سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ اور دہشت گردی

سانحہ کوئٹہ کی رپورٹ اور دہشت گردی

8 اگست 2016ء کو کوئٹہ کے سول ہسپتال پر ہونے والے حملے پر جسٹس فائز عیسٰی کی رپورٹ کسی بھی ریاستی یا غیر ریاستی ادارے کی اچھی کارکردگی کی عکاسی نہیں کرتی۔ مذکورہ رپورٹ کے مطابق وزارتِ داخلہ، انٹیلی جنس ایجنسیاں، صوبائی حکومت، صوبائی محکمہِ صحت، میڈیا، وی آئی پیز اور نیکٹا سمیت تمام متعلقہ اداروں اور بااختیار افراد نے شدت پسندی اور دہشت گردی کو صوبے میں جڑیں پکڑنے اور پھلنے پھولنے کا پورا موقع فراہم کیا۔ نہ صرف دہشت گردی کو پروان چڑھنے کا موقع فراہم کیا گیا بلکہ دہشت گردی کے کسی بھی واقعے کے بعد انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے بھی خاطر خواہ انتظامات نہیں کئے گئے۔ اس جامع رپورٹ کو تیار کرنے کے باوجود عدلیہ کی غیر جانبداری پر سوال اُٹھائے جارہے ہیں جس میں سب سے بڑا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ عدلیہ نے دہشت گردی کے ہزاروں واقعات میں سے صرف ایک ایسے واقعے کو ہی تفتیش اور رپورٹ کی تیاری کے لئے منتخب کیوں کیا جس میں وہ براہِ راست متاثرین میں شامل تھی جبکہ دہشت گردی کے دیگر واقعات بھی اسی طرح کی تفتیش اور تحقیق کے متقاضی ہیں۔جسٹس فائز عیسٰی کی جانب سے مرتب کی جانے والی یہ رپورٹ دوسا ل پہلے پشاور میںآرمی پبلک سکول پر ہونے والے حملے کے بعد کئے جانے والے وعدوں کی یاد دہانی کرواتی ہے جس میں پوری قوم نے متحد ہو کر کہا تھا کہ ہم ایسا کوئی واقعہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔ دوسری جانب ایک ایسے وقت پر جب ہم بطورِ قوم اس بات سے کسی حد تک مطمئن ہو چکے ہیں کہ ہمارے ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو گیا ہے یہ رپورٹ ہمیں حقائق کی دنیا میں واپس لے آتی ہے اور اس بات کا ادراک کرواتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ اس رپورٹ میں سامنے آنے والے نتائج زیادہ حیران کن نہیں ہیں کیونکہ کافی باتیں ایسی ہیں جو پہلے بھی میڈیا میں وقتاً فوقتاً رپورٹ ہوتی رہی ہیں ۔ وزارتِ داخلہ کی جانب سے مذکورہ رپورٹ پر تنقید حیران کن ہے۔ وزارتِ داخلہ کا موقف ہے کہ کسی ایک واقعے کی بنیا دپر کائونٹرٹیررازم پالیسی کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے لیکن وزارتِ داخلہ کو کم از کم اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ مذکورہ رپورٹ ایک جامع رپورٹ ہے جو پچھلی ایک دہائی پر مشتمل کائونٹر ٹیرر ازم پالیسی کی ناکامیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔ جہاں تک رپورٹ میں پیش کئے جانے والے مختلف نکات کی بات کی جائے تو سب سے پریشان کُن بات یہ سامنے آتی ہے کہ دہشت گردی کے کسی واقعے کے پیش آنے کے بعد احتساب کا کوئی نظام موجود نہیں ہے۔ دہشت گردی کے کسی واقعے کے بعد کسی ایک ادارے یاافسر کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا اور نہ ہی اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مذکورہ واقعہ کس ادارے کی غفلت یا کائونٹر ٹیررازم پالیسی پر عمل درآمد میں ناکامی کی وجہ سے پیش آیا ۔ اس کے علاوہ دہشت گرد تنظیموں پر پابندی عائد کرنے اور ان کو کالعدم قرار دینے کے عمل کے حوالے سے ہولناک حقائق اس رپورٹ کا حصہ ہیں۔ بلوچستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے جماعت الاحرار اور لشکرِ جھنگوی العالمی جیسی تنظیموں پر پابندی کی درخواست کو وفاقی وزارتِ داخلہ کی جانب سے قابلِ غور تک نہیں سمجھا گیا ۔ اگر ہمارے ملک میں واقعی جمہوریت ہوتی تو ایسی کسی بھی کوتاہی کی ذمہ داری وزارتِ داخلہ پر عائد کی جاسکتی تھی کیونکہ اینٹی ٹیررازم ایکٹ کے مطابق ایسی تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کے اختیارات صرف وفاقی وزارتِ داخلہ کے پاس ہیں۔ لیکن غیر متوازن سول ملٹری تعلقات کی وجہ سے سیکورٹی سے منسلک معاملات میں سول حکومت کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے کسی بھی کوتاہی کی ذمہ داری مکمل طور پر سول حکومت پر عائد کرنا ناانصافی ہوگی۔مذکورہ رپورٹ کے سامنے آنے کے بعد یہ بات بالکل واضح ہو چکی ہے کہ ہماری کائونٹر ٹیررازم پالیسی میں بنیادی خامی ذمہ داری کے احساس اور احتساب کی کمی ہے۔انکوائری کے جواب میں حالات و واقعات کی ذمہ داری ایک دوسرے پر عائد کرنے سے اداروں کی سنجیدگی کا اندازہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ پیش گوئی کی جاسکتی ہے مذکورہ رپورٹ میں پیش کی جانے والے سفارشات جلد ہی سرد خانے میں ڈال دی جائیں گی ۔ مدرسہ رجسٹریشن، دہشت گردی کے خلاف جوابی بیانیہ اور نفرت انگیز تقاریر کے خلاف قانونی چارہ جوئی ایسے نکات ہیں جن کو شدت پسندی سے نمٹنے کے لئے وسیع تر سٹریٹجی کا حصہ بنایا جانا ضروری ہے۔ ملٹری آپریشن اور انٹیلی جنس ایجنسیوں میں بہتر کوآرڈینیشن کے علاوہ شدت پسندی سے لڑنے کے لئے نظریاتی جنگ بھی لڑنی ہوگی۔اسی طرح وفاق اور صوبوں کو بھی اس حوالے سے ایک صفحے پر لایا جانا ضروری ہے۔ شدت پسندی کے خلاف کی جانے والی کوششیں اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتیں جب تک ہم سیاسی مفادات کے لئے شدت پسند عناصر سے روابط ختم نہیں کرتے۔ جہاں ایک طرف ہم آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کے شادیانے بجانے میں مصروف ہیں دوسری طرف معاشرے کے اندر شدت پسندی کا ناسور تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے جس میں فرقہ وارانہ، لسانی اور صنفی شدت پسندی شامل ہے۔ کیا معاشرتی شدت پسندی پر قابو پانے کے لئے بھی کوئی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے گا؟ اور کیا اس کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد تو درکنار ان سفارشات کو قابلِ غور بھی سمجھا جائے گا ؟

(بشکریہ: ڈان،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