مشرقیات

مشرقیات

اہل کوفہ نے امیر المومنین سید نا عمر بن خطاب کی عدالت میں سید نا سعد بن ابی وقاص ( جو کوفہ کے گورنر مقرر ہو ئے تھے ) کے خلاف شکایت کی ، چنانچہ سید نا عمر فاروق نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو معزول کر کے ان کی جگہ کوفہ کا حاکم حضرت عما ر بن یاسر کو مقرر کردیا ۔
سیدنا عمر بن خطاب نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو بلا بھیجا اور پوچھا : اے ابو اسحاق ! ( یہ سید نا سعد کی کنیت تھی ) یہ کوفہ والے شکایت کرتے ہیں کہ آپ انہیں اچھی طرح سے نماز بھی نہیں پڑھا سکتے ؟ سیدنا سعد بن ابی وقاص نے جواب دیا : اللہ کی قسم ! میں انہیں رسول اکرم ۖ والی نماز پڑھا تا تھا ۔
سید نا عمر بن خطاب نے فرمایا : اے ابو اسحاق ! آپ کے بارے میں میرا یہی خیال تھا کہ آپ انہیں سنت کے مطابق نماز پڑھاتے ہوں گے ۔ پھر سیدنا عمر نے حضرت سعد بن ابی وقاص کے ساتھ ایک آدمی کو کوفہ روانہ کیا اس آدمی نے ساری مسجدوں میں گھوم گھوم کر اہل کوفہ سے حضر ت سعد کے متعلق پوچھا اور سبھی نے ان کے متعلق تعریفی کلمات کہے ، لیکن بنو عبس کی مسجد میں اسامہ بن قتا دہ نامی ایک شخص نے پو چھنے والے سے ان کے خلاف شکایت کی اور کہا : جب آپ ہمیں قسم دیتے ہیں تو ہماری شکایت ہے :
ترجمہ :'' سعد جنگ میں نہیں جاتے تھے ، مال غنیمت برابر تقسیم نہیں کرتے تھے اور انصاف کے ساتھ فیصلہ نہیں کرتے تھے ۔ ''
سیدنا سعد بن ابی وقاص نے اس کا شکوہ سن کر فرمایا : اللہ کی قسم ! تم نے تین جھوٹی شکایتیں کی ہیں میں بھی تمہیں تین بد دعائیں دیتا ہوں : ترجمہ :'' الہٰی ! تیر ا یہ بندہ اگر جھوٹا ہے اور ریا کاری و شہر ت کے لیے اٹھ کر اس نے میرے خلاف شکایت کی ہے تو اس کی عمر لمبی کر ، تادیر اس کو فقر میں مبتلا رکھ اور اسے فتنے میں مبتلا کر دے ۔ '' اس آدمی کو سید نا سعد کی بد دعا لگ گئی ، چنانچہ جب اس سے پو چھا جاتا تو کہتا : بوڑھا آدمی ہوں ، آزمائش میں ڈالا گیا ہوں ، سعد کی بد دعا مجھے لگ گئی ہے !!
(صحیح البخاری ، حدیث 755)
ایک بزرگ حضرت مولانا یعقوب مجددی گزرے ہیں ، حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی ان کی مجلس میں جا کر بیٹھا کرتے تھے اور ان کے ملفوظات بھی جمع فرما ئے ہیں ۔
ان کے حالات میں لکھا ہے کہ جب ان کا انتقال کا وقت آیا تو جمعہ کا دن تھا صبح کے وقت اٹھ کے جلدی سے انہوں نے غسل کیا اور عمدہ کپڑے پہنے اور چہر ے پر مسکراہٹ ہی مسکراہٹ تھی ،لوگ سمجھے کہ کہیں قریب کا سفر ہوگا لیکن حضرت گئے ہی نہیں ، نماز جمعہ کا وقت قریب آنے لگا تو خادموں سے کہا کہ تکیہ لائو ، تکیہ لایا گیا ، پھر حضرت لیٹ گئے اور کلمہ پڑھا اور روح قبض ہوگئی ، تب لوگوں کو سمجھ میں آیا کہ یہ پوری تیار ی در اصل آخرت کے سفر کے لیے تھی ، اللہ سے ملاقات کی کیسی خوشی تھی ان کو ۔

اداریہ