Daily Mashriq

اور اب آبی جارحیت

اور اب آبی جارحیت

بھارت پاکستان کے ساتھ ہر محاذ پر جنگ لڑ رہا ہے۔مقبوضہ جموں وکشمیر کی خصوصی شناخت پر وار کرنے سے بھی بھارت کی دشمنی کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی ۔یوں کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ بھارت پاکستان کے ساتھ جنگ نہیں بلکہ چھپ کر وار کر رہا ہے ۔پانی اس جنگ کا ایک اور محاذ ہے ۔حالیہ بارشوں کے دوران بھارت نے پاکستان کو مطلع کئے بغیر ڈیموں کے سپل ویز کھول کر پاکستان کے نشیبی اور جنوبی علاقوں میں سیلابی صورت حال پیدا کر دی ہے ۔سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت ایسی کسی بھی کارروائی سے پہلے پاکستان کو مطلع کرنے کا پابند ہے تاکہ پاکستان پہلے سے سیلابی صورت حال سے نمٹنے کے لئے تیار ہو ۔اس بار دونوں ملکوں میں کشیدگی عروج پر ہے اور نریندر مودی ہر محاذ اور انداز سے پاکستان کو نقصان پہنچانے پر آمادہ ہے اس لئے بھارت نے پاکستان کو رسمی طور پر بھی سپل ویز کھلونے سے آگاہ نہیں کیا ۔کشمیر کے دریائوں سے آنے والا پانی پاکستان کے لئے ایک نعمت ہے مگر بھارت اسے بھی زحمت بناکر اپنے حقیر مقاصد کی تکمیل چاہتا ہے ۔پاکستان نے بھارت کی اس حرکت کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے ورلڈ بینک سے رجوع کرنے کا عندیہ دیا ہے جو سندھ طاس معاہدے کا ضامن اور سہولت کار ہے ۔ بھارت نے ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت ایک ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد سپ ویز کھولے تاکہ پاکستان میں سیلابی صورت حال پیدا ہو اور فصلیں تباہ ہوں ۔ایسا ہی ہوا کہ پنجاب اور سندھ میں فصلیں زیر آب آگئیں اور سول انتظامیہ کو فوج کی مدد حاصل کرنا پڑی ۔واشنگٹن ڈی سی کے تھنک ٹینک ورلڈ ریسورسز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق پاکستان سمیت دنیا میں تقریباََ چار سو ایسے علاقے ہیں جہاںکے رہنے والے شدید آبی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی آبادی ،گوشت خوری میں اضافہ اور بڑھتی ہوئی اقتصادی سرگرمیوں نے پانی کے ذخائر پر دبائو بڑھا دیا ہے ۔خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پانی سے کروڑوں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا جائے گا اور اس وجہ سے عدم استحکام اور کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔اس طویل تحقیقی رپورٹ کا لب لباب یہ ہے کہ آنے والے وقتوں میں پانی بھی جنگ وجدل کی بنیاد بن سکتا ہے۔ہم جس خطے میں رہ رہے ہیں وہاں پانی پر ایک خوفناک جنگ کی پیش گوئی کی جارہی ہے ۔اس کی وجہ بھار ت کے رویے کو قرار دیا جارہا ہے۔اہل پاکستان کو یہ خدشہ رہا ہے کہ بھارت پاکستان کے پانیوں کو روک کر اسے بنجر بنا سکتا ہے ۔بھارت پاکستان کا پانی روک کر اسے بنجر بنا سکتا ہے یا نہیں مگر ہمیشہ سے بھارتیوں کے ذہن میں پاکستان کے خلاف فیصلہ کن اقدامات میں’’ واٹر کارڈ ‘‘کا استعمال بھی شامل رہا ہے ۔ٹیر ر کارڈکی طرح یہ بھی ایک جارحانہ حکمت عملی کا حصہ ہے۔اوڑی حملوں اور جنرل اسمبلی کی گرماگرمی کے بعد دونوں ملکوں میں کشیدگی کا ایک نیا دور شروع ہو گیا ہے اور بھارت نے اس مرحلے پر پاکستان کے خلاف کھلی جارحیت سے لے کر آبی جارحیت جیسے اقدامات تک ہر کارڈ استعمال کرنے پر غور شروع کیا ہے ۔