Daily Mashriq

فیس بک نے میانمار ’فوج‘ کے اکاؤنٹس بھی غیر فعال کردیے

فیس بک نے میانمار ’فوج‘ کے اکاؤنٹس بھی غیر فعال کردیے

سماجی رابطوں کی مقبول ترین ویب سائٹ فیس بک کی انتظامیہ نے میانمار میں 216 سوشل میڈیا پیجز، گروپس اور اکاؤنٹس کو غیر فعال کردیا۔

برطانوی خبررساں ادارے رائٹرز کے مطابق غیر فعال کیے گئے بعض اکاؤنٹس میانمار فوج کے تھے، جس میں معلومات مسخ کرکے پیش کی جارہی تھی۔

اس حوالے سے فیس بک انتظامیہ نے اپنے بلاگ میں واضح کیا کہ کمپنی نے میانمار میں 89 فیس بک اکاؤنٹس، 107 پیجز، 15 گروپس اور 5 انسٹا گرام اکاؤنٹس کو غیر فعال کیا۔

انتظامیہ کے مطابق بعض اکاؤنٹس کو فالو کرنے والوں کی تعداد لاکھوں میں تھی۔

اس سے قبل فیس بک نے میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد اور نفرت پر مبنی مواد پھیلانے پر میانمار کے آرمی چیف سمیت سیکڑوں اکاؤنٹس کو غیر فعال کیا تھا۔

اس ضمن میں کہا گیا کہ میانمار میں جن لوگوں کے سوشل میڈیا اکاؤٹنس غیر فعال کیے گئے، انہوں نے اپنی شناخت تبدیل کرکے دوبارہ خبریں اور انٹرٹینمنٹ مواد شیئر کرنا شروع کردیا تھا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ کے مطابق ’انہوں نے قومی اور مقامی موضوعات بشمول جرائم، نسلی تعلقات، شوبز شخصیات اور فوج کے بارے میں مواد شائع کیا‘۔

خیال رہے کہ گزشتہ برس 28 اگست کو فیس بک نے یانمار میں نفرت انگیز تقاریر اور غلط معلومات پھیلانے والے 18 اکاؤنٹس، 52 پیجز اور ایک انسٹاگرام اکاؤنٹ کو غیرفعال کردیا تھا، ان اکاؤنٹس اور پیجز کو ایک کروڑ 20 لاکھ افراد فالو کررہے تھے۔

فیس بک انتظامیہ نے میانمار کے آرمی چیف من اونگ ہلینگ سمیت اعلیٰ فوجی حکام کے اکاؤنٹ بھی بند کردیے تھے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کونسل کے ساتھ کام کرنے والے عالمی ماہرین نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا تھا کہ میانمار میں ریاستی سطح پر انسانی حقوق کی پامالی ہوئی ہے، جس میں سینئر فوجی حکام سمیت دیگر گروپس شامل ہیں۔

خیال رہے کہ 2017 میں میانمار کی راخائن ریاست میں فوج کارروائی کے دوران ہزاروں افراد کی نسل کشی کی گئی تھی جبکہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے مطابق اس کریک ڈاؤن نے 7 لاکھ 30 ہزار روہنگاؤں کو پڑوسی بنگلہ دیش منتقل ہونے پر مجبور کردیا تھا۔

علاوہ ازیں اقوام متحدہ نے روہنگیا میں پرتشدد واقعات کے لیے ’جینوسائڈ ‘(نسل کشی) کا لفظ استعمال کیا تھا، جسے غیر اہم واقعات کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔

ساتھ ہی اس تمام معاملے کو دیکھنے والے تفتیش کاروں نے کہا تھا کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کیے گئے جرائم نسل کشی کی قانونی تعریف پر پورا اترتے ہیں، جیسے بوسنیا اور روانڈا میں تقریباً ایک صدی قبل ہونے والے جرائم تھے۔

متعلقہ خبریں