Daily Mashriq


نیب کی دریا دلی

نیب کی دریا دلی

قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سپریم کورٹ کی جانب سے واضح تحفظات کے باوجود سیکریٹری خزانہ بلوچستان مشتاق احمد رئیسانی اور صوبائی مشیر خزانہ خالد لانگو کے فرنٹ مین سہیل مجید شاہ کی اربوں روپے کے کرپشن سکینڈل میں پلی بارگین کی درخواست کی منظوری حیرت انگیز امر ہے ۔ بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کو نیب حکام نے 6 مئی 2016 کو بدعنوانی کے الزام میں سول سیکرٹیریٹ کوئٹہ میں ان کے دفتر سے گرفتار کیا تھا۔گرفتاری کے بعد مشتاق رئیسانی کے گھر پر چھاپے کے دوران 73 کروڑ روپے کے نوٹ، 4 کروڑ روپے کا سونا، پرائز بانڈ، سیونگ سرٹیفکیٹس، ڈالر اور پاؤنڈز کی گڈیاں اور مختلف جائیدادوں کے کاغذات ملے تھے۔اتنی بڑی رقم کو گننے میں نیب کے اہلکاروں کو 7 گھنٹے سے زائد کا وقت لگا، پاکستانی اور غیر ملکی کرنسی کے ساتھ پرائز بانڈ، سیونگ سرٹیفکیٹس گننے کے لیے اسٹیٹ بینک سے مشینیں بھی منگوائی گئی تھیں۔نیب کا یہ اقدام اس بناء پر ناقابل قبول ہے کہ نیب جیسا تحقیقاتی ادارہ کے لوٹی گئی قومی دولت کی واپسی کیلئے اختیارات اور اقدامات تو قانون کے مطابق کرسکتا ہے مگر قومی خزانے سے لوٹی گئی رقم کی معافی کا کسی کے پاس اختیار نہیں ۔عدالت عظمیٰ نے بھی اسے کرپشن اور بد عنوانی کو تحفظ دینے سے تعبیر کر کے اس پر پابندی لگائی تھی مگر اس کے باوجود نیب کا ایک پسماندہ صوبے کے سیکریٹر ی خزانہ کے خزانہ لوٹنے کے عمل کو محض چند ماہ کے اندر قابل سودے بازی گردان کر معاملہ طے کرنے کا اقدام کسی طور بھی قابل قبول امر نہیں یہ نرالا قانون ہے کہ اربوں روپے لوٹیں اور زیادہ حصہ رکھ کر تھوڑا حصہ واپس کر کے باقی ہڑپ کر لیاجائے۔ اس طرح کے اقدامات کی مکمل طور پر روک تھام کیلئے باقاعدہ قانون سازی ہونی چاہیئے۔ اس سودے بازی پر ارکان اسمبلی کو آواز اٹھانی چاہیے خاص طور پر ان جماعتوں کے جو پانامہ کیس لڑ رہی ہیں ۔ ہمارے تئیں یہ معاملہ پانامہ کیس سے کسی طرح بھی کم نہیں اور نہ ہی اس کیس کی نوعیت اس کی طرح پیچیدہ ہے ۔ یہاں پر سیدھی طرح سے کرپشن پکڑی گئی لوٹی گئی رقم برآمد اور اس سے خریدے گئے مکانات اور گاڑیاں بھی بر آمد کی گئیں ۔پلی بارگین پر آمادگی ایک طرح سے اعتراف جرم ہے ۔صرف اس بنا ء پر کہ قومی خزانے کی لوٹی گئی کچھ نہ کچھ رقم واپس جمع ہورہی ہے۔ کافی نہیں اصل کام تو لٹیروں کو قرار واقعی سزا دلوانا ہے کہ آئندہ کسی کو قومی دولت لوٹنے اور ہڑپ کرنے کی ہمت نہ ہو ۔

بچوں کی ہلاکت ، پولیو مہم متاثر ہونے کا خد شہ

خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود اور باڑہ میں پولیو قطرے پلانے اور ویکسینیشن سے دو بچوں کے جاں بحق ہونے اور بارہ بچوں کے بے ہوش ہونے کا واقعہ دلخراش اور افسوس ناک ضرور ہے۔ اس واقعے کے بعد پولیو مہم کے متا ثر ہونے کا بھی قوی امکان ہے کیو نکہ والدین میں پہلے ہی اپنے بچو ں کو پولیو کے قطرے پلوانے میں تحفظات پائے جاتے تھے ۔ اس کی وجہ جاننے کے لئے جو بھی تحقیقات ہوں ان تحقیقات کے نتیجے میں قیمتی جانوں کے ضیاع کا ازالہ نہیں ہو سکتا کم از کم وثوق اور یقین کے ساتھ یہ تو کہا جا سکتا ہے کہ پلائے گئے پولیو کے قطرے مضر صحت اور ویکسنیشن جان لیوا تھی ۔ اس واقعے کے بعد علاقے کے لوگوں کا بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار فطری امر ہے اور وہ اس میں حق بجانب بھی ہیں ۔ فاٹا سیکرٹریٹ کی اس وضاحت سے کسی طور بھی اتفاق ممکن نہیں کہ پولیو ویکسین سے بچوں کی موت واقع نہیں ہوئی بلا شبہ ایک ہی مہم کے دوران لاکھو ںبچوں کو قطرے پلائے جاتے ہیں جو مضر صحت نہیں لیکن اسی بناء پر محولہ واقعے سے سراسر انکار ممکن نہیں تحقیقات میں جو بھی وجہ سامنے آئے اس کو نہ صرف عوام کے سامنے لانا ضروری ہوگا بلکہ عوام کا اعتماد بحال کرنے کے اقدامات بھی کرنے ہوں گے۔ جب تک ایسا نہیں ہوتا والدین خوف کے باعث بچوں کو پولیوقطرے پلوانے میں انکار میں حق بجانب ہوں گے ۔

متعلقہ خبریں