نیب کا ''تاریخی'' فیصلہ

نیب کا ''تاریخی'' فیصلہ

سپریم کورٹ ایک سے زیادہ بار نیب کے پلی بارگیننگ کے قانون پر سخت تنقید کر چکی ہے۔ جس سے ہم ایسے عامیوں کی بھی حوصلہ افزائی ہوئی ہے جو اس قانون کو بے انصافی پر مبنی سمجھتے اور کہتے رہے ہیں۔ پلی بارگیننگ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص کرپشن کے الزام میں پکڑا جائے وہ کرپشن سے کمائی ہوئی کچھ رقم واپس کرکے باعزت طور پر بری ہو سکتا ہے اور دوبارہ اسی عہدے پر فائز ہو سکتا ہے جس کے اختیارات سے فائدہ اٹھا کر اس نے ناجائز دولت بنائی۔ سپریم کورٹ کے پلی بارگیننگ کے قانون پر کئی بار تنقید کے بعد ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ کوئی رکن اسمبلی اس قانون کو ایوان میں چیلنج کرتا اور اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتا لیکن کسی نے نہ کیا البتہ یہ ضرور ہوا کہ بلوچستان کے سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی کی پلی بارگیننگ کے بارے میں خبر اچانک اخبارات میں نمودار ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ سپریم کورٹ کی برہمی کو نظر انداز کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو نے مشتاق رئیسانی کی پلی بارگیننگ کی درخواست منظور کر لی ۔ اس کیس میں بلوچستان کے مشیر خزانہ خالد لانگو بھی ملوث تھے۔ جنہوں نے استعفیٰ دینے کی پیش کش کی تھی جو منظور نہیں ہوا تھا۔ پھر انہیں گرفتار بھی کیا گیا تھا اور پھر رہا بھی کر دیا گیا تھا۔ مشتاق رئیسانی کے ساتھ ٹھیکیدار سہیل مجید شاہ بھی شامل ہیں۔ سہیل مجید کے بارے میں میڈیا کہہ رہا ہے کہ یہ خالد لانگو کے فرنٹ مین تھے۔ سرکاری مقتدرہ قومی زبان کی انگریزی اردو لغت میں فرنٹ کے معنی میں ایک جملہ یہ بھی لکھا ہے ''کوئی شخص یا کاروبار جو غیر قانونی سرگرمی کی پردہ پوشی کرتا ہو۔'' گوگل کی ڈکشنری میں فرنٹ مین کے معنی ''معاون اول'' لکھے ہیں۔ اگر سہیل مجید معاون اول تھے یا ہیں، یا وہ کسی غیر قانونی سرگرمی کی پردہ پوشی کے ذمہ دار ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کس کی غیر قانونی سرگرمی کی پردہ پوشی کرتے تھے یا اس کیس میں کس کے معاون اول تھے۔ اگر انہیں خالد لانگو کا معاون اول کہا جا رہا ہے تو کیا جو الزامات سہیل مجید پر نیب نے لگائے وہ دراصل خالد لانگو پر لگنے والے الزامات تھے۔ نیب کی تحقیقات اس شخصیت تک کیوں نہ پہنچیں جس کے سہیل مجید ''معاون اول'' تھے۔مشتاق رئیسانی کی پلی بارگیننگ درخواست دو ارب روپے واپس کرنے کے وعدے پر منظور کر لی گئی ہے۔ ایک ٹی وی شو کے بزعم خود معتبر ترین ٹاک شو میں میزبان بڑے طمطراق سے اعلان کر رہے تھے کہ نیب نے اتنی بڑی رقم کی وصولی کا تاریخی فیصلہ کیا ہے کہ اس سے پہلے اس ادارے نے اتنی بڑی وصولی کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ اس میں سہیل مجید کا نام لیا گیا اور بتایا گیا کہ یہ خالد لانگو کے فرنٹ مین تھے ۔ ان کے علاوہ اور بھی چند لوگوں کا ذکر کیا گیا جن کے نام نہیں لیے گئے۔ ان کے نام لینے نہ لینے کی کیا وجہ ہے اور سہیل مجید کے ساتھ خالد لانگو کا نام لینے کی کیا وجہ ہے، یہ واضح نہیں ہے۔ یہ بھی واضح نہیں ہے کہ سہیل مجید کی خالد لانگو کے فرنٹ مین کی حیثیت سے کیا سرگرمیاں تھیں۔ اس طرح نیب کے اس فیصلہ کے بہت سے پہلو غیر واضح ہیں۔ ایک معاصر کی خبرمیں بتایا گیا ہے کہ سابق سیکرٹری خزانہ مشتاق رئیسانی پر اور سہیل مجید ٹھیکیدار پر دو ارب دس کروڑ روپے کی خورد برد کا الزام تھا۔ بعض ٹی وی چینلز پر یہ تفصیلات بھی آئی ہیں کہ 75کروڑ روپے کے کرنسی نوٹ مشتاق رئیسانی کے گھر سے برآمد ہوئے تھے۔ ساڑھے تین کلو سونا اس کے علاوہ تھا۔ اس کی مالیت کتنی تھی ! اس کے علاو ہ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ مشتاق رئیسانی نے کراچی میں واقع دو بنگلے بھی دینے کا عندیہ دیا ہے۔ اس نہ سمجھ آنے والے حساب کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ مشتاق رئیسانی اور فرنٹ مین سہیل مجید کی دو ارب دس کروڑ میں سے دو ارب روپے حکومت کو واپس کرنے پر رضامندی پر دونوں رہا ہو گئے ہیں اور ان چند افراد کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی جو ان کی معاونت کرتے رہے۔ اس میں کتنی رقم مشتاق رئیسانی اور کتنی رقم فرنٹ مین سہیل مجید شاہ دیں گے، یہ بھی واضح نہیں ہے۔ یعنی یہ کہ فرنٹ مین سہیل مجید نے کتنی رقم خورد برد کی۔ اور اس میں کتنا حصہ اس شخصیت کا تھا جس کے وہ فرنٹ مین بتائے جاتے ہیں ۔ مشتاق رئیسانی کے بارے میں تو کہا گیا ہے کہ وہ مزید ملازمت نہیں کریں گے لیکن سہیل مجید کو اپنے کئے کی کیا سز ملے گی یہ واضح نہیں ہے۔ جن دیگر چار پانچ افراد کے ملوث ہونے کا ذکر کیا جا رہا ہے قیاس ہے کہ وہ سرکاری ملازم تھے۔ خبر میں یہ واضح نہیں کہ آیا وہ اپنی ملازمت پر برقرار رہیں گے اور کسی دوسرے افسر کی خوشنودی کے لیے اپنے تجربہ کو کام میں لا سکیں گے یا نہیں۔ جیسا کہ سطور بالا میں بیان کیا جا چکا ہے مشتاق رئیسانی پر دو ارب دس کروڑ روپے کی خوردبرد کا الزام ہے جس میں سے دو ارب روپے کی وصولی کی بنیاد پر ان کے خلاف الزامات واپس ہو گئے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ باقی دس کروڑ روپے کیا ہوئے۔ کیا دس کروڑ روپے انہوں نے خرچ کر دیے۔ اگر خرچ کیے ہیں تو کس مد میں خرچ کیے۔ آخر کوئی شخص کتنے پیسے روز خرچ کر سکتا ہے کہ وہ چند ماہ میں دس کروڑ روپے خرچ کر دے۔ خالد لانگو سیاستدان ہیں ۔ نیب کے فیصلے میں مجرم سہیل مجید بتایا جا رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اسے خالد لانگو کا فرنٹ مین کہا جارہا ہے۔ اس طرح خالد لانگو کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ توقع کی جانی چاہیے کہ وہ اس فیصلے کو چیلنج کریں گے اور اگر اس خورد برد میں وہ کسی طور پر ملوث نہیں تو نیب کے ان کے خلاف کارروائی کرنے کی وجہ کیا ہے؟ اس فیصلے پر محض اس لیے خوش ہونے کی بجائے کہ دو ارب روپے کی وصولی ہوگی اس کے تمام پہلوؤں کو سامنے آنا چاہیے۔ دو ارب روپے مشتاق رئیسانی حکومت کو عطیہ نہیں کر رہے۔ یہ پاکستانیوں کا پیسہ ہے جو ان سے وصول کیا جارہا ہے۔ یہ بھی معلوم کیا جانا چاہیے کہ مشتاق رئیسانی اور سہیل مجید کے بیرون ملک کوئی اثاثے ہیں یا نہیں۔ جب یہ نقد رقم برآمد کی گئی تھی تو کہا گیا تھا کہ بیرون ملک سمگل کرنے کے لیے جمع کی گئی تھی۔ 

اداریہ