Daily Mashriq

مسلم اُمہ اور قومی ریاستیں

مسلم اُمہ اور قومی ریاستیں

بہت سے پاکستانیوں کی توقعات کے بر عکس، مسئلہ کشمیر میں ہماری مدد کرنے کو مسلم امہ کے جری لیڈر اپنی چمکتی تلواریں لیے ہماری مدد کو آئے اور نہ ہی ان کے عربی النسل گھوڑے ہماری نصرت کو خطہ عرب سے نکلے۔ ہم چاہے اپنے نسیم حجازی، زید حامداور پی ٹی وی کے ڈراموں کو جتنا مرضی سنجیدہ لے لیں، اصل دنیا ہماری ان خوابوں کی جنت سے بہت مختلف ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہمیں اس حقیقت سے اس شخصیت نے روشناس کرایا کہ جو ہمیں اسی جنت میں رکھنے کے ماہر رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے قوم پر یہ افشاء کیا: ’’ عوام کو احمقوں کی جنت سے باہر آنا ہوگا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں کوئی بھی ہمارے لیے پھولوں کے ہار لے کر کھڑا نہیں ہوگا۔ امت کے محافظ بھی اپنے معاشی مفادات کی وجہ سے کشمیر کے معاملے میںپاکستان کی حمایت میں ساتھ نہیں ۔ پوری دنیا کے بھارت میں اپنے مفادات ہیں کہ بھارت ایک ارب لوگوں کی منڈی ہے۔ہم اکثر امت اور اس کے نگہبانوں کی بات کرتے ہیں مگر ان کے بھی وہاں مفادات ہیں، انہوں نے بھی وہاں بڑی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ ‘‘ شاہ محمود قریشی نے لگی لپٹی رکھے بغیر، ایک غیر سفارتی مگر تلخ بیان سے ہمیں اس احمقوں کی جنت سے نکال باہر کیا ہے جو ہم نے اپنے ارد گرد بنا رکھی تھی۔پاکستانی میڈیا ایک مرتبہ پھر اتحاد اُمت پر بحث کر رہا ہے، بہت سے لوگ مسلم حکمرانوں کے رویے پر اسی قسم کے جذبات اور ہیجان کا اظہار کر رہے ہیں جیسا کہ شاہ محمود قریشی نے کیا۔ اب تو لوگ یہ سوال کرنے لگے ہیں کہ کیا امت نام کی کوئی چیز اصل میں وجود بھی رکھتی ہے یا نہیں۔

یہ بات ہمیںسمجھنا ہوگی کہ مذہب اپنے ماننے والوں کو ایک پہچان دیتا ہے۔ یہ مختلف ثقافت، ورثے اور روایات کے امین لوگوں کو یکجا کرتا ہے ۔گو کہ مذہبی نظریات ترقی یافتہ ممالک میں بھی سیاست پر اثرانداز ہوتے ہیں البتہ مذہب کی بنیاد پر بنی برادری کسی طور بھی ایک خود مختارسیاسی اکائی نہیں بن سکتی بلکہ یہ صرف اور صرف قومی ریاست کے اندر اور قومی ریاستوں کے مابین سیاسی دباؤ کا کردار ادا کرتی ہے۔ قومی ریاستوں کے نزدیک انسانی تاریخ میں تخلیق پائے جانے والے تمام سیاسی گرو ہ نہایت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ البتہ قومی ریاستیں مذہب کے حوالے سے ایک خاص حسد رکھتی ہیں کہ مذہب اپنے ماننے والوں کی وفاداری کا بڑا دعویدار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قومی ریاستوں نے یا تو ہمیشہ مذہب کو دبانے کی کوشش کی یا پھر اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی راہ اپنائی۔ ہر قومی ریاست مذہب کے اثر و رسوخ اور قدیم علامات کو ریاست اور اس کے شہریوں کے درمیان ایک جذباتی تعلق پیدا کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ان علامات میں جھنڈے، ترانے، مقبرے اور مینار شامل ہیں۔ آپ کسی بھی قومی ریاست کے بارے میں تحقیق کر کے دیکھ لیں، آپ اس کی بنیاد میں مذہب کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال ہوتا پائیں گے۔ اب تو یہ رنگ بدلتی جدید دنیا قدیم قبائلی معاشروں کی یاددلاتی ہے جہاں اپنے قبیلے سے باہر پہچان، وفاداری یا نظم کا وجود تک نہ ہوتا تھا۔ آج کی دنیا میں بھی قومی ریاستوں سے باہر کسی کے ساتھ وفاداری خال خال ہی نظر آتی ہے اور یہ بھی مفادات کے بدل جانے پر تبدیل ہو جاتی ہے۔ بہت سے پاکستانیوں کی خام خیالی ہے کہ امت مسلمہ کی صورت میں ایک سیاسی اکائی وجود رکھتی ہے اور اگر یہ فل وقت نہیں پائی جاتی تو خلافت کا ادارہ قائم کر کے اسے وجود میں لایا جا سکتا ہے اور مضحکہ خیز طور پر وہ خود کو اس قسم کے نظام میں قیادت کا حقدار بھی سمجھتے ہیں۔ یہ خام خیالی کچھ نئی نہیں۔ آزادی سے قبل بھی مذہب اور سیاسی پہچان، نظریہ پاکستان کے سائے میں یکجان ہوگئی تھی۔ البتہ علامہ اقبال نے آلہ باد میں جغرافیائی بنیادوں پر ایک قومی ریاست کے وجود کی بات کی تھی، نہ کہ کسی مذہبی ریاست یا خلافت عثمانیہ کی طرز کے نظام ملت کی، جس کی بہرحال،جمعیت علماء ہند ہمیشہ مدح سرا رہی ہے۔

اقبال نے فرمایا تھا’’ برصغیر میں مختلف النسل انسانی گروہ رہتے ہیں جو مختلف زبانیں بولتے ہیں اور مختلف مذاہب کی پیروی کرتے ہیں۔ ذاتی طور پر میں پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبے، سندھ اور بلوچستان کو ایک ریاست میں ضم ہوتے دیکھنا چاہتا ہوں۔ برطانوی سامراج کے زیر انصرام یا ان کے بغیر بھی اندرونی طور پر خود مختار حکومت کے ساتھ ایک شمال مغربی انڈین مسلم ریاست میرے نزدیک مسلمانوں کی منزل نظر ہے ، یاکم از کم شمال مغربی انڈیا کی۔ ‘‘پاکستان 47مسلم اکثریتی ممالک میں سے ایک ہے جس کی اپنی زبان، ثقافت، جغرافیہ اور قومی مفادات ہیں۔ ان تمام ممالک کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ تاریخی اور مذہبی پس منظر کے باعث قلبی تعلق رکھتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان کے ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں