Daily Mashriq


وزیر داخلہ کا افغان حکام کو صائب مشورہ

وزیر داخلہ کا افغان حکام کو صائب مشورہ

وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے پاک افغان سرحد پر کھڑے ہوکر افغانستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم دوستی کے حوالے سے ہر بات ماننے کے لیے تیار ہیں، لیکن غیروں کی ڈور ہلانے پر پاکستان کے خلاف الزامات ناقابل قبول ہیں، پاکستانی قوم نہ پہلے دباؤ میں آئی ہے اور نہ اب آئے گی۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ''دہشت گرد وہاں سے دن دیہاڑے یہاں آتے ہیں، لیکن ہم افغانستان سے کیے گئے وعدے کے مطابق اس کی تشہیر نہیں کرتے اور سارا پریشر ہماری سیکورٹی ایجنسیز برداشت کرتی ہیں، لیکن افغانستان سے ہمارے ناکردہ گناہوں کی بھی تشہیر کردی جاتی ہے''۔پاکستان کی جانب سے پاک افغان بارڈر مینجمنٹ کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس سے2 ہزار400 کلومیٹرز سے زائد پر مشتمل پاک افغان سرحدپر چھ سات ماہ سے کافی بہتری آئی ہے۔پاکستان سرحدی انتظامات کے حوالے سے مزید اقدامات کررہا ہے جس کے تحت 2020ء تک پاک افغان سرحد پر صرف 6کنٹرولڈروٹس ہوں گے۔بارڈر مینجمنٹ کے سلسلے میں سب سے اہم فیصلہ یہ تھا کہ فوج کو ہٹا کر ایف سی کو سرحدوں پر لایا جائے اور اگلے سال جولائی تک ایف سی کے نئے ونگز آپریشنل ہوجائیں گے تاکہ دہشت گردوں کے غیر مخصوص روٹس کے استعمال کو روکا جاسکے۔پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحدی علاقوں کے انتظامات کو مربوط بنانے کے عمل کی اصولی طور پر افغان حکام کو دست اعانت آگے بڑھانے کی ضرورت تھی مگر افغانستان کی جانب سے اس کا خیر مقدم کیا جانا تو درکنار سرحدی انتظامات میں بہتری کے اقدامات کی مزاحمت تک کی گئی۔ اگر افغانستان کی حکومت بھی اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اپنی سرحدوں پر آمد و رفت کو با ضابطہ بنانے میں تعاون کرتی تو لوگوں کی آمد و رفت میں بے ضابطگیوں کے باعث پیدا ہونے والی مشکلات کی شکایت باقی نہ رہتی۔ یہ درست ہے کہ پاک افغان سرحد پر دستاویزات کی پابندی سرحد کے دونوں پار افراد کے لئے مشکلات کا باعث ضرور ہوگی لیکن اعتماد سازی اور نا پسندیدہ عناصر کی آمد و رفت کی روک تھام اور آنے جانے والوںکی جانچ پڑتال دونوں ممالک کی سلامتی کی اب ضرورت بن گئی ہے۔ خاص طور پر پاکستان میں دہشت گردوں کی کارروائیوں کی بیخ کنی کے لئے افغانستان سے دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی آمد و رفت کی روک تھام کی ضرورت ہے۔ سرحدی انتظامات کو باضابطہ بنانے سے پاک افغان تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو مشکلات ہیں جس کے حل کے لئے طرفین کو مل بیٹھ کر راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان سے آنے والے مریضوں کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے اور حقیقی طور پر بیمار افراد ہی کو داخلے کی اجازت دینے کے لئے طورخم سرحد پر دو مستند ڈاکٹروں کی تقرری کرکے اچھا اقدام کیا ہے۔ علاوہ ازیں پاکستانی خواتین سے شادی کرنے والے افغان مردوں کو طویل المدتی ویزے دینے پر بھی غور وخوض جاری ہے۔ اسی طرح اگر دونوں ممالک ایک دوسرے کے ہاں کاروبار و ملازمت کرنے والوں کو ورک ویزا دینے پر اتفاق کرلیں تو لوگوں کو آسانی ہوگی اور سرحدی حکام کو بھی آسانی ہوگی۔ جہاں تک دو ہزار چار سو کلو میٹر سے زائد پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے اور 2020ء تک صرف چھ کنٹرولڈ روٹس پر آمد و رفت کو یقینی بنانے کاسوال ہے۔ یہ نہایت اہمیت کا حامل امر اور بڑی کامیابی ہوگی اس کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں رخنہ گرداننے کی بجائے ایک ملکی وعالمی ضرورت اور قوانین کے تقاضے گردانے جائیں اور نیک نیتی کا مظاہرہ کیاجائے تو دونوں ممالک کے حق میں بہتر ہوگا۔ خاص طور پر افغان حکومت اور افغان عوام کو اس پر معترض ہونے کی بجائے اس پر عملدرآمد کی حمایت کی ضرورت ہے ۔جہاں تک غلط فہمیوں کا سوال ہے ان کو دور کرنے کے لئے بھی دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت اور نقل و حمل کو مربوط اور باضابطہ بنانے کی ضرورت ہے۔ جہاں تک افغانستان کی طرف سے الزام تراشیوںکا تعلق ہے حامدکرزئی کے دور حکومت میں تو یہ عروج پر تھیں البتہ موجودہ صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی ابتداء کی تھی اور پاکستان نے بھی ان کا مثبت جواب دیا تھا مگر ایسا لگتا ہے کہ دونوں ممالک نے ایک دوسرے سے شاید غیر حقیقت پسندانہ توقعات وابستہ کرلی تھیں جس کے باعث قریب آنے والوں میں دوریاں بڑھ گئیں اور آج افغانستان کی حکومت ایک مرتبہ پھر روایتی لب و لہجہ اختیار کرچکی ہے اور اپنی داخلی ناکامیوں اور عدم استحکام کا الزام پاکستان کے سر تھوپنے میں ذرا تامل کا مظاہرہ نہیں کر رہا۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ افغانستان کی بعض شکایات درست اور بہت سی غلط فہمیوں اور بہکاوے کے باعث ہوں گی اس لئے تعلقات میں بہتری لانے کے لئے افغان حکام کو چاہئے کہ وہ پاکستان پر عادتاً انگشت نمائی کا رویہ ترک کرکے حقیقت پسندانہ کردار اپنائیں۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے پاکستان کو بھی افغانستان سے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے دینے سمیت کئی قسم کی شکایات ہیں جن پر باہم مل بیٹھ کر باضابطہ بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان نے برملا افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک سے افغانستان میں تشددکی کارروائیوں سے گریز کی اپیل کرکے بہت ساری غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے کا سنجیدہ اقدام کیا ہے۔ ان تمام حالات و واقعات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ دونوں ممالک مربوط کوششوں کا راستہ اپنائیں تاکہ خطے میں دہشت گردی اور قیام امن کے دشمنوں کو مل جل کر ناکام بنایا جائے اور جب تک یہ منزل نہیں آتی طرفین کے درمیان اعتماد کے تعلقات کا قیام خواب ہی رہے گا۔

متعلقہ خبریں