Daily Mashriq


انصاف کا قاتل معاشرہ

انصاف کا قاتل معاشرہ

جس دن سے پی آئی اے کا اے ٹی آر طیارہ حویلیاں کی پہاڑیوں میں گرا ہے میرے جیسے بہت سے لوگ اس حادثے میں مقید ہوکر رہ گئے ہیں۔ اگر کبھی اس دکھ سے نکلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں تو میڈیا نکلنے نہیں دیتا۔ پھر وہی ذکر' وہی باتیں۔ ہم الجھتے چلے جا رہے ہیں۔ گزشتہ رات یہ بتایا جا رہا تھا کہ اس طیارے کا پائلٹ ''مے ڈے'' مے ڈے چلاتا رہا لیکن ائیر ٹریفک کنٹرولر اور کاموں میں الجھا رہا۔ اور یہاں یہ طیارہ اپنے اڑتالیس مسافروں سمیت حویلیاں کی پہاڑیوں میں گر کر تباہ ہوگیا۔ ساری باتیں سنتے سنتے کئی بار دم گھٹنے لگتا ہے۔ ہم کیسے قاتل مجرم لوگ ہیں کسی کی جان کی ہمیں کوئی پرواہ ہی نہیں ہوتی۔ کیسی مجرمانہ غفلت تھی جس کا یہ کنٹرولر شکار رہا اور یہ لوگ لقمہ اجل ہوگئے۔ لیکن پھر سوالات ہیں کہ ختم ہی نہیں ہوتے۔ سب سے پہلا سوال تو یہ کہ اس ائیر کنٹرولر کی اس غفلت کے نتیجے میں اس کو کس حد تک سزا ہوگی کیونکہ اگر طیارہ واقعی اس کی عدم توجہی کی وجہ سے تباہ ہوا تو وہ اڑتالیس لوگوں کا قاتل ہے اور ان کے گھرانوں کی اذیت کا ذمہ دار ہے۔ لیکن پھر خیال آتا ہے کہ ایک ایسے طیارے کو جس کے انجن ہی خراب ہوچکے تھے یہ ائیر ٹریفک کنٹرولر کس حد تک بچا سکتا تھا۔ یہ درست ہے کہ یہ اس کی ذمہ داریوں میں شامل تھا کہ جیسے ہی اسے مے ڈے کی کال سنائی دی تھی تو وہ ایک لائن اس جہاز کے ساتھ رابطے کے لئے مختص کردیتا۔ ائیر پورٹ پر ایمرجنسی لگا دی جاتی۔ ایک لینڈنگ سٹرپ بھی بالکل خالی کروالی جاتی۔ اس شخص کی مجرمانہ غفلت تو ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا جہاز ان سب انتظامات تک پہنچ سکنے کی حالت میں تھا۔حیران کن بات ہے کہ ایک عدالتی فیصلے پر پی آئی اے کے اے ٹی آر جہاز گرائونڈ کئے گئے۔ ان کی اڑان کی اجازت معطل کردی گئی۔ پھر جیسے ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے کسی بڑے سیاسی سمجھدار کو رابطہ کیاگیا ہوگا۔ اپنی داستان غم سنائی ہوگی۔ ان جہازوں کے گرائونڈ ہوجانے کا نقصان بتایاگیا ہوگا۔ عین ممکن ہے صورتحال سنبھالنے کی انعامی رقم بھی طے کرلی گئی ہو۔ اس کے بعد ان صاحب کے دبائو کے نتیجے میں اے ٹی آر جہازوں کی اڑان سے پابندی ہٹالی گئی۔ پی آئی اے جیسے اداروں کا وہی المیہ ہے جو اس ملک کا المیہ ہے۔ یہاں لوگ ذاتی مفادات یا نقصان کے احتمال کو دوسروں کی جان' مال اور عزت پر مقدم رکھتے ہیں۔ کبھی پوسٹنگ کے ڈر سے' کبھی کسی اور دبائو کے زیر اثر بنا سوچے فیصلے کئے جاتے ہیں۔ کئی بار تو اتنا بھی نہیں ہوتا۔ کوئی بھی نا اہل' بنا سوچے سمجھے بس کسی کو خوش کرنے کے لئے ایسا کوئی بھی فیصلہ ہنستے مسکراتے کردیتا ہے کیونکہ ان کے نزدیک اگر آج وہ ان کا کام نہ کریں گے تو کل ان سے اپنا کام کیسے کروائیں گے۔ بات کبھی تم اور میں کے دائرے سے نکلتی ہی نہیں اور کوئی یہ سوچتا ہی نہیں کہ اس نے جو فیصلہ کیا اس کے کیا نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔ حادثہ ہو جاتا ہے' انکوائری شروع ہوجاتی ہے۔ اس وقت کچھ ہر کارے حرکت میں آتے ہیں۔ انکوائریوں کے نتیجے میں ہمارے ملک میں اکثر وہ ذمہ دار ہوتے ہیں جن کی حیثیت کل پرزوں سے زیادہ نہیں ہوتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بے چارے سفارش نہیں رکھتے۔ جن کی پہنچ بڑے صاحب تک نہیں ہوتی یا پھر جو اس حادثے میں مارے گئے ہوتے ہیں۔ پائلٹ تو ایسے معاملات میں اکثر و بیشتر ہی ذمہ دار ہوا کرتا ہے۔ اس سوال کا بھی جواب نہیں ملتا کہ آخر گرائونڈ شدہ اے ٹی آر طیاروں کو دوبارہ اڑان کی اجازت کس کی ایماء پر اور کیوں دی گئی۔ اس ساری انکوائری میں تو تکنیکی وجوہات کی بات کی جائے گی۔ تکنیکی مسائل کے نتیجے میں ہونے والے اس حادثے کو جانچا جائے گا لیکن کیا واقعی بات یہاں تک محدود رہنی چاہئے اور اگر بات یہاں تک محدود نہیں رہنی چاہئے تو آخر کس میں ہمت ہے کہ وہ کسی ایک ''بڑے سیاستدان'' کا نام لے سکے جس کے کہنے پر لوگ عدالت کاحکم ماننے سے منکر ہو جاتے ہیں۔ گرائونڈ کئے ہوئے طیارے دوبارہ فضا میں اڑنے لگتے ہیں' حادثے ہونے لگتے ہیں لیکن پھر سوال یہی ہے کہ یہ ہمت کون کرے گا؟ اور یہ فیصلہ سٹاف نے تو کیا نہ ہوگا۔ اس فیصلے کی ذمہ داری تو لا محالہ ایم ڈی پر ہی عائد ہوگی۔ گزشتہ پانچ سالوں میں کئی اندوہناک حادثے ہوچکے اور ابھی تک کوئی سدباب نہ ہوا۔ اب پی آئی اے کی حالت یہ ہے کہ ایک بار پھر طیارے گرائونڈ کئے گئے اور ایک بار پھر انہیں اڑان کی اجازت مل گئی تبھی تو رن وے پر اے ٹی آر طیارے کی اڑان سے پہلے ایک کالے بکرے کا صدقہ دیاگیا۔ پی آئی اے کو ان طیاروں کے گرائونڈ کئے جانے سے ہونے والے نقصان کا بھی بار بار ذکر کیا جا رہا ہے۔ ان طیاروں کے باعث کیسے پی آئی اے کو کروڑوں کا نقصان ہو رہا ہے۔ بات درست ہے لیکن کیا محض یہی ایک بات اہم ہے۔ پی آئی اے کا فلیٹ پرانا ہے اور پرانے فلیٹ کو نیا کرنا' خالہ جی کا گھر نہیں۔ حکومت کی ترجیحات میں بھی شامل نہیں۔ نا اہل اور خوشامدی لوگوں کو اعلیٰ عہدے دینا البتہ حکومتی ترجیحات میں سرفہرست ہے۔ ہمارے ارد گرد مثالیں ہی مثالیں موجود ہیں۔ کسی ملک کی تباہی کے لئے بس اتنا ہی کافی ہوا کرتا ہے۔ تبھی ہمارا یہ حال ہے۔ انصاف پر مبنی معاشرے زندہ رہتے ہیں پنپتے ہیںپروان چڑھتے ہیں اور جہاں انصاف روز قتل ہو وہ گلتے سڑتے رہتے ہیں' تباہ ہوتے ہیں' بالکل ایسے ہی جیسے ہمارا معاشرہ تباہ ہو رہا ہے اور ہم اس کی تباہی کے گرداب سے آزاد نہیں ہوسکتے۔

متعلقہ خبریں