مگر یوں لگتا ہے کہ بھارت کی ہر جارحانہ سوچ کچھ عملی مشکلات اور زمینی حقائق کی وجہ سے اس کے ارادوں اور منصوبوں کا مذاق اُڑاتی ہیں ۔بھارت پاکستان پر کھلی جنگ مسلط کرتا ہے تو اس کی فوج اور دفاعی ماہرین کو جوابی وار کا خوف کھائے جا رہا ہے اور جوابی وار ایٹمی ہونے کا تصور ان کے سوہانِ روح بن رہا ہے ۔اسی طرح آبی جارحیت کا منصوبہ بھی بھارت کے گلے پڑتا جا رہا ہے ۔نریندرمودی نے چند برس پہلے دہلی میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے سندھ طاس معاہدے پر نظر ثانی اور پاکستان کے حصے کے پانیوں کو روک کر اسے بنجر بنانے کی حکمت عملی پر مشاورت کی تھی تو رپورٹس کے مطابق اجلاس میں اکثر ماہرین نے اس منصوبے کو قطعی ناممکن اور ناقابل عمل قرار دیا تھا ۔ان بھارتی ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ ایک بین الاقوامی معاہدے کی خلاف ورزی ہو گی جس پر عالمی سطح پر شدید ہو سکتا ہے ۔سندھ طاس معاہدے سے دستبردار ہونا ایک قانونی معاہدے سے انحراف اور بین الاقوامی قانون کی نفی تصور ہوگا ۔ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت کی چھتیس فیصد آبی ضروریات کو پورا کرنے والا دریا برہم پترا چین سے آتا ہے اور چین اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا کوئی معاہدہ نہیں ۔پاکستان کا پانی روکنے کی بناپر چین بھی بھارت کا پانی روک کر اسے شدید مشکلات کا شکار بنا سکتا ہے۔ماہرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کا پانی روکنے سے مقبوضہ کشمیر اور مشرقی پنجاب میں سیلاب سے شدید تباہی پھیل سکتی ہے۔یہ وہی اجلاس تھا جس میں نریندر مودی کا کہنا تھا کہ پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے۔تاہم اس اجلاس میں بھارت نے تلبل ڈیم کی تعمیر دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جس پر پاکستان کے اعتراضات کے بعد 2007میں کام روک دیا گیا تھا ۔پاکستان کے دفاعی اور تجزیاتی ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ بھارت پاکستان کے خلاف پانی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا ایک کارڈ رکھتا ہے اور وقت آنے پر بھارت یہ کارڈ استعمال بھی کر سکتا ہے مگر بعض خوش فہم عناصر کو بھارت کے اس حد تک جانے کا یقین نہیں تھا ۔ جب بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے چند سال قبل اس کارڈ کو استعمال کرنے کے ممکنہ طریقوں پر اعلانیہ غور کیا تو یہ ان خوش فہم عناصر کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا ۔پاکستان کے لئے بھارت کا بُغض قدم قدم پر پوری طرح عیاں ہو چکا ہے ۔بھارت کے عزائم اور ارادوں کو وادی کشمیر کے میدانوں میں نکیل ڈالے رکھنے والے نوجوان حقیقت میں پاکستان کی ہی جنگ لڑ رہے ہیں اور بھارت اس حقیقت سے غافل نہیں ۔بھارتی حکومت کے ظالمانہ اور عاجلانہ فیصلوں کے باعث اس وقت کشمیری عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں تو پاکستان کو اپنی پوری توانائی اپنے ان عشاق اور محسن عوام کی مشکلات کو کم کرنے کے لئے وقف کرنا چاہئے۔

متعلقہ خبریں