Daily Mashriq


بابے نے کیا غلط کیا ہے؟

بابے نے کیا غلط کیا ہے؟

نبی کریم ؐنے فرمایا ہے کہ بدترین زیادتی کسی مسلمان کی عزت پر ناحق حملہ ہے۔اگر کسی نے کوئی غلط کام کیا ہے تو اس کو منظرِ عام پر لانا چاہیے لیکن اشاروں کنایوں میں ناحق کسی کی عزت اُچھالنا بہت بڑی زیادتی ہے۔ جب جب نواز شریف عدلیہ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں میں دیانتداری سے تمام حالات اور واقعات کا از سرِ نو جائزہ لیتا ہوں اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ کہاں عدلیہ نے نواز شریف سے زیادتی کی اور کہاں اُس نے دائرہ اختیار سے تجاوز کیا۔ 

3اپریل 2016ء کو انٹرنیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیٹیو جرنلزم نے پانامہ پیپرز کو شائع کیا اور دنیا بھر کے ان اُمراء اور حکمرانوں کو بے نقاب کیا جنہوں نے آف شور کمپنیاں بنائیں اور اپنا مال لوگوں کی نظروں سے چھپایا۔ وزیر اعظم پاکستان نے اپنا اور اپنے بچوں کا نام سامنے آنے اور لندن فلیٹس کے حوالے سے متضاد بیانات اور حقائق کے باوجود اپنے عہدے سے استعفیٰ نہ دیا بلکہ وہ مسلسل غلط بیانی کرتے رہے۔ ان کی تضاد بیانی عیاں تھی کہ انہوں نے قوم کے نام خطاب‘ پارلیمنٹ میں تقریر اور بعد ازاں عدالت عظمیٰ میں داخل کرائے گئے جواب میں مختلف مؤقف اختیار کیا۔ عدالت عظمیٰ میں مقدمے کی سماعت شروع ہوئی تو اس وقت چیف جسٹس انور ظہیر جمالی تھے جو دسمبر میں ریٹائرڈ ہو گئے اور بنچ ٹوٹ گیا۔ صاف دکھائی دیتا ہے کہ عدلیہ خدانخواستہ کسی سازش میں ملوث ہوتی تو فیصلہ جمالی صاحب کی موجودگی میں آتا۔ انہوں نے تو پانامہ کیس کا از خود نوٹس بھی نہ لیا تھا اور پانامہ کیس کو منطقی انجام تک نہ پہنچایا تھا۔ آئیے اب آگے چلتے ہیں ۔ نئے چیف جسٹس جناب جسٹس ثابت نثار نے از سرنو عدالت عظمیٰ کا پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا۔ اس بنچ نے 20اپریل 2016ء کو اپنا فیصلہ سنایا جس کے تحت جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو سن کر حکومتی جماعت نے خوشیاں منائیں اور ایک دوسرے کو رس گلے کھلائے یعنی فیصلے پر تحفظات کی بجائے اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم سرکاری افسران پر مشتمل تھی اور عام تاثر تھا کہ حکومت باآسانی ان کو انگیج کر کے اپنی مرضی کی تحقیقاتی رپورٹ تیار کرا لے گی۔آصف علی زرداری نے اس موقع پر کہا کہ جو کام عدلیہ کے معزز جج نہیں کر سکے وہ بے چارے سرکاری افسران کس طرح کر سکیں گے۔ عدلیہ کے تین ججوں کی مانیٹرنگ میں لیکن جے آئی ٹی اراکین نے دیانتداری اور جانفشانی سے اپنا کام مکمل کیا اور ایک ایسی تحقیقاتی رپورٹ مرتب کی جو نواز شریف اور ان کی فیملی کے خلاف مکمل چارج شیٹ کے مترادف تھی۔ میاں نواز شریف نے 20اپریل کے فیصلے کی روشنی میں اقتدار چھوڑا اور نہ ہی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آنے کے بعد انہوں نے اپنے آپ کو حکومت سے الگ کیا۔ اگر نواز شریف 20اپریل کے فیصلے کے بعد اس بنیاد پر عہدہ چھوڑ دیتے کہ عدالت عظمیٰ کے دو معزز جج صاحبان نے جو ریمارکس دیے ہیں اس کے بعد وہ ضروری سمجھتے ہیں کہ منصب سے الگ ہو کر اپنی بے گناہی ثابت کریں۔ اگر نواز شریف خود سے اقتدار چھوڑ دیتے تو اقامے کی بنیاد پر نااہل ہونے کا مرحلہ نہ آتا اور نہ ہی ان کے صادق و امین ہونے پر پانچ جج صاحبان کی مہر لگتی۔

سوچتا ہوں کہ عدالت عظمیٰ سے نواز شریف کی توقعات کیا تھیں؟ عدالت نواز شریف کو کیوں کر بے گناہ اور بے قصور قرار دے سکتی تھی جب کہ عدالت کے سامنے لندن فلیٹس کے حوالے سے ٹھوس ثبوت اور شواہد پیش نہ کیے جا سکے تھے۔ قطری شہزادے کا خط منی ٹریل کے ثبوت کے طور پر تب مانا جا سکتا تھا جب گلف سٹیل مل کی فروخت سے حاصل شدہ رقم ملنے کا ثبوت فراہم کیا جاتا۔ یہاں تو بات گلف سٹیل مل سے آگے ہی نہ بڑھی کہ مذکورہ مل گھاٹے میں فروخت ہوئی تھی۔ عدالت کیا میاں صاحب کے اقامے سے صرفِ نظر کر سکتی تھی اور اگر وہ ایسا کر لیتی تو اس کی ساکھ پر کیا باتیں نہ ہوتیں اور سوال نہ اُٹھتے؟عدالتی کارروائی کے پہلے دن سے ہی تاثر موجود تھا کہ عدالتوں نے ہمیشہ نواز شریف کو ریلیف مہیا کیا ہے چنانچہ اس مرتبہ بھی وہ عدالتوں سے سرخرو ہو کر نکلیں گے ۔ اثاثے چھپانے کی بنیاد پر چونکہ نااہلی بنتی تھی اس لیے عدلیہ نے نواز شریف کو ڈس کوالیفائی قرار دیا اور اپنی ساکھ و عزت بچائی۔ جہاں تک نواز شریف اور ان کی فیملی کے فیئر ٹرائل کا سوال تھا تو نیب ریفرنس بنانے کا حکم دے کر عدلیہ نے انصاف کے اُصولوں کی پاسداری کی۔ اب احتساب عدالت میں نواز شریف اپنی بے گناہی ثابت کرتے ہیں تو عدلیہ کو اس پر کیا اعتراض ہو گا۔ میاں نواز شریف کا ایک استدلال یہ ہے کہ منتخب وزیر اعظم کو کھڑے کھڑے فارغ کر دیا گیا ہے۔ یہ دلیل اس لحاظ سے غلط اور بے جا ہے کہ قانون کا اصول بلیک اینڈ وائٹ میں ہوتا ہے ‘ اس میں اگر مگر کی گنجائش نہیں بنتی‘ اگر مگر اور لحاظ وغیرہ سے معاملہ سیاسی طور پر طے ہوتا ہے۔ جو طے نہ کیا گیا اور سات ماہ ضائع کر دیے گئے۔ یہ دلیل کیا مانی جا سکتی ہے کہ ماضی میں چونکہ عدلیہ نے فوجی آمروں کو سہولتیں دیں چنانچہ آج وہ سیاستدانوں کا بھی لحاظ کریں اور ان کے جرائم و غلطیوں سے صرف نظر کرے؟نواز شریف عدلیہ کے خلاف جو مقدمہ قائم کر رہے ہیں وہ اسی نوعیت کا ہے۔ جہاں تک سازش کا تعلق ہے تو اس سارے پراسس میں کوئی ’’منظم سازش‘‘ دکھائی نہیں دیتی‘ اگر ایسا ہوتا تو نواز شریف اور ان کی ٹیم ججوں کے خلاف جوڈیشل کمیشن میں ریفرنس بھیجنے میں دیر نہ لگاتی۔ ماضی میں انہوں نے کیا ججوں کو راہ سے ہٹانے کی ایکسرسائز نہیں کی ہے؟ اگر منظم سازش میں بحیثیت ادارہ فوج یا اس کے کسی سینئر عہدیدار کا کردار ہوتا تو اس کو بے نقاب کرنے میں بھی نواز شریف کسی طور پر نہ ٹلتے۔ جنرل ظہیر الاسلام کی ریکارڈنگ انہوں نے جنرل راحیل شریف کو کیا سنانے کا اہتمام نہ کیا تھا اور اپنے معتمد خاص مشاہد اللہ خان کے ذریعے کیا یہ بات سارے عالم کو انہوں نے نہ بتائی تھی کہ دھرنے کے پیچھے کون تھا؟۔

متعلقہ خبریں