Daily Mashriq

فروٹس فار آل مگر کیسے؟

فروٹس فار آل مگر کیسے؟

خیبرپختونخوا میں فروٹس فار آل کے تحت اگلے ماہ ایک لاکھ تیس ہزار پھلدار پودے لگانے کی مہم کا عوام اور خاص طور پر شجرکاری کے شوقین اور فطرت سے محبت کرنے والوں کو شدت سے انتظار فطری امر ہوگا۔ اس پروگرام میں نیشنل بنک کی اعانت اور دیگر اداروں کی شرکت پروگرام کی کامیابی میں معاون ہوگی۔ گورنر خیبر پختونخواشاہ فرمان نے اس مہم کے ضمن میں تیسرے جائزہ اجلاس میں اس مہم سے متعلق جس خوش گمانی کا اظہار کیا ہے معروضی صورتحال کے تناظر میں اس سے اتفاق ضروری نہیں ۔ گورنر خیبر پختونخوا کی دانست میں پروگرام کی کامیابی سے صوبہ پھلوں کی پیداوار میں خود کفیل ہوگا بچوں کی غذائی ضروریات اور نشوونما میں مدد ملے گی اور صوبے میں کسی کو پھل خریدنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔ہم سمجھتے ہیں کہ گورنر کے ارشادات نا ممکنات کا تذکرہ تو نہیں لیکن اس موقع پر اس امر کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ پودے لگانے کیلئے موزوں مقامات کہاں کہاں تلاش کئے جائیں ، پانی کا انتظام کیسے ہوگا۔کونسے علاقے کس پھلدار پودے کیلئے موزوں ہوں گے۔ شہروں میں اس کیلئے اراضی کا بندوبست اور خاص طور پر شہریوں کو گھروں میں پھلدار پودے لگانے اورسبزیاں اگانے کیلئے حکومت کیا مواقع اور سہولیات فراہم کرسکے گی ۔گنجان آبادی کے مکینوں کو کچن گارڈننگ کی طرف مائل کرنے ان کو تربیت فراہم کرنے سہولیات دینے اور کچن گارڈنز کیلئے وسائل کیسے دیئے جائیں اور اس ضمن میں حکومتی ادارے کیا کردار ادا کرسکتے ہیں ۔صوبائی حکومت جاپان، چین اور امریکہ میں پودے لگانے اور سبزیات اگانے کیلئے کئے گئے تجربات وانتظامات کے نتائج اور طریقہ کار سے عوام کو کس حد تک روشناس کر اسکے گی اور ان طریقوں کی ضرورت اور کامیابی کے امکانات کس حد تک قابل عمل اور قابل تقلید ہوں گے۔ عوام میں شعور اجاگر کرنے اور اس مہم میں معاشرے کے مختلف طبقات کو پروگرام کامیاب بنانے کے نگرانوں اور محرکین کے طور پر کس طرح ابھارا جائے ، بجائے ان امور پر کام کرکے حکومت کو رپورٹ اور عوام کو آگاہ کرنے کے نشتند گفتند وبرخواستند قسم کے اجلاس اس اہم مہم کی کامیابی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔گورنر جس مرحلے کا تذکرہ کرر ہے ہیں وہ اگر ہنوز دلی دور است کے مصداق نہیں تو اس صورتحال سے زیادہ مختلف بھی نہیں۔ گورنر کو شاید اس امر کا ادراک بھی نہیں کہ جس مرحلے کی وہ بات کررہے ہیں اس مرحلے کے آنے سے قبل موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کی مدت بھی پوری ہوچکی ہوگی۔ پودے لگا کر اول اس کی نگہداشت اور آبیاری کی جاتی ہے پھر اس کے پھلدار درخت بننے کا انتظار کیا جاتا ہے اس کے بعد ہی اس میں برگ وبار آنے پھل لگنے اور پھلوں کے تحفظ وتجارت اور ان سے غذا کی ضروریات پوری کرنے کی نوبت آتی ہے۔ یہ بڑا طویل صبر آزما اور محنت طلب کام ہے جس کا گورنر ہائوس کے باغات کی سیر کرتے ہوئے احساس نہیں کیا جا سکتا۔ اس کیلئے مالیوں دہقانوں اور ماہرین زراعت کی سننا پڑتی ہے۔ ان سے مشورہ کرنا پڑتا ہے ۔ ہم اس منصوبے کی دلی تحسین کرنے کے باوجوداس منصوبے سے زیادہ توقعات نہ رکھنے کو ہی حقیقت پسندانہ امر سمجھتے ہیں۔ ہمارے تئیں باغات لگانے کیلئے سرکاری زمین دستیاب ہے اور لوگوں کو تھوڑی سی ترغیب دے کر اس عمل میں شریک بھی کیا جا سکتا ہے۔ ہمارے نزدیک سب سے زیادہ مشکل کام پودوں کی نگہداشت اور حفاظت کا ہے جس کیلئے سب سے پہلے اقدامات کے بعد ہی شجرکاری مہم شروع ہونی چاہیئے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کام ساتھ ساتھ بھی ممکن ضرور ہے لیکن آبادی کے نزدیک مقامات میں تحفظ اشجار کا بندوبست قبل ازوقت اور بروقت نہ ہو تو پودوں کے ضیاع کا بہت امکان ہے ۔ بد قسمتی سے ہمارے صوبے کی بیشتر آبادی دیہاتی ہونے کے باوجود اس شعور سے عاری ہے۔ شہروں میں بھی چند ایک تعلیم یافتہ اور باشعور افراد کے علاوہ پودوں اور گھاس کو روندنے کو ذرا بھی معیوب نہیں سمجھتے۔ اگر سروے کیا جائے تو صوبائی دارالحکومت میں گرین بیلٹ اور پودوں کو قدرتی طور پر جو نقصان پہنچتا ہے وہ اپنی جگہ سب سے زیادہ نقصان اور تباہی ہم شہریوں کے ہاتھوں ہوتی ہے۔عام پودے تو ایک مرحلے پر حفاظت اور تحفظ کے دور سے گزر جاتے ہیں لیکن پھلدار پودے اور درخت تو پھل آنے پر خاص طور پر خطرات کی زد میں آتے ہیں اور پھلوں کی حشرات وبشرات دونوں سے حفاظت بڑا مشکل کام ہوتا ہے جس کا ادراک کرنے اور اس کی پودے لگانے سے قبل ہی تیاری کی ضرورت ہے ۔ آبادی کے قریب جن جن مقامات پر پودے لگائے جائیں اس کیلئے چاردیواری یا حفاظتی باڑ کا ابھی سے بندوبست ہونا چاہیئے۔ زمین ہموار کرنے اور پانی کے انتظامات کے بعد ہی پودے لگائے جا سکیں گے جبکہ شہروں میں شہریوں کو بالکونیوں اور چھتوں پرسبزیاں اگانے اور اس ضمن میں ان کی تربیت اور وسائل کی فراہمی پر توجہ ہونی چاہیئے۔ صوبہ بھر میں پھلدار درخت لگانا ہی کافی نہ ہوگابلکہ ایک تسلسل کے ساتھ اس عمل سے جڑے رہ کر ہی اسے کامیاب صورت میں دیکھنا ممکن ہوگا۔

متعلقہ خبریں