Daily Mashriq


جنرل جمہوریت کے رُوبرُو

جنرل جمہوریت کے رُوبرُو

چیف جنرل قمر جاوید باجوہ ملک کے ایوان بالا سینیٹ میں آئے تو یوں لگا کہ پاکستان ایک انقلاب سے آشنا ہوا ہے ۔سویلین بالادستی کی کتاب کا ایک نیا باب شروع ہورہا ہے ۔فوج پہلی بار منتخب سیاسی قیادت کو اپنے دفاعی اور تزویراتی رازوں کے خزانے میں شریک کررہی ہو ۔حقیقت میں یہ کوئی انقلاب نہیں نہ سویلین اور ملٹری بالادستی کے کھیل کا کوئی دائو پیچ ہے ۔فوج پارلیمنٹ ،عدلیہ سب اس ملک میں آئین کے تحت قائم ادارے ہیں۔ آئین کے تحت کام کرنا جہاں فوج کی ذمہ داری ہے وہیں حکومت ،پارلیمنٹ اور ان کی ماں یعنی سیاسی جماعتیں بھی آئین کے تقاضوں پر عمل کرنے کی پابند ہیں ۔آئین کھیل کے ضوابط کانام ہے اور ضوابط پر عمل کرنا ہر فریق کی ذمہ داری ہے ۔فوج سے تو گلہ ہے کہ جب کشمکش بڑھ جائے تو فوجی حکمران نظریہ ضرورت اور ملکی مفاد کی آڑ لیتے ہوئے آئین کی کتاب کو ہی اُٹھا کر طاق میں رکھ دیتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ آئین کے تقاضوں کو من وعن پورا کرنے کے لئے جب سیاست دانوں کی باری آتی ہے تو وہ عوام ،جمہوریت اور مینڈیٹ جیسی اصطلاحات کے پیچھے چھپتے ہیں ۔جنرل قمر جاوید باجوہ کی ارکان سینیٹ کو بریفنگ کی جو کچھ تفصیل اب تک سامنے آئی ہے اس میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے عملی طور پر خود کو پاکستان کے سب سے بالادست ایوان کے سامنے پیش کیا ہے ۔انہوں نے ارکان سینیٹ کو یقین دہانی کرائی کہ فوج جمہوریت کے ساتھ اور آئین کی پابند ہے ۔اس سے کچھ دن پہلے ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کے سربراہ اپنا مقدمہ پاکستانی عوام کی عدالت میں پیش کر چکے ہیں وہ ملک میں سازشوں اور گرینڈ پلان کی باتوں کو مستر د کرتے ہوئے آئین کے ساتھ کھڑے ہونے کی دوٹوک بات کر چکے تھے ۔ملک کے د و اہم اداروں کے سربراہوں کی طرف سے جمہوریت اور آئین کے ساتھ کھڑے رہنے کے عزم کا اظہار بتا رہا ہے کہ پاکستان میں ایک نئی صبح کے طلوع کے آثار ہیں۔پاکستان اپنی قومی ہی نہیں عالمی تاریخ کے سنگم پر کھڑا ہے۔ایک عہد ِکہن اپنے انجام کو پہنچ رہا اور ایک نیا عہد تشکیل کے مرحلے میں ہے ۔نئے عہد اپنے ساتھ نئی ضرورتوں اور قدروں کے ساتھ جلوہ گر ہوگا۔پاکستان نے اپنے ستر برس گزارے نہیں بلکہ گھسیٹے ہیں ۔ پاکستان کے پاس بقا کے دوراستے اور دو آپشن ہی باقی رکھ چھوڑے گئے تھے ۔اس ملک نے اپنے چراغ کی لو اس قدر نہیں بڑھانی کہ بھارت کے سورج کی چمک ماند پڑے اگر یہ نہیں تو پھرپاکستان کے مزید قطع وبرید کرکے اس مقام تک لایا جائے کہ بھارت کے مقابلے اور ہم سری کے قابل ہی نہ رہے ۔مغربی تھنک ٹینکس کی الماریوں میں تیار نقشے دور کی کوڑی نہیں اسی دن کے لئے تھے ۔پاکستان نے اپنے لئے یہ دونوں عنایتیں جھٹک دیں اور خود اپنی بنیاد پر کھڑا رہنے کا فیصلہ کیا اور اس کے موجودہ حالات اسی فیصلے کا عتاب ہیں۔ہر گزرتے دن کے ساتھ خطرات کم ہونے کی بجائے بڑھتے ہی جا رہے ہیں ۔یہ تاریخ کا دوراہا ہے ۔یہاں ایک راستہ پرانی منزل کو نکلتا ہے کہ پاکستان یونہی حالات کی تنی ہوئی رسی پر ڈگمگاتا چلا جائے ۔ایک طرف سے دبائو آئے تو اس جانب مڑ جائے دوسری جانب سے ترغیب و تحریص آئے تو رال ٹپکنے لگے ۔گویا کہ ملک نہ ہوا نظریہ ضرورت کا چلتا پھرتا اشتہار ہوجس میں دس برس سیاست دانوں کی حکومت اور دس برس جرنیل شاہی کے لئے مختص ہوں اور یوں اقتدار کی میوزیکل چیئر کا کھیل ماضی کی طرح چلتا رہے ۔یہ وہ دوراہا ہے جس میں ترکی مغربی طاقتوں کی شہ پر ہونے والی بغاوت کے وقت کھڑا تھا اور ترکی نے مجموعی طور پر اپنے لئے ایک راستے کا انتخاب کرلیا ۔یہ وہ دوراہاہے جہاں سر د جنگ کے خاتمے کے چند سال بعد تک بھارت کھڑا رہا اور پھر گومگوں کی کیفیت ختم کرکے ایک راہ کی جانب چل نکلا۔پاکستان اس ماہ وسال کے دوران ’’غریب کی جورو سب کی بھابھی ‘‘بنا رہا ۔زورا زوری میں اس کا حلیہ بگڑتے بگڑتے بچ گیا ۔مغربی طاقتوں نے یہ تاثر دیا کہ فوج سخت گیر اور جہادی اثرات کے زیر اثر اینٹی امریکن ازم کا شکار ہے جبکہ سویلین قیادت مغرب کی طرف جھکائو رکھتی ہے اور پاکستان کو اسی راستے پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے ۔سویلین قیادت کو ہلہ شیری دے کر فوج سے بھڑانے کی کوشش کی جاتی رہی ۔ دوراہا دہائیوں اور کبھی صدیوں بعد قوموں اور ملکوں کو درپیش ہوتا ہے ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کا سینیٹرز کے حضور پیش ہونا اور ان کے ذہنوں میں موجود سوالات کا جواب دینا اور خدشات کو دور کرنا انقلاب نہیں محض اس بات کا اشارہ ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی اور علاقائی حالات میں فوج جنرل ایوب خان ،جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کی لگیسی سے ناتا توڑکرنئے دور کے تقاضوں کے ساتھ اپنا رشتہ استوار کرنا چاہتی ہے۔ اس دور میں داخل ہونے کے لئے بدلی ہوئی سیاست بھی درکار ہے ۔بدلی ہوئی سیاسی جماعتیں اور شخصیات کی بھی ضرورت ہے ۔ جمہوریت سے وابستہ اصطلاحات کے پیچھے چھپنا مسائل کا حل نہیں رہا ۔ سیاست دان اس باریک نکتے کو سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جس ملک کے حکمران طبقات کی دولت کے انبار مغربی ملکوں میںلگے ہوئے ہوںوہ ملک آزادی سے اپنی راہ عمل متعین نہیں کر سکتا ۔

متعلقہ خبریں