Daily Mashriq

فاٹا اصلاحات پر من مانی کا غیر جمہوری رویہ

فاٹا اصلاحات پر من مانی کا غیر جمہوری رویہ

فاٹا اصلاحات اور قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کے منصوبے کو جس طرح ایک سیاسی جماعت نے ہائی جیک کرلیا ہے اس کے سامنے مرکزی حکومت بھی بے بس نظر آتی ہے۔ فاٹا اصلاحات بل حکومت کی جانب سے خود اعلان کرنے کے باوجود قومی اسمبلی کے حالیہ اجلاس میں پیش نہ کیا جانا حکومت کے لئے کوئی نیک شگون نہیں۔ حزب اختلاف کا اسمبلی کا بائیکاٹ اور احتجاج اور خود ایک قبائلی مسلم لیگی رکن کا اس صورتحال سے تنگ آکر استعفے کی دھمکی پر مجبور ہونا جمہوری روایات کے منافی ہے۔ ایک جانب دعویٰ جمہوریت اور کثرت رائے کو مقبول طریقہ گردانا جاتاہے جبکہ دوسری جانب چند نشستیں رکھنے والی ایک جماعت کے رہنمائوں کی ہٹ دھرمی کے باعث قومی اسمبلی میں بل پیش کرنے کے اعلان کو بار بار موخر کیا جا رہا ہے۔ حد یہ کہ آرمی چیف نے بھی مذکورہ جماعت کے سربراہ سے ملاقات کرکے یہ معاملہ طے کرنے کی کوشش کی تھی اب ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے قائد کی جانب سے ان کے تحفظات دور کرنے کا عندیہ دیاگیا ہے۔ فاٹا اصلاحات اور اس کا صوبے میں انضمام کا فیصلہ درست ہے یا غلط اس کا فیصلہ چند افراد کے ہاتھوں میں نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس کا فیصلہ کرنے کے لئے پارلیمنٹ ہی مناسب فورم ہے۔ اس معاملے پر تحفظات کااظہار اور ان کو دور کرنے کا مناسب فورم بھی پارلیمنٹ ہی ہے۔ اگر خود سیاستدان پارلیمنٹ سے باہر معاملات طے کرنے لگیں اور تحفظات دور کرنے کے لئے غیر مناسب فورمز کا استعمال ہونے لگے تو پھر پارلیمنٹ کی بے وقعتی اور جمہوریت غیر مستحکم ہونے کا رونا کیوں رویا جا رہا ہے۔ قبائلی علاقہ جات کے عوام جن حالات سے دو چار ہیں اس کا کسی کو ادراک نہیں ان کو موجودہ صورتحال سے نکالنے اور ان کو قانون و انصاف سے روشناس کرانے کے لئے فاٹا کے مستقبل کا جلد سے جلد فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ فاٹا کا انتظام و انصرام جتنا جلد فاٹا کے عوام کی مرضی اور ان کے نمائندوں اور جواب دہ حکومت کے ہاتھ میں آجائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔
دم توڑتا حسن معاشرت
نوشہرہ میں باپ کا دو بیٹوں اور بیٹی سمیت دریائے کابل میںغرقاب ہو کر خود کشی کی کوشش کی خاندانی اور دیگر وجوہات جو بھی ہوں سوال یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو بیرون ملک جا کر اپنے بچوں کا مستقبل سنوارنے کے لئے محنت و مزدوری کرتا رہا اچانک اتنا ظالم اور بے بس کیسے ہوگیا کہ اپنی زندگی کے ساتھ اپنی اولاد کی زندگی کے بھی درپے ہوگیا۔ حالات و واقعات کے تناظر میں اس کی ذہنی صحت پر شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں بلکہ حالات سے تنگ آکر اس نے یہ انتہائی اور سنگین قدم اٹھانے کا فیصلہ کیا جو ہمارے معاشرے کا ایک تاریک چہرہ ہے اور یہ ہمارے معاشرتی بگاڑ اور خاندان کی اکائی کے ٹوٹنے کی نشانی بھی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اچانک اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے کہ ہمارے معاشرے کا پورا وجود بکھرنے لگا ہے۔ معاشرے میں بزرگوں کی قدر ادب و احترام اور چھوٹوں پر شفقت اور ان کی تربیت پر کسی کی توجہ نہیں۔ خاندانوں کی تقسیم اور مشترکہ خاندانی نظام کی تحلیل کے باعث مسائل بڑھ رہے ہیں خیر خواہی اور اصلاح پر مادیت پرستی نے دبیز تہہ چڑھا دی ہے۔ پشتون معاشرے میں حجرہ اور بزرگوں کی محفل کے باعث جو صحت مند روایات اور اقدار پروان چڑھتی تھیں اب وہ باقی نہیں رہا۔ معاشرتی طور پر اغیار کی نقل کے باعث ہمارا معاشرہ اب اس قدر انحطاط کا شکار ہوچکا ہے کہ ناقابل برداشت ہونے کے باعث خودکشیوں کی نوبت آجاتی ہے۔ اگر اس پر معاشرے کے نمائندہ کرداروں نے غور نہ کیا اور اصلاح احوال کے لئے قدم نہ اٹھائے گئے تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو جائے گی۔ کیا ہم اپنے ہاتھوں اپنے معاشرتی اقدار اور محاسن کا گلا اپنے ہاتھوں گھونٹتے رہیں گے یا اس کا احساس کرتے ہوئے اصلاح احوال کی سعی پر توجہ دیں گے۔
گیس کی لوڈشیڈنگ کا لاینحل مسئلہ
سوئی ناردرن گیس کے حکام کی جانب سے سوئی گیس کے گھریلو صارفین کے لئے لوڈشیڈنگ کی تردید ناقابل فہم اور صارفین سے مذاق کے مصداق ہے۔ حیات آباد کے صارفین کی جانب سے احتجاج کی دھمکی گوکہ موخر کردی گئی ہے لیکن اگر وعدے کے مطابق تین دن کے اندر اندر گیس پریشر کا مسئلہ حل نہ ہوا تو لوگوں کا سڑکوں پر نکلنے اور احتجاج کو روکنا ممکن نہیں رہے گا۔ سی این جی شعبے کو گیس کی فراہمی کے بارے میں محکمے کے ترجمان کی وضاحت سے ملی بھگت کی بو آتی ہے۔ جب تک گھریلو صارفین کی ضروریات پوری نہیں ہوتیں کسی اور شعبے کو گیس کی فراہمی کی گنجائش ہی نہیں ہونی چاہئے۔

اداریہ