Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

خلیفہ منصور نے ایک مرتبہ خواب میں ملک الموت (حضرت عزرائیل علیہ السلام) کو دیکھا تو منصور نے ملک الموت سے پوچھا کہ میری زندگی کتنی باقی ہے اور میری موت کب ہوگی؟
ملک الموت نے اپنے ہاتھ کی پانچ انگلیوں کو دکھایا او رکچھ نہیں کہا۔ منصور جب صبح بیدار ہوا تو تمام بڑے علماء کو اپنے پاس بلایا اور اپنا خواب سنا کر تعبیر دریافت کرنے لگا۔
بعض علمائے کرام نے یوں تعبیر کی کہ پانچ انگلیوں سے پانچ سال حیات کی طرف اشارہ ہوگا اور بعض نے کہا کہ پانچ مہینہ کی طرف اشارہ ہوگا اور بعض نے پانچ دن اور بعض خاموش رہے۔ بہر حال صحیح تعبیر کسی کی طرف سے نہیں ملی اور آخر میں حضرت امام ابو حنیفہؒ نے یہ تعبیر دی کہ پانچ انگلیوں سے اس آیت کی طرف اشارہ ہے:
بے شک اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کی خبر ہے‘ وہی بارش برساتا ہے اور وہی جانتا ہے جو کچھ رحم میں ہے اور کوئی شخص نہیں جانتا کل وہ کیا عمل کرے گا اور نہیں جانتا کوئی شخص وہ کس زمین میں مرے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ سب باتوں کا جاننے والا باخبر ہے۔
اس آیت میں پانچ چیزوں کے بارے میں بتایاگیا کہ انہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے کوئی نہیں جانتا‘ ان میں موت کا وقت بھی شامل ہے۔ تو ملک الموت نے بھی اسی طرف اشارہ کیا تھا۔
خالد بن یزیدؒ اپنے وقت کے بہت بڑے عالم اور عارف تھے‘ فن حدیث میں امتیازی مقام رکھتے تھے۔ امام زہریؒ نے آپ سے بھی روایت کی ہے‘ حق بات کہنے میں کسی سے خوف نہیں کھاتے تھے‘ خلیفہ وقت عبدالملک بن مروان کو کئی مرتبہ بھرے دربار میں اسکی غلطیوں پر تنبیہہ فرمائی۔
مورخین کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ان سے دریافت کیاگیا کہ انسان سے سب سے زیادہ کیا چیز قریب ہے؟ آپ نے فرمایا: موت! اب دوسرا سوال یہ کیا گیا کہ امید بندھانے والی کیا چیز ہے؟ جواب دیا: عمل! پھر سوال ہوا: دنیا میں سب سے زیادہ وحشت کس چیز سے ہوتی ہے؟ ارشاد ہوا: میت سے! ان سے دنیا کی حقیقت دریافت کی گئی توفرمایا: دنیا ایک منتقل ہونے والی میراث ہے۔
پس جو طاقتور ہے اس کو اپنے کمزور ہو جانے کا خطرہ لگا ہے اور مالداروں کو مفلس ہو جانے کا‘ کتنی ہی طاقتور قومیں کمزوری و ناتوانی کاشکار ہوگئیں اور کتنے ہی مالداروں پر غربت کا سایہ بڑھنے لگا اور اگر کوئی شخص خود پسندی و خودرائی میں مبتلا ہے تو سمجھ لو کہ اس کادیوالیہ ہوچکا ہے۔یحییٰ بن معاذؒ اپنے وقت کے بڑے ولی گزرے ہیں‘ فرماتے ہیں کہ عقل مند وہ ہے جو دنیا کو چھوڑ دے‘ اس سے پہلے کہ دنیا اس کو چھوڑ دے اور اپنی قبر پہلے سے تیار کرلے‘ اس سے پہلے کہ اس کو اس میں داخل کیاجائے اور اپنے رب کو راضی کرلے‘ اس سے پہلے کہ وہ اس کی بار گاہ میں حاضر ہو۔
(کچھ دیر اہل حق کے ساتھ صفحہ نمبر13)

اداریہ