی کی سفارش مثبت قدم ہے جس سے دوسرے سرکاری ملازمین اور خاص طور پر طبی عملہ کو عبرت پکڑنا چاہیئے۔حکومت کو صحت اور تعلیم کے شعبے میں خاص طور پر کوتاہی کے ارتکاب پر کسی قسم کی رعایت کامظاہرہ نہیں کرناچاہیئے ملازمین کو جب تک سخت سے سخت اقدامات کا ڈر نہ ہو رضا کارانہ طور پر اور اپنافرض سمجھ کر کم ہی وہ لوگوں پر توجہ دیتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ سرکاری ملازمین اور خاص طور پر ہسپتالوں کا بعض عملہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے کے زمرے میں آتے ہیں جب تک اس طرح کے سخت اقدامات کے ذریعے اُن کو حکومت کی سنجیدگی کا احساس نہیں دلا یا جائے گا اس وقت تک اُس قسم کے افسوسناک واقعات رونما ہوتے رہیں گے جن افسروں اور عملے کو ہٹایا گیا ہے اُن کے خلاف مزید کیا کارروائی ہوتی ہے اُس سے قطع نظر کم از کم اس امر کا تو اصولی طور پر فیصلہ کرلیا جائے کہ موجودہ دور حکومت میں اُن کو پھر کسی ایسے ذمہ دارعہدے پر تعینات نہیں کیا جائے گا جس کا تعلق براہ راست عوام سے ہو ۔توقع کی جانی چاہیئے کہ حکومت اس طر ح کے واقعات کی روک تھام کے سلسلے میں کوئی ٹھوس لائحہ عمل وضع کرے گی تاکہ اس قسم کے واقعات کا ممکنہ تدارک ہوسکے۔

متعلقہ خبریں