Daily Mashriq

وطن عزیز سے محبت

وطن عزیز سے محبت

نگری کے پل کے نیچے ٹریفک کی بھرمار ہوتی ہے چونکہ تجاوزات کا سلسلہ پھر سے چل نکلا ہے اس لیے اب وہاں پیدل چلنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جانے وہ لوگ کہاں کھو گئے جنہوںنے تجاوزات کو لپیٹنے کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پشاور میں جس طرح تجاوزات کو ختم کیا گیا اس کی مثال نہیں ملتی لیکن یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ اب دکانداروں نے آہستہ آہستہ فٹ پاتھ کی طرف پیش قدمی شروع کردی ہے۔ انہیں اس بات کا احساس تک نہیں ہے کہ وہ چند ٹکوں کی خاطر مخلوق خدا پر راستہ بند کردیتے ہیں ۔ کل اسی ہشت نگری کے پل کے نیچے ایک ایسا منظر دیکھا کہ طبیعت ہشاش بشاش ہوگئی ٹریفک پولیس کا ایک نوجوان مستعد سپاہی اپنے خوبصورت یونیفارم میں ڈیوٹی پر موجود تھا اس کے قریب ایک سوزوکی ڈبہ آکر کھڑا ہوگیا۔پشاور کی پولیوشن تودن دوگنی رات چوگنی ترقی کر رہی ہے۔ گردوغبار اتنا زیادہ ہے کہ ایک دن بعد کپڑے ضرور تبدیل کرنے پڑتے ہیں۔ وہ سوزوکی ڈبہ بھی دھول سے اٹا ہوا تھا ۔ ٹریفک پولیس کا نوجوان آگے بڑھا اور سوزوکی ڈبہ کے دھول سے اٹے ہوئے شیشے پر اپنی انگشت شہادت سے کچھ لکھنے لگا ۔ یہ منظر دیکھ کر ہمارے اندر کا کالم نگار بیدار ہوگیا۔ ہم بھی اسی طرف چل پڑے جہاں ٹریفک کے سپاہی صاحب کچھ لکھ رہے تھے۔ جب قریب جاکر دیکھا تو وہ اپنی تحریر مکمل کرچکے تھے ۔ وہ انگریزی میں لکھا ہوا ایک جملہ تھا جسے پڑھ کر ہم مسرت سے جھوم اٹھے۔ ’’ I love my country‘‘میں اپنے وطن سے محبت کرتا ہوں ۔ نوجوان سپاہی کے اس جملے کو پڑھ کر یقین کیجیے ہمارے دل کی عجیب حالت ہوئی آنکھیں پرنم ہوگئیں۔آج ہمیںاگر ضرورت ہے تو اسی جذبے کی!وطن عزیز چاروں طرف سے دشمنوں میں گھرا ہوا ہے اسے شکست و ریخت سے دوچار کرنے کے لیے ہر قسم کا حربہ آزمایا جارہا ہے بیرونی خطرات تو رہے ایک طرف ہم اپنے قول وفعل سے اپنے پیارے وطن کو کمزور سے کمزور تر کرنے میں مصروف ہیںہمارے سارے مسائل کا حل اس سپاہی کے ایک جملے میں پوشیدہ ہے ۔ کیا واقعی ہمیں اپنے وطن سے پیار ہے؟ اگر ہم اپنے وطن سے محبت کرتے ہیں تو اس کے کچھ عملی تقاضے بھی ہیں محبت صرف زبانی کلامی نہیں ہوا کرتی!دوچاردوستوں کی صحبت میں گپ شپ لگ رہی تھی ایک دوست کہنے لگے کہ جناب ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ وطن عزیز کے خلاف سازشوں کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے اور ہماری یہ حالت ہے کہ ہم دشمن کے کام کو آسان سے آسان تر کر رہے ہیں۔ سیاستدان ایک دوسرے کے خلاف لنگر لنگوٹ کس کر میدان کارزار میں اترے ہوئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی مہم زور و شور سے جاری ہے ۔ میڈیا نے پوری قوم کو اپنے حصار میں جکڑا ہوا ہے ہم سب کے دن کا آغاز اسی قسم کے بحث مباحثوں سے ہوتا ہے رات کو ٹاک شوز دیکھے جاتے ہیں اور پھر صبح اٹھتے ہی ان ٹاک شوز سے حاصل کی گئی معلومات کی الٹیاں کی جاتی ہیں۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ پوری قوم کے پاس یہی ایک مشغلہ رہ گیا ہے !ایک دوسرے صاحب کہنے لگے کہ ہم کر بھی کیا سکتے ہیں؟ یہ تو سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ اپنا قبلہ درست کریں۔ اس وقت وطن عزیز کی صورتحال دیکھ حیرت ہوتی ہے انتخابات قریب آگئے ہیں ساڑھے چار برس کا عرصہ گزر چکا ہے اور سیاستدانوں کے جھگڑے ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتے ! ہونا تو یہ چاہیے کہ انتخاب کے بعد جب حکومت بن جاتی ہے تواسے اپنا کام کرنے دیا جائے اور اپوزیشن اپنا کام کرے۔ اگر کسی جگہ حکومت کسی بھی قسم کی غفلت کا مظاہرہ کرتی ہے تو اس کی نہ صرف نشاندہی کی جائے بلکہ اسے صحیح ٹریک پر لانے کی کوشش بھی کی جائے اور یہ سب کچھ جمہوری روایات اور طریقوں کے مطابق ہونا چاہیے ۔ اصولی اختلاف کی ہر وقت گنجائش رہتی ہے تنقید بھی اصولی ہونی چاہیے ۔ تنقید برائے تنقید نہیں ہونی چاہیے ۔ہمارے یہاں تو نفرتوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ اصولی اختلاف کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے اب تو اختلاف برائے اختلاف ہی ہر طرف نظر آتا ہے۔ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ جیسی رعایا ویسے حکمران!جیسا منہ ویسا تھپڑ! جیسی روح ویسے فرشتے! یہ سلسلہ ایک چپراسی سے شروع ہوکر وزیر اعظم تک چلتا نظر آتا ہے۔ ہم تنقید تو بڑے شوق سے کرتے ہیں لیکن یہ کبھی بھی سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے کہ اپنے وطن سے محبت کے تقاضے کیا ہیں اگر کوئی اپنا کام دیانتداری سے کررہا ہے اپنی حدود سے تجاوز نہیں کررہا قومی املاک کی حفاظت کرتا ہے ایسے کاموں سے گریز کرتا ہے جن سے قومی اثاثوں کو نقصان پہنچتا ہے یا ایسے کام نہیں کرتا جن سے ملکی خزانے کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو تو وہ محب وطن بھی ہے اور اپنے حصے کا کردار بھی بطریق احسن ادا کر رہا ہے۔ یہ تو اپنی اپنی حیثیت کی بات ہے جس کا جتنا بس چلتا ہے وہ ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اس کو اس بات سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ وطن عزیز کو اس کے ذاتی مفادات کتنا نقصان پہنچارہے ہیں۔ چپراسی سے لے کر صدر مملکت تک سب اپنے اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت گوارا کریں تو سب جان لیں گے کہ اپنے حصے کا کام کوئی بھی نہیں کر رہاسب اپنے اپنے مفادات کی تکمیل میں سرگرم عمل ہیں بات اس وقت بنے گی جب وطن عزیز کے مفاد کو ہر چیز پر فوقیت دی جائے گی! ۔

اداریہ