محبتوںکا نصاب

محبتوںکا نصاب

کسی بھی ملک کا نظام تعلیم اس کے مستقبل کا عکاس ہوتا ہے، اس لیے مہذب قومیں تعلیمی نظام اور نصاب کو بہت اہمیت دیتی ہیں، اسی اہمیت کی وجہ سے تعلیمی نصاب اکثر تنقید کا نشانہ بھی بنتے ہیںاور حکومتیں اصلاح احوال کی کوشش کرتی ہیں۔ نفرتیں پھیلانے اور دوریاں بڑھانے میں بھی کسی نہ کسی طرح تعلیمی نصاب ہی وجہ بنتے ہیں اور صوبائی عصبیتوں، نفرتوں اور دوریوں کو مٹانے کے لیے مثبت تعلیمی نصاب انتہائی ناگزیر ہوتاہے۔ ایک دوسرے کو مخاصب قرار دینا اور ایک دوسرے کے خون کے پیاسے افراد نے کبھی ایک دوسرے کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کی۔ ورنہ ہم میں یہ دوریاں اور نفرتیں کبھی پنپ نہ سکتیں۔ایک ہی ملک کے باسی آپس میں دست و گریباں ہیں۔سندھی کو پنجابی سے شکوے ہیں ،پنجابی کو سندھی سے ۔پختون پنجابی کو اپنے حقوق پر غاصب سمجھتاہے جبکہ پنجابی پختونوں کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں،بلوچی کو یہ شکایت ہے کہ دیگر صوبے انہیں ان کے حقوق سے محروم کر رہے ہیں ،اسی طرح پاکستان میں بسنے والی دیگر اقوام کو ایک دوسرے سے متعدد شکوے شکایتیں ہیں جو آئے روز میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔اگر اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی جائے تو پتہ چلے گاکہ ہم نے ایک دوسرے کو جاننے او رسمجھنے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی ۔ پختون دوستوں سے ملنے سے پہلے میں نے ان کے متعلق طرح طرح کی باتیں سن رکھی تھیںلیکن جب ان کے ساتھ اکٹھے پڑھنے کا موقع ملاتو انہیں قریب سے دیکھ کر محسوس ہوا کہ پنجابیوںکی نسبت ہمارے پختون دوست مذہب ،عبادات اور اپنی مہمان نوازی میں ہم سے بڑھ کرہیں ،اسی طرح بہت سے بلوچی دوستوں کے ساتھ رہنے کا موقع ملا تو انہیں بھی انتہائی ملن سار ،مہمان نوازاور اعلیٰ ظرف پایا ،دیگر اقوام کے بہت سے ایسے دوست ہیں جن کے نام یہاں درج کرنے کی ان سطور میں گنجائش نہیں ہے لیکن ان کی محبت میں آج بھی بھول نہیں پایا ہوں، یہی وجہ ہے کہ وہ آج بھی میرے بہترین دوست ہیں۔پنجاب سے باہر نکل کر اور دیگر اقوام کے لوگوں سے مل کر مجھے احساس ہوا کہ اس سے پہلے ہم دھوکے میں تھے یا جان بوجھ کرہمیں دھوکے میں رکھا گیا ۔ لسانیت پرستی ہماری سیاست میں بھی در آئی اور اس ناسو ر نے بہت سے محب وطنوں کو اپنے ہم وطنوں سے بد ظن کرنے میں اہم کردار ادا کیا،آج ہماری سیاست اس وقت تک نامکمل رہتی ہے جب تک سیاستدان دیگر اقوام کو جلسے جلوسوں میں گالم گلوچ نہ کر لیں ،ہمارے عوام بھی سیاستدانوں سے اسی طرح کی گفتگو سننے کی نہ صرف خواہش رکھتے ہیں بلکہ ان کی گالم گلوچ پر سیاستدانوں کو داد بھی دیتے ہیں ۔اگر ہمارے سماج پہ طائرانہ نظر ڈالی جائے تو یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتاہے کہ توڑنے کا عمل ہر سطح پر ہو رہاہے ،نفرتیں پھیلانے والے بھی اسی ملک میںبستے ہیں ،دور دور تک کہیں بھی لوگوں کو جوڑنے والا نظر نہیں آرہا ،لوگوں میں محبت پیدا کر نے والا شاذو نادر ہی کوئی دکھائی دیتاہے ۔نفرتوں کے اس دور میںوطن عزیز میں ایک ایسا نصاب بھی پڑھایا جا رہا ہے جسے اگر محبتوں کا نصاب کہیں تو بے جا نہ ہو گا ۔ یہ نصاب علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ ''پاکستانی زبانیں و ادب ''میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے سکالرز کو پڑھایا جا رہا ہے۔ اس تعلیمی پروگرام کا آغاز 1989ء میں'' لسانی ہم آہنگی اور ملکی یکجہتی'' کے فروغ کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے ہوا ،اس میں پروگرام کے تمام صوبوں میں بولی جانے والی 20کے قریب زبانیں پڑھائی جاتی ہیں اور تمام صوبوں سے تعلق رکھنے والے طلباء ایک ہی کلاس میں بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اس نصاب کی ایک اور خوبصورتی یہ ہے کہ آپ پاکستان میں پڑھائی جانے والی 6زبانوں میں کسی میں بھی ایم اے کرنے کے بعد اسی زبان میں ایم فل کرنا چاہتے ہیں تو بھی آپ کے لیے ضروری ہے کہ آپ ان 20سے زیادہ زبانوں کو پڑھیں اور دوسری زبانیں بولنے والے پاکستانیوں کو سمجھ سکیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس طرح کے نصاب ہر یونیورسٹی اور کالج میں پڑھائے جائیں تاکہ ملکی یکجہتی ' رواداری اور سماجی ہم آہنگی کی منزل کو حاصل کر سکیںاور ملک میںجاری لسانیت پرستی کے ناسو ر کو ختم کیا جاسکے۔ بلوچی زبان میں ایم فل کرنے کے خواہاں طالب علم' اس نصاب میں شاہ لطیف بھٹائی ' بلھے شاہ ' خواجہ فرید اور رحمان بابا کی تعلیمات سے بھی آگاہ ہوتے ہیں اور اُن کے کلام میں موجود آفاقی پیغام جو انسانیت اور محبت کا درس دیتا ہے سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ 

اداریہ