Daily Mashriq

نیب قوانین' شکایات اور تجاویز

نیب قوانین' شکایات اور تجاویز

بلا امتیاز احتساب کے بغیر سماجی ارتقا قانون کی حقیقی بالا دستی اور ریاست و عوام کے درمیان اعتماد کا فروغ کسی طور بھی ممکن نہیں۔ ہمارے نظام احتساب کی تاریخ کچھ زیادہ اچھی نہیں۔ صوبوں کی سطح پر قائم اینٹی کرپشن کے محکموں کی کارکردگی ہر کس و ناکس پر عیاں ہے اس ادارے کے حوالے سے یہ بات زبان زد عام ہے کہ محکمہ اینٹی کرپشن میں انسداد رشوت ستانی کی ہمہ گیر مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر احتساب کا اولین ادارہ نون لیگ کے ایک دور اقتدار میں احتساب سیل کے نام سے قائم ہوا۔اکتوبر1999ء میں منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قابض ہونے والے چوتھے فوجی حکمران جنرل پرویز مشرف نے اس احتساب سیل کو قومی احتساب بیورو میں تبدیل کیا اور ان کے پورے دور اقتدار میں احتساب بیورو حکومت کے بغل بچہ کا کردار ادا کرتا رہا۔ بد ترین سیاسی انتقام کی تاریخ رکھنے والے اس ادارے کے حالیہ کردار اور بعض قوانین پر آج بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر اگلے روز سپریم کورٹ نے نیب کے پلی بارگین کے قانون کو انصاف کے تقاضوں سے متصادم قرار دیتے ہوئے حکم دیا کہ اس قانون میں ترمیم کی جائے بصورت دیگر سپریم کورٹ اپنا حکم جاری کرے گی۔ عجیب بات یہ ہے کہ نیب کی پکڑ میں آیا کوئی مجرم ملکی دولت لوٹنے کا اعتراف کرکے نیب سے اس کے سربراہ کی منظوری سے پلی بار گین کرتا ہے اور ادائیگی کرکے شان کے ساتھ باقی ماندہ زندگی بسر کرتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کرپشن کا اعتراف اور طے شدہ رقم واپس کرنا جرم کے زمرے میں نہیں آتا؟نیب کے حکومتی پٹھو کے طور پر کردار ادا کرنے اور سیاسی وفاداریاں تبدیل کروانے کی ایک نہیں درجنوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں مگر فی الوقت یہ عرض کرنا از بس ضروری ہے کہ اگر موجودہ حکومت بلا امتیاز احتساب' سماجی ارتقا اور صاف ستھرے نظام ہائے حکومت کے قیام کی خواہش مند ہے تو پھر اسے اولین ترجیح کے طور پر نیب کو ایک با اختیار ا ور خود مختار ادارہ بنانے کے ساتھ ساتھ اس کے قوانین میں بھی موثر تبدیلیاں لانی ہوں گی۔ پلی بارگین کا قانون ختم کرنا ہوگا۔ اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ نیب کا ادارہ کرپشن کے ٹھوس ثبوتوں کی بنیاد پر کسی بھی فرد یا کسی بھی ادارے کے خلاف کارروائی کرسکے۔ کرپشن کے حوالے سے بعض اداروں کے انٹرنل احتساب کے ڈھکوسلے کی جگہ نیب کو با اختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی شخص دیوتا ہو نہ کوئی ادارہ مقدس گائے۔ہمیں کھلے دل سے یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ چونکہ نیب یا اس سے قبل احتساب بیورو کے قیام میں بلا امتیاز احتساب کی نیک نیتی کی جگہ سیاسی مخالفین کو دبانے اور وفاداریاں تبدیل کروانے کی سوچ کار فرما تھی اس لئے اس ادارے کا صاف ستھرا تشخص قائم نہیں ہو پایا۔ خود نیب کے اندر زیر تفتیش ملزموں سے رشوت لئے جانے کے درجنوں واقعات سامنے آئے' متعدد افراد کے خلاف کارروائی بھی ہوئی۔ یہی وہ نکات ہیں جو اس امر کے متقاضی ہیں کہ نیب کے قوانین میں اصلاحات کے ساتھ اس ادارے کی گسٹاپو اور ساواک جیسی شہرت کے تدارک کی ضرورت ہے تاکہ یہ حقیقی معنوں میں قومی ادارے کا کردار ادا کرسکے۔ ثانیاً اس کا دائرہ کار تمام ریاستی اداروں تک بڑھانا ہوگا۔ انٹرنل احتساب کی ادارہ جاتی بڑھکوں پر صاد کرنے کی بجائے ایک حقیقی محتسب ادارہ کا قیام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ قوانین میں ترامیم اور دیگر معاملات کے لئے پارلیمانی سیاسی جماعتوں کو باہم مل بیٹھ کر غور و فکر کرنا ہوگا اور اس امر کو بھی یقینی بنانا ہوگا کہ نیب سیاسی انتقام کے لئے استعمال نہ ہو بلکہ کرپشن کے خاتمے کے لئے اپنا حقیقی کردار اس طور ادا کرے کہ اس پر کسی طرف سے کوئی انگلی نہ اٹھنے پائے۔ امید واثق ہے کہ اس پر توجہ دی جائے گی۔ یہ سطور لکھی جا رہی تھیں کہ کیمپ جیل لاہور میں قید نیب کے ایک ملزم سرگودھا یونیورسٹی کے لاہور کیمپس کے فرنچائز کے سربراہ میاں جاوید جو دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے سروسز ہسپتال میں زیر علاج تھے کے انتقال کی خبر اور وفات کے بعد بھی ہتھکڑیوں میں جکڑے ہونے کی تصاویر سامنے آئیں۔ مرحوم کا