پیپلز پارٹی کی سیاست کا نیا دور اور زرداری کی واپسی

پیپلز پارٹی کی سیاست کا نیا دور اور زرداری کی واپسی

49ویں یوم تاسیس پر پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ہفتہ بھر تقریبات کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو نے اپنے والد اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کی وطن واپسی کا اعلان کرکے سیاست و صحافت کے سیاپا فروشوں کا رزق لگوادیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ انجمن سیاپا فروشان الیکٹرانک میڈیا و سیاست کو سارے عیب چھوٹے صوبوں سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں میں دکھائی دیتے ہیں۔ لاریب سیاستدان فرشتے نہیں انسان ہی ہیں۔ ہماری آپ کی طرح گوشت پوست اور ہڈیوں سے گندھے ہوئے۔ آصف علی زرداری پر 1988ء سے الزامات لگنا شروع ہوئے۔ مسلم لیگ(ن) کے میڈیا سیل اور پنجابی شائونزم کے محافظوں نے پہلے انہیں مسٹر 10پرسنٹ کہا پھر مسٹر100پرسنٹ۔ دنیا بھر کے عیب کرپشن کی رام لیلائیں ان سے منسوب ہوئیں۔ سوال یہ ہے کہ 1990ء سے 1999ء کے درمیان 10سالوں کے دوران ان پر جو مقدمات قائم ہوئے ان کا فیصلہ کرنا کس کی ذمہ داری تھی؟ کرپشن کا جرم ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری تھی اور مقدمات کا بروقت فیصلہ احتساب عدالتوں کی۔ دونوں کی کارکردگی سب کے سامنے ہے۔ میں زرداری کا وکیل صفائی ہر گز نہیں مگر سیاست و صحافت کے طالب علم کے طور پر اس سوال سے آنکھیں چرانا از بس مشکل ہے کہ کیا وقت اور شواہد سے یہ ثابت نہیں ہوا کہ پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ (یہ اس وقت بھی وزیر اعلیٰ ہی تھے) اور سابق احتساب سیل کے سربراہ سیف الرحمن کی پنجاب کی ایک احتساب عدالت کے جج سے وہ گفتگو منظر عام پر آئی جس کی بناء پر دو جج صاحبان کو منصب سے رخصت ہونا پڑا۔ اب بھی سابق صدر زر داری کی وطن واپسی کے اعلان کے ساتھ ہی میڈیا کے سیاپا فروش ''پنج پیارے'' اپنی عدالتیں لگا کر بیٹھ گئے ہیں۔ صحافت کے شعبہ میں پیراشوٹ کے ذریعے اترے ان خود ساختہ منصفوں کو کون سمجھائے کہ انصاف کرنا عدالتوں کا کام ہے اور الزام و الزامات ثابت کرنا استغاثہ کا۔ 1997ء میں جب سردار فاروق لغاری نے بے نظیر بھٹو کی حکومت برطرف کی تھی تو اسی شب آصف علی زرداری کو لاہور میں گورنر ہائوس سے حراست میں لیا گیا تھا۔ اہتمام کے ساتھ اخبارات میں خبریں شائع کروائی گئیں کہ گرفتاری کے وقت زرداری سے 2ارب روپے نقد'15کلو سونا اور 25لاکھ ڈالر بھی برآمد ہوئے۔ چار سوٹ کیسوں کا یہ مال مقدمہ کہاں گیا' کسی نے 19سال میں اس کی وضاحت نہیں کی۔ عرض کرنے کا مقصد فقط یہ ہے کہ اس ملک میں بہت آسان ہے الزامات کا کاروبار مگر ثابت کرنے کا مرحلہ آئے تو پہلو تہی برتی جاتی ہے۔ 49 ویں یوم تاسیس کی تقریبات کے لئے پیپلز پارٹی نے لاہور کا انتخاب اس لئے کیا کہ 49 سال قبل ذوالفقار علی بھٹو نے اسی لاہور میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی۔ شہر سے 25کلو میٹر دور بلاول ہائوس میں تقریبات کے انعقاد پر تحفظات اپنی جگہ لیکن یہ حقیقت ہے کہ پیپلز پارٹی کے سات روزہ اجتماعات زندگی سے بھرپور تھے بالخصوص سنٹرل پنجاب کا اجتماع خود پیپلز پارٹی کی مرکزی اور پنجاب کی قیادت کی توقعات سے کہیں زیادہ بھرپور' پر رونق اور پرجوش تھا۔ فعال کارکنوں کی سطح پر اپنی طاقت کے بھرپور مظاہرے نے پیپلز پارٹی کا کریا کرم ہوچکا کی مالا جپنے والوں کی امیدوں پر اوس ڈال دی۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پیپلز پارٹی کو مار کر دفنا چکنے والے سیاست و صحافت کے سیاپا فروشوں کے لئے بہت مشکل صورتحال ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف کچھ لوگ شام کو ٹی وی چینلوں پر عدالتیں لگا کر بیٹھ جاتے ہیں اور کچھ بیانات کے ذریعے بھڑاس نکال رہے ہیں۔ اپنے کچھ رہنمائوں کی بشری کمزوریوں کے باوجود پیپلز پارٹی زندہ حقیقت ہے۔ کچھ لوگ اب بھی گمان کرتے ہیں کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کی جگہ تحریک انصاف لے چکی لیکن اگر یہ دوست غور کرنا پسند کریں تو پنجاب میں تحریک انصاف کا ووٹ بینک لوئر مڈل کلاس اور پوش علاقوں سے تعلق رکھتا ہے۔ تحریک انصاف پنجاب میں نچلے طبقات اور ترقی پسند ووٹر کو اپنی طرف متوجہ اس لئے نہیں کر پائی کہ طالبانائزیشن اور اس سے جڑے معاملات پر اس کا موقف واضح نہیں' ثانیاً یہ کہ تحریک انصاف بھی تو روایتی سیاسی جماعت ہی ثابت ہوئی۔ انقلاب بذریعہ بالا دست طبقات ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آج کی پیپلز پارٹی کوئی مارکسٹ ترقی پسند جماعت ہے۔ اس امر سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بھٹو خاندان اور پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے جمہوریت کے لئے بے پناہ قربانیاں دیں۔ صرف جنرل ضیاء الحقکے مارشل لاء کے دور میں پیپلز پارٹی کے 25ہزار کارکنوں کو قید' کوڑے اور جرمانوں کی سزائیں فوجی عدالتوں نے دیں اور مجموعی طور پر ایک لاکھ سے زیادہ کارکنوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں۔ یہ بھی بجا ہے کہ عوام دوست اور سامراج دشمن پیپلز پارٹی نے 1988ء کے بعد سمجھوتوں کی سیاست کی لیکن سمجھوتوں کی یہ سیاست بھی محترمہ بے نظیر بھٹو کی جان لے گئی۔ اپنے پچھلے دور اقتدار 2008-2013ء کے دوران پیپلز پارٹی نے 1973ء کے آئین کی بحالی کے لئے جو اقدامات کئے وہ سیاسی تاریخ کا سنہری باب ہیں۔ سیاسی عمل میں بھرپور شرکت اور پر عزم جدوجہد کی تاریخ رکھنے والی پیپلز پارٹی سیاست اور خطے کے بدلتے حالات میں کیا پھر سے ایک ترقی پسند عوام دوست پارٹی کا کردار ادا کرسکے گی؟ بنیادی محور یہی اہم سوال ہے اور اس کا جواب پیپلز پارٹی کی حکمت عملی سے مشروط ہے۔ آصف علی زرداری پر کرپشن کے جو مقدمات ہیں عدالتوں کو ان کا فیصلہ کرنے دیا جائے۔ سیاپا فروشی سے صوبوں کے درمیان دوریاں بڑھیں گی۔پیپلز پارٹی کا دور ہو تو ٹریفک کے اژدھام اور سموسوں پکوڑوں پر بھی سو موٹو نوٹس لئے جاتے ہیں۔ دوسرے لوگوں کی طرح آصف زرداری کو پاکستان میں اپنے نظریات کے مطابق سیاست کرنے کا حق حاصل ہے ۔ عوام کو فیصلہ کرنے دیجئے کہ وہ آئندہ انتخابات میں کیا رائے دیتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کو بہر طور اپنا عوامی کردار اور سیاسی عمل جاری رکھنے کا حق ہے اس کی قیادت سے سوال فقط یہ ہے کہ کیا وہ پارٹی عہدوں کے لئے نو دولتیوں کو ترجیح دے گی یا قربانی دینے والے نظریاتی کارکنوں کو؟۔

اداریہ