Daily Mashriq

میں ڈوبنے کا گلہ ناخدا سے کیا کرتا

میں ڈوبنے کا گلہ ناخدا سے کیا کرتا

ایک بہت ہی مشہور فلمی گانا ہے اس کے مکھڑے کو آکر پیسکو والوں کی تازہ’’واردات‘‘ پر منطبق کیا جائے تو شاید بے جا نہ ہوگا۔پیسکووالوں نے ایک صارف کو جو بل ارسال کیا ہے اس کے حوالے سے محولہ فلمی گیت کے مکھڑے میں تھوڑی سی ترمیم سے بات شاید واضح ہوجائے کہ

’’اشاروں،کنایوں میں بل دینے والے‘‘

ذرا یہ بتا تو نے سیکھا کہاں سے؟

بجلی بل میں ایک صارف کو میٹر ریڈنگ کی تصویر میں استعمال شدہ یونٹوں کی جگہ کتے کی تصویر لگا کر بل ارسال کردیا گیا ہے، خبر اخبار میں چھپی تو پیسکو کے ترجمان اور ہمارے محترم دوست شوکت افضل نے وضاحت کرتے ہوئے جواز دیا ہے کہ دراصل بل میں کتے کی تصویر لگانے سے متعلقہ صارف کے گھر کے باہر ایک کتے کی موجودگی کا احساس دلانا مقصود ہے،یعنی بے چارہ میٹر ریڈر گھر کے دروازے پر ایک کتے کی وجہ سے ریڈنگ کرنے میں دقت محسوس کر رہا تھا اور ریڈنگ لیئے بغیر ہی واپس چلا آیا۔ڈی جی پبلک ریلیشنز پیسکو شوکت افضل نے موقف اختیار کیا ہے کہ کتے کی وجہ سے میٹر ریڈر یونٹس کا تعین کرنے میں ناکام ہوگیا تھا اس لئے بل پر کتے کی تصویر رولز کے مطابق لگائی گئی ہے ادھر ایک اور خبر کے مطابق سوئی ناردرن گیس والوں نے بھی ریڈنگ کی جگہ دیوار کی تصویر لگا کر بل شہری کو بھجوادیا ،جس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ گیس کے صارف کو سوئی ناردرن والے’’نوشتہ دیوار‘‘ پڑھوانا چاہتے ہوں گے ،تاہم فی الحال تو پیسکو کے کتے کی تصویر سے مزین بل پر بات ہوجائے،یعنی اگر متعلقہ صارف نے جان بوجھ کر اپنے گھر کے باہر کوئی خونخوار کتا چھوڑ رکھا ہے جو ایک بہت پرانے دور کے ایک پشاوری باشندے نے فارسی ہندکو رلی ملی زبان میں اپنے ہمسائے کے گلی کے اندر بندھے ہوئے گھوڑے کے آنے جانے والوں کو لاتیں رسید کرنے کی حرکت سے تنگ آکر فارسی وان ہمسائے سے شکایت کرتے ہوئے کہا تھا’’اوئے آغا،ای چہ کردہ ای،گھوڑا درگلی اچ بستہ ای،آندے جاندے نوں لت می زند‘‘ بالکل اسی طرح پیسکووالوں نے بھی متعلقہ صارف کو تصویر کی زبان میں سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ’’تمہارا کتا گھر کے قریب بھٹکنے والوں پر غپ غپ کر کے انہیں بھگا دیتا ہے‘‘گویا دوسرے الفاظ میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ گھر کے مالک نے ان مغربی اقوام کی طرح کتے کو گھر کے باہر باندھ کر یہ سمجھا دیا ہے کہ کتوں کا گھر میں داخلہ ممنوع ہے،تاہم ہوتا یوں ہے کہ مغربی دنیا میںکتوں اور بلیوں سے پیار ایک معمول کی عام سی بات ہے،البتہ جن گھروں میں بلیاں پالی جاتی ہیں ان گھروں کے دروازوں پر بلی کے چہرے والی شبیہہ سے مزین سٹیل کی چھوٹی سے پلیٹ(نیم پلیٹ کی طرز پر) لگی ہوتی ہے اورایسے گھروں کے اندر کتوں کا داخلہ ممنوع ہوتا ہے البتہ جن مہمانوں کے ساتھ ان کے پالتو کتے بھی ہوتے ہیں ان کو باندھنے کی سہولت دروازوں پر چار پانچ کنڈوں کی صورت بھی موجود ہوتی ہے تاکہ مہمان اپنے کتوں کی زنجیران کنڈوں کے ساتھ نتھی کر کے سہولت سے اندر جا سکیں۔اب یہ الگ بات ہے کہ یہاں معاملہ ہی کچھ اور لگ رہا ہے یعنی بقول انشاء اللہ خان انشاء

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی

مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

کہنے کا مقصد بس اتنا ہے کہ بجلی کے صارف نے کتے کو اپنے گھر کے باہر چھوڑ تو رکھا ہے لیکن ایسے کہ اسے کسی’’قاعدے قانون‘‘ کا پابند بنانے یعنی کسی زنجیر سے باندھنے کی بجائے کھلا چھوڑدیا ہے جو آندے جاندے نو غپ غپ غپ ،یعنی بقول شاعر

ایسی فضا کے قہر میں،ایسی ہوا کے زہر میں

زندہ ہیں ایسے شہر میں اور کمال کیا کریں

اب بے چارہ میٹر ریڈر گھر کے اندر تو داخل ہونے کی اجازت طلب کر رہا تھا،صرف میٹر ریڈنگ کے حوالے سے یونٹس کی تصویر اتارنا چاہتا تھا،مگر انگریز دور کے ان احکامات کی زد میں آگیا،جب نائٹ کلبوں کے باہر’’انگریز بہادر بطور حکمران‘‘اپنی رعایا کیلئے ایسے بورڈ آویزاں کرتا رہتا تھا کہ’’کتوںاور کالوں کا داخلہ ممنوع ہے‘‘باوجود اس کے کہ کلبوں کے اندر کام کرنے والے ویٹرز بھی غلام قوم کے’’کالے ہیں تو کیا ہوا دل والے ہیں‘‘۔کیونکہ غلاموں کو صرف حکم بجالانے کی اجازت تھی سوال کرنے کی نہیں۔اس لیئے اگر میٹر ریڈر نے بجلی کے بل پر کتے کی تصویر لگا کر بل بھیج دیا ہے تو اصولاً صارف کو اب یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بل کی ریڈنگ پر اعتراض کرے یہ کہہ کر کہ

پکڑے جاتے ہیں’’فرشتوں‘‘کے لکھے پر ناحق

آدمی کوئی ہمارا دم تحریر بھی تھا؟

تھا تو ،مگر وہ آدمی نہیںبلکہ ایک کتا تھا جو خود صارف نے کھلا چھوڑ رکھا تھااور آنے جانے والوں پر بھونکتا بھی تھا بلکہ عین ممکن ہے کہ کوئی زیادہ جیدار ہونے کی کوشش کرکے قریب ہوتا تو اس پر حملہ آور بھی ہوسکتا تھااور چونکہ آج کل ہسپتالوں کے حوالے سے ملنے والی خبروں میں مختلف ویکسین کی عدم دستیابی کا تذکرہ لوگوں میں تشویش بڑھانے کا سبب بن رہا ہے ،جیسے کہ ایک بچی کو سانپ کے کاٹے کی ویکیسن بروقت نہ لگانے کی وجہ سے بے چاری رحلت کر گئی اس لیئے ایسے میں میٹر ریڈر کتے کے قریب ہونے کا ’’خطرہ 440 وولٹ‘‘ کیونکر برداشت کرسکتا تھا،اس لیئے اب’’بل‘‘ بھگتنے کے سوا صارف کے پاس اور کوئی چارہ نہیں ہے

میں ڈوبنے کا گلہ ناخدا سے کیا کرتا

کہ چھید میں نے کیا تھا خود اپنی نائو میں

متعلقہ خبریں