Daily Mashriq


معمر معلم کی میت کی بے حرمتی

معمر معلم کی میت کی بے حرمتی

نیب کی طرف سے گرفتار کئے گئے سرگودھا یونیورسٹی کے سب کیمپس کے سربراہ پروفیسر میاں محمد جاوید کی جو ڈیشل ریمانڈ کے دوران موت طبعی ہے یا غیر طبعی یہ ایک طبی معاملہ ہے۔ افسوناک امر یہ ہے کہ ایک دانشور اور معلم کی موت ہتھکڑیوں میں ہوئی جن کی موت کے بعد بھی زنجیریں کھولنے کی زحمت نہیں کی گئی۔ یہ ایسا افسوسناک عمل ہے جس کی کسی طور بھی ایک مہذب معاشرے میں گنجائش نہیں۔ نیب کی تحقیقات اور ضروری ہوم ورک' شواہد اور ثبوتوں کے بغیر گرفتاریوں کا تسلسل الگ موضوع ہے لیکن نیب کی حراست میں ملزمان کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے اس کی گنجائش نہیں ہونی چاہئے۔ پروفیسر جاوید مرحوم دوران تفتیش کن حالات سے گزرے ہوں گے اور ایسا کیا روگ ان کو لگا ہو کہ وہ جوڈیشل ریمانڈ کے دوران اس کی شدت کے اثرات کا شکار ہوئے اس سارے معاملے کی تحقیقات ہونی چاہئے اور ایسا ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ نیب کی یہ پہلی مرتبہ کی غلطی نہیں بلکہ پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر سمیت دیگر اساتذہ گرامی کو ہتھکڑیوں میں جکڑنے پر تو چیف جسٹس بھی اظہار برہمی کرچکے ہیں جبکہ سول سوسائٹی بھی اس کی بھرپور مذمت کرچکی ہے۔اگر ملزم کو ہتھکڑی لگائے رکھنا ہی قانون کا تقاضا ہے توایسے کتنے ہی ملزمان روز میڈیا پر کیوں دکھائی دیتے ہیں جن سے نیب تحقیقات کر رہی ہے یا وہ پھر عدالتی ریمانڈ پر ہوتے ہیں ۔ یہ دوہرا قانون اور دوہرا معیار کیوں؟ کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ قانون اور احتساب صرف عام آدمی کے لئے ہی ہے۔ طاقتور تو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بھی اپنی مرضی کرتا ہے۔ اگر ایک بیمار پروفیسر کو ہتھکڑیاں لگائے ہسپتال لے جایا گیا تھا تو کیا ڈاکٹروں کایہ اخلاقی فرض نہیں تھا کہ وہ مریض کی ہتھکڑیاں کھلوا دیتے اور اگر اس حالت میں ان کی موت ہی واقع ہوگئی تو پھر اس کا ذمہ دار کون ہے کہ ان کی ہتھکڑی لگی میت کی تصویر کھینچ کر میڈیا کو پہنچائی گئی۔ حکومت کو اگر اس کی تحقیقات کی توفیق ہو تو فبہا وگرنہ عدالت عالیہ لاہور یا عدالت عظمیٰ کو اس کا نوٹس لینا چاہئے اور ایک مرحوم شخص کی توہین کے مرتکب ہونے والے پولیس اہلکاروں اور ہسپتال انتظامیہ کے خلاف تحقیقات کرائی جائے اور توہین کا ارتکاب کرنے والے عناصر کے خلاف کارروائی ہونی چاہئے۔

وسائل کی فراہمی کے باوجود شکایات کیوں؟

حکومت کی طرف سے اصلاحات اور علاج معالجہ کی سہولتوں میں بہتری لانے کے اقدامات سے انکار نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ اس میں ایسی بہتری نہیں آتی جس پر اطمینان کا اظہار کیا جا سکے ۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے رش اور ہجوم کے مقابلے میں فراہم کردہ وسائل کی کمی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ ہسپتالوں میں بدعنوانی اور اقرباء پروری کے امکانات کسی بھی سرکاری محکمے کی طرح ہونا کوئی راز کی بات نہیں ۔عام مشاہدہ ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں غریب اور لاچار مریضوں کے لئے سہولت اور وسائل اور ادویات و آلات تشخیص کی کمی ہوتی ہے ہسپتال انتظامیہ ، ڈاکٹر ز ، نرسز اور پیرامیڈیکل سٹاف کے عزیز واقارب انہی سرکاری ہسپتالوں سے بہتر علاج معالجے کی سہولیات اس لئے حاصل کر پاتے ہیں کہ ہسپتال منتظمین اور عملہ عوام کو محروم کر کے ان کے علاج معالجہ،تشخیص کی سہولیات اور ادویات کی فراہمی میںاقربا پروری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں جب تک ریفرنس اور تعارف کاکلچر رائج ہے اور ہر چارہ دست مریض کے ساتھ کسی بڑے صاحب کا معاون یا ہسپتال کے عملے کا کوئی رکن مریض کو اپنا کہہ کر تعارف کرنے کا رواج جاری ہے ایک عام مریض کی کسی سینئر ڈاکٹر تک رسائی ممکن ہی نہیں۔ او پی ڈی کی پرچی ملنے کے بعد اگر مریضوں کی صرف رہنمائی کے لئے عملہ ساتھ ہو اور مریضوں کا معائنہ متعلقہ ڈاکٹر آزادانہ اور کسی امتیاز کے بغیر کرنے کا طریقہ کار حقیقی معنوں میں اختیار کرے توعوام کی شکایات میں کمی ممکن ہوگی بصورت دیگر حکومت فنڈز بھی دیتی رہے گی اور شکایات بھی اپنی جگہ قائم رہیں گی۔ صوبائی حکومت کوچاہئے کہ وہ وسائل کی فراہمی کے ساتھ ساتھ علاج وتشخیص پر مامور افرادی قوت کے رویے اور طریقہ کار میں تبدیلی لانے پر توجہ دے اور ہسپتالوں میںایک ایسا نظام رائج کیاجائے کہ مریض کو مریض سمجھ کر توجہ دی جائے۔ تعارفی پرچی اور ٹیلی فون کال سن کر ترجیح وتشخیص کی لعنت کا خاتمہ کیا جائے۔ ڈاکٹروں اور طبی عملے کو پیشہ ورانہ اخلاق اور ضابطوں کا پابند بنایا جائے۔خاص طور پر نرسنگ اسٹاف کو بااخلاق طریقے سے مریضوں اور ان کے لواحقین سے پیش آنے کی ہدایت کی جائے اگر نرسنگ اسٹاف ہی ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے تماشا بنتے دکھائی دیں گی تو ہسپتالوں کے ماحول کے بارے میں مثبت تاثر کیسے قائم ہوگاجو پہلے ہی عوامی مشاہدات اور تجربات کی بنیاد پر سنگین منفی ہو ۔

متعلقہ خبریں