Daily Mashriq

کٹ جاتی ہیں زنجیریں

کٹ جاتی ہیں زنجیریں

آج غلاموں کی تجارت کا شکار ہونے والے افراد کو یاد کرنے کا عالمی دن ہے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے تعلیم ،سائنس اور ثقافت (یونیسکو)نے1997 سے اس اس دن کو منانے کا آغاز کیا۔ جو ہر سال اگست کے مہینے کی 23تاریخ کو پاکستان سمیت ساری دنیا میں منا یا جاتا ہے۔ اپنے سے کمزور اور بے بس لوگوں کو غلامی کہ زنجیروں میں جکڑ کر ان پر اپنی مرضی ٹھو نسنے اور حکم چلانے کا رواج یا رویہ قبل از تاریخ کے ادوار میں بھی بڑا نمایاں اور واضح انداز میںنظر آتا ہے اور ان کو گرفتار کرنے پنجروں میںبند کرنے ، ان سے جبری مشقت کرانے اور ان کی تجارت کرنے کے شواہد بھی ہماری نظروں سے گزرتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ ہر غلام نیگرو نسل سے تعلق رکھتا ہو۔ حسین و جمیل پیغمبر خدا حضرت یوسف علیہ السلام کا غلام بن کر مصر کے بازار میں پہنچنا اور ان کا نیلام ہوکر زلیخا کے ہاتھ چڑھنا ا ور اس کی نفسانی خواہشات کی تعمیل نہ کرکے فرعون مصر کے قید خانہ میں بند ہوجا نا قبل از تاریخ کے دوران غلام بنانے کے انسانیت سوز سلوک کے علاوہ غلاموں کی تجارت کے رواج کی روشن اور ناقابل تردید مثال سمجھی جا سکتی ہے۔ ہمارے ہاں عقل و شعور سے عاری ڈھور ڈنگر یا پالتو یا سدھائے ہوئے جانور بھی ہمارے زر خرید غلاموں جیسے ہوتے ہیں جن سے ہم ہر وہ کام لیتے ہیں جن کو انجام دینا ہمارے بس کا روگ نہیں ہوتا۔ جانور بے چارے ذہنی طور پر پسماندہ اور بے زبان ہونے کی وجہ سے آزادی کی قدرو قیمت سے واقف نہیں ہوتے ، مگر پھر بھی جیسے ہی ان کو اس بات کا اندازہ ہوجاتا ہے کہ ان کا مالک یا آقا ان پر ظلم اور زیادتی کر رہا ہے تو وہ بھی بغاوت پر اتر آتے ہیں۔ کیا آپ نے دولتیاں جھاڑتے جفا کش مگر نامعقول اور نا فرمان گدھے کو نہیں دیکھا۔ ایسی بہت سی مثالیں ہیں ، جو ہمیں اپنے موضوع سے ہٹانے کا باعث بن سکتی ہیں۔ نور اسلام سے پہلے زر خرید لونڈیوں اور غلاموں کا رواج عام تھا لیکن جب محسن انسانیت ﷺ منبع رشد و ہدایت بن کر جلوہ افروز ہوئے تو انہوں نے زر خرید غلاموں کو آزاد کرنے کی بے مثال گرہ ڈالی۔ داعی اسلام کے اولین مؤذن حضرت بلال ؓ حبشی کہنے کو تو آقا کملی والے کے غلام تھے ، لیکن ان پر ان کے آقا کی خاص نظرکرم تھی۔آپ حضور نبی کریم ﷺ کے ایسے غلام تھے جن کو نبی محترم ﷺ نے سب سے پہلے جنت میں داخل ہونے کی بشارت دی۔ ’’آقا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ آپ سے پہلے میں جنت میں داخل ہوجاؤں ؟ ‘‘ ارے نادان تونے میری اونٹنی کی مہار پکڑ رکھی ہوگی ، اس لئے مجھ سے پہلے تو ہی جنت میں داخل ہوگا۔ سلام ان پر درود ان پر جو اس فانی دنیا سے پردہ کرتے وقت بھی ارشاد فرما رہے تھے۔ کہ ’’نماز نماز نماز۔ لونڈی غلام کا لحاظ‘‘۔

سلام ان پر جنہوں نے بادشاہی میں فقیری کی

سلام ان پر جنہوں نے بے کسوں کی دستگیری کی

ہم فخر ناز اور خوشی محسوس کرتے ہیں آقا کملی والے ﷺ کی غلامی پر اور لعنت بھیجتے ہیں مودی بہ یک نکتہ موذی جیسے اسلام دشمن کی ان حرکات پر جو کشمیریوں کو طوق غلامی پہنا کر جہاں بھر کی لعنتوں اور پھٹکار کا حقدار بن رہا ہے۔ یورپ میں بے بس اور مجبور انسانوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کی تجارت کی روش بہت پرانی ہے۔ اگر چہ برطانیہ میں اس تجارت پر1807ء میں پابندی لگا دی گئی لیکن اس سے پہلے یہ مذموم دھندہ زور و شور سے جاری رہا۔ ایک حوالہ کے مطابق گزشتہ چار سو سالوں کے دوران ایک کروڑ20 لاکھ افریقیوں کو جہازوں کی نچلی منزلوں میں بنے 150سنٹی میٹر اونچائی کے کمروں میں جانوروں کی طرح ٹھونس کر امریکہ منتقل کیا جا تا رہا۔ ایک ایسے ہی بحری جہاز کے کپتان نے اپنے روزنامچے میں لکھا ہے کہ جہاز کے تہہ خانے کے کمروں میں منتقل کئے جانے والے غلام جگہ کم ہونے کی وجہ سے آپس میں چپک کر سفر کرتے تھے ، اورجو لوگ اس اذیت ناک سفر کے دوران دم گھٹنے یا بیمار ہونے سے مرجاتے ا نہیں سمندر میں پھینک دیا جاتاتھا۔ جس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز تاجروں نے بر صغیر پر قبضہ کرکے ہندوستان کے باشندوں کو طوق غلامی پہنانا شروع کیا تو حیدر علی اور شیر میسور ٹیپوسلطان نے ان کے خلاف نہ صرف نعرہ تکبیر بلند کیا ، بلکہ ٹیپو سلطان ’’گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے ، شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے‘‘ کی للکارلگا کر میدان کار زار میں کودکر جام شہادت نوش کرگیا ، ٹیپو سلطان اس تحریک آزادی کا پہلا بڑاشہید تھا جسے ہم تحریک آزادی پاکستان کے نام سے یاد کرتے ہیں ، ہمارے بزرگوں نے انگریزوں کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کے لئے اپنی جان و مال کی بے مثال قربانیاں دیں ، یہ ملک دو قومی نظریات کی بنیاد پر نہ صرف تاج برطانیہ کی غلامی سے نجات حاصل کرسکا ، بلکہ اہل ہنود کے اس چنگل سے بھی آزاد ہوگیا جسے نہرو اور گاندھی سیکولرازم کا نام دے رہے تھے، جو مسلمان ان کے جھانسے میں آکر وہیں رہ گئے آج ان کی تعداد25کروڑ بتائی جاتی ہے جو وہاں پر نریندر مودی اور اس کی پارٹی کے پیدا کرد گھٹن بھرے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں ،انہیں ہندوانہ انتہا پسندی اور مذہبی منافرت بھرے ماحول میں برستی گولیوں کی بوچھاڑ میں مظلوم کشمیریوں کے ’’ ہم کو کیا چاہئے ، آزادی ‘‘ کے نعرے اس بات کے غماز ہیں کہ غلاموں کی تجارت تو اپنی جگہ کسی کلمہ گو مسلمان کو غلامی کی زنجیریں پہنا ئے رکھنا اتنا آسان نہیں کہ

غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں

جو ہو ذوق یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں

متعلقہ خبریں