Daily Mashriq

فخر پشاور ایوارڈ۔۔قابل تحسین‘ مگر۔۔۔۔۔

فخر پشاور ایوارڈ۔۔قابل تحسین‘ مگر۔۔۔۔۔

فخر پشاور ایوارڈز کی تقسیم یقینا قابل قدر ا ور قابل تقلید اقدام ہے اور اس حوالے سے ضلعی حکومت کو خراج تحسین پیش کرنے میں کسی بخل سے کام نہیں لیا جانا چاہئے خصوصاً ان ایوارڈز سے وابستہ کمیٹی کے ارکان نے جس طرح دن رات محنت کرکے ان ایوارڈز کو ایک اعتبار دیا اس کی وقعت بڑھائی اور پشاور کے اہل کمال کو آگے لانے‘ ان کی پذیرائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا اس کو کھلے دل سے تسلیم کیا جانا چاہئے۔ اس ضمن میں ناظم پشاور محمد عاصم خان‘ نائب ناظم سید قاسم علی شاہ اور چیئر مین ڈسٹرکٹ سپورٹس اینڈ یوتھ افیئرز مینا خان آفریدی لائق مبارک باد ہیں کہ بہت عرصے بعد ضلعی حکومت کی سطح پر ایک بار پھر پشاور میں ان ایوارڈز کی تقسیم عمل میں آئی۔ دراصل بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو تاریخ کا حصہ ہوتی ہیں اور وقت کی گرد میں کہیں گم ہو جاتی ہیں مگر پھر بھی تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ اس لئے ریکا رڈ کو درست کرنے کے لئے ان کا تذکرہ ضروری ہو جاتا ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جس طرح فخر پشاور ایوارڈز کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا گیا کہ سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ کی سطح پر پہلی بار ان کی تقسیم عمل میں آئی ہے تو معاف فرمائیے کم از کم راقم اس دعوے سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ 2004ء میں اس وقت کی ضلعی حکومت نے پہلی بار اسی نوعیت کے ایوارڈز کی بناء رکھی تھی جسے اعتراف فن ایوارڈز کا نام دیاگیا تھا۔ اس ضمن میں راقم بھی اس کمیٹی میں شامل تھاجس نے ایوارڈز کے لئے نامزدگیاں کی تھیں مگر بدقسمتی سے اعتراف فن کے ایوارڈز 2004ء میں تقسیم ہونے کے بعد بوجوہ جاری نہ رہ سکے۔ تاہم جیسا کہ فخر پشاور ایوارڈز کو جاری رکھنے کے دعوے کئے جا رہے ہیں اللہ کرے کہ یہ سلسلہ چلتا رہے اور ہر سال اسی طرح ہنروروں کو مختلف شعبوں میں ان ایوارڈز سے نوازا جاتا رہے۔ اسی لئے تو فخر پشاور ایوارڈز کے اجراء پر ہم نے خوشی کااظہار کیا ہے اور جس محنت سے تقریب کا اہتمام کیاگیا تھا وہ پشاور کی ثقافتی زندگی کی ایک یادگار تقریب کے طور پر تادیر یاد رکھی جائے گی۔ اگرچہ ملکی سطح پر بھی اہل کمال کی پذیرائی کے لئے بڑی سطح کے ایوارڈز تقسیم کئے جاتے ہیں جن میں تمغہ امتیاز‘ پرائیڈ آف پرفارمنس‘ ستارہ امتیاز‘ ہلال امتیاز‘ نشان امتیاز وغیرہ شامل ہیں جن کے ساتھ ایک معقول رقم بھی شامل ہوتی ہے یعنی پرائیڈ آف پرفارمنس کے ساتھ دس لاکھ روپے دئیے جاتے ہیں جبکہ دیگر کے ساتھ شاید پلاٹ وغیرہ دئیے جاتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہوتا کہ فخر پشاور ایوارڈ کے ساتھ کم از کم ایک لاکھ روپے تو ضرور دئیے جاتے جس کے لئے ضلعی حکومت کے کرتا دھرتا وزیر اعلیٰ سے درخواست کرکے رقم کا اہتمام کروا سکتے تھے اس لئے گزارش ہے کہ اگلی بار اس تجویز پر ضرور غورہونا چاہئے۔

اس نے جس طاق پہ کچھ ٹوٹے دئیے رکھے ہیں
چاند تاروں کو بھی لے جاکے وہیں پر رکھ دو
اب چند اہم معروضات پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہوں‘ قطع نظر اس بات کے کہ فخر پشاور ایوارڈ کے اجراء کو نہایت قابل تحسین اقدام قرار دیا جانا چاہئے اور وہ یہ کہ ان ایوارڈز کی تقسیم میں چند نہایت اہم اشخاص کا ذکر کہیں دکھائی نہیں دیا۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی جانب توجہ کسی بھول چوک کی وجہ سے نہیں دی گئی ہو مثلاً محترمہ زیتون بانو کا نام دکھائی نہیں دیا حالانکہ ادب کے شعبے میں وہ ایک بہت بڑا نام ہیں۔ ان کے کارنامے گننا شروع کر دیں تو صفحے کے صفحے سیاہ ہو جائیں اور تذکرہ ختم نہ ہو۔ اسی طرح سید صابر شاہ صابر کی ادبی خدمات بھی قابل توجہ ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف اور سب سے بڑا کارنامہ یہ کہ انہوں نے امارات میں مقیم لا تعداد پشتو کے ادباء اور شاعروں کو خیبر پختونخوا کی ادبی دنیا سے روشناس کرایا۔ ان کی کتابیں چھاپیں اور ان کا مقام متعین کیا۔ سٹیج‘ ریڈیو اور ٹی وی کے ایک اہم فنکار عشرت عباس کو بھی نظر انداز کرنے کی سمجھ نہیں آسکی۔ فیروز خان آفریدی نے ایک عرصے تک قطر کی ادبی دنیا کو متحرک رکھنے میں اہم کردار ادا کیا اور ملک کا نام روشن کیا۔ اہل قلم میں چند اور اہم نام بھی ایوارڈز میں نظر نہیں آئے۔ ان میں خالقداد امید جیسے لکھاری اور ریڈیو ٹی وی کے اہم فنکار کا نام بھی شامل ہے۔ ریڈیو ٹی وی کا ذکر آیا ہے تو نذیر بھٹی بھی یاد آئے جنہوں نے ٹی وی اور فلم کے شعبوں میں کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ اسی طرح شین شوکت کا تذکرہ نہ کیاجائے تو زیادتی ہوگی۔ ان کا تو یوں بھی حق فائق ہے کہ موصوف ایک طویل عرصے تک بطور لائبریری انچارج میونسپل کارپوریشن سے نہ صرف وابستہ رہے بلکہ کارپوریشن کے رسالے کی ادارت بھی ان کے ذمے تھی۔ اسی طرح پی ٹی وی کے ریٹائرڈ جنرل منیجر مجید اللہ خلیل کی ادبی خدمات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں ہیں جبکہ ثمینہ قادربھی جہاں لگ بھگ 30‘35 سال سے ریڈیو پشاور سے صدا کارہ کی حیثیت سے وابستہ ہیں وہیں پشتو شاعری کاایک اہم نام ہیں اور تاج امر کی ادبی خدمات کو کیسے بھلایا جاسکتا ہے۔ ابراہیم ضیاء کا تذکرہ بھی ضروری ہے جنہوں نے لگ بھگ ایک صدی کے فنکاروں کو چھان پھٹک کر کتابی صورت دے دی ہے جو ہیں تو پشاور کے مگر ہندوستان اور پاکستان کی فلم انڈسٹری پر چھائے رہے ہیں۔غرض کئی ایسے اہم نام ہیں جن کی جانب توجہ نہیں جاسکتی۔ اس لئے ان کا تذکرہ یادداشت کے طور پر کرکے ہم نے اپنا فرض نبھا دیا ہے اس امید پر کہ آنے والے وقت میں ان کی پذیرائی ضرور کی جائے گی۔

اداریہ