Daily Mashriq

ارکان اسمبلی کیلئے تعلیم کی شرط کیوں نہیں

ارکان اسمبلی کیلئے تعلیم کی شرط کیوں نہیں

کے عام انتخابات میں اب بہت کم عرصہ رہ گیا ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی پا رٹیاں ،صوبائی اور قومی اسمبلی کے لئے اپنے اُمیدواروں کے ناموںپر غور کر رہی ہیں ،جو آئندہ عام انتخابات میں اُن کے پلیٹ فارم سے الیکشن لڑ سکیں گے۔ اب تک وطن عزیز کے جتنی بھی سیاسی قوتیں ہیں، جن میں تحریک انصاف ،جمعیت العلمائے اسلام، پاکستان مسلم لیگ اور اے این پی شامل ہیں اُنہوں نے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے لئے جو اُمیدوار نامزد کئے ہیں یا کرنے والے ہیں اُن میں سے اکثر ایسے ہیںجو تعلیم کی روشنی سے بہرہ ور نہیں۔ ممکنہ اُمیدواروں کو علم اور شعور کے بجائے دولت اور جاگیر کی وجہ سے پا رٹی ٹکٹ دیئے جا رہے ہیں۔ باالفاظ دیگر جن کے پاس جتنی زیادہ دولت ، جاگیر اور اثاثے ہیںبڑی سیاسی پارٹیوں کیجانب سے اُنکو عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹ انتہائی پیار اور محبت سے عنایت کئے جار ہے ہیں۔ مختلف سیاسی پا رٹیوں کے رہنمائوں کا کہنا ہے کہ الیکشن پیسے کے بغیر نہیں جیتا جا سکتا ، جوتیسری دنیا اور بالخصوص پاکستان جیسی ریاست میںایک حقیقت بھی ہے ۔دنیا گلوبل ویلج ہے اور کوئی بھی ملک دوسرے ملک کے معاملات سے بے خبر اور علیحدہ نہیں ہو سکتا۔ ایک ملک دوسرے ملک کے تعلیم ، سائنس اور ٹیکنالوجی اور عصری علوم سے اُس وقت تک مستفید نہیں ہو سکتا جب تک ریاست کے عوام، ان کی Intelligensia قانون سازوں یعنی ایم این اے یا اپم پی اے کو عصری علوم پر عبورنہ ہو۔فی الوقت دنیا میں جتنے بھی معاملات اور مسائل ہیں جس میںبے روزگاری، ماحو لیاتی آلودگی، سائنس اور ٹیکنالوجی، تجارت ، تعلیم، صنعت و حرفت، ریاستوںکی خارجہ پالیسی، اقتصادی اور مالی مسائل، توانائی سے متعلق معاملات، تعلیم ، میڈیکل سائنس اور اسکے علاوہ ایسے عصری مسائل ہیںجن کو سمجھنے کے لئے تعلیم، شعور اور تجربے کی بُہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ اگر ہم غور کر یں تو علم اور تعلیم روشنی ہے ۔اگر ہم دنیا کے10 بہترین جمہوری ممالک، جن میں ناروے، آئس لینڈ، سویڈن، نیوزی لینڈ، ڈنمارک، کینیڈا، آئر لینڈ، سوئٹزر لینڈ ، فن لینڈ اور آسٹریلیا کا تجزیہ کریں تو یہ ممالک تعلیم میں سب سے آگے ہیں ، جسکی وجہ سے وہ اقتصادیات ، سائنس اور ٹیکنالوجی اور دوسرے میدانوںمیں دن دوگنی رات چگنی ترقی کر رہے ہیں۔ پاکستان 188 ممالک کے 17ممالک میں سے ایک ہے جہاں جمہو ریت اور جمہوری ادارے کمزور ہیں اور ان میں بُہت سارے عوامل کے ساتھ ساتھ تعلیم اور شعور کی کمی بھی ہے۔اگر ہم اپنے اڑوس پڑوس میں دیکھیںتو پاکستان تو جنوبی ایشیا میں بھی ایسا ملک ہے جو تعلیمی لحاظ سے سب سے پیچھے اور تعلیم پر کم خرچ کرنے والا ملک ہے ۔ بھوٹان اپنے وسائل کا 7.4 فی صد، مالدیپ اپنی قومی آمدنی کا 5.3 فی صد، بھارت 3.8 فی صد اور نیپال 3.7 فی صد جبکہ پاکستان اپنی قومی آمدنی کا صرف2.7 فی صد تعلیم پر خرچ کر رہا ہے۔بد قسمتی کی حد تو یہ ہے کہ وطن عزیز میں ایک نا ئب قاصد اور چپڑاسی کی تقرری کے لئے میٹرک تک تعلیم کے ساتھ ساتھ مناسب تجربہ بھی ضروری شرط ہے مگر افسوس کہ قانون ساز اداروں یعنی صوبائی اور قومی اسمبلی اور بلدیاتی اُمید واروں کے لئے تعلیم کی کوئی شرط نہیں ۔ ما ضی قریب میں جب پر ویز مشرف کے دور میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے اُمیدواروں کے لئے بی اے شرط رکھی گئی تھی، تو اُس وقت تو گر یجو یشن شرط پر مختلف سیاسی پا رٹیوں کی طرف سے بُہت تنقید کی گئی ، اور بڑے افسوس سے اکثر اُمیدواروں نے بی اے کی جعلی ڈگریاں اپنے کاغذات کے ساتھ لگائی تھیں۔اگر ہم قُر آن مجید اور فُر قان حمید پر نظر ڈالیں تو ان میں کئی آیات علم اور تعلیم سے متعلق ہیں۔ بلکہ اگر ہم قُر آن مجید فُر قان حمید کا مطالعہ کریں تو یہ کتاب بذات خود علم ، عقل ، فہم اور شعور کا سب سے بڑا سر چشمہ ، خزانہ اور منبع ہے۔علم نور ہے اور نو ر کے بغیر حق اور سچ میں فرق اور تمیز کرنا مشکل ہے۔ہم اُس وقت تک ایک ترقی پسند اور اسلامی جمہوری مملکت کی بنیاد نہیں رکھ سکتے جب تک ہم خود اور قانون ساز اداروں کے ممبران علم کی روشنی سے منور نہ ہوں ۔ میری نا قص رائے میں صوبائی اور قومی اسمبلی کے اُمیدواروں کے لئے تعلیمی قابلیت ایم اے ، ایم ایس سی ہو ،اور ساتھ ساتھ ایک ایسا پر چہ بھی پاس کرنا ہو، جس پر چے میں سائنس، سوشیالوجی، اکنامکس، انتھراپالوجی، میڈیکل سائنس ، قانون ،اسلامی علوم ، مطالعہ پاکستان اور عصری علوم بھی ہوں۔ اور یہ امتحان سی ایس ایس یا پی سی ایس لیول کا ہو۔ ساتھ ساتھ مختلف سیاسی پا رٹیوں میں مو روثی سیاست کا خاتمہ ہو۔اگر ہم اڑوس پڑوس میں دیکھیں تو ایران اور بھارت اور دوسرے کئی ترقی پذیر ممالک کے ممبر اسمبلی پی ایچٖ ڈی اور ماسٹر ڈگری ہولڈر ز ہیں۔حال ہی میں قومی اسمبلی میں جو قانون رسالت ﷺ کا بل پیش کیا گیا تھا ایک تو اس بل میں موجودہ حکومت کی بُری نیت شامل تھی اور ساتھ ساتھ اس بل کو کسی نے نہ پڑھا تھا اور نہ کسی کو اسکی سمجھ آئی تھی ۔ اللہ بھلا کرے صا حبزادہ طارق اللہ کا کہ انہوں نے اس کی نشاندہی کی، اگر وہ اس بل کو نہ پڑھتے تو یہ بل منظور ہوجاتا۔ یہ تو ہمارے حکمرانوں کی قابلیت ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ 2018میں جو انتخابات ہونگے اس سے کوئی تبدیلی آئے گی۔ جب تک ہم پورے الیکشن ریفارمز نہیں کریں گے اُس وقت تک کسی قسم کی تبدیلی کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ یہی موروثی سیاست دان ہمارے کند ھوں پر سوار رہیں گے۔ 

اداریہ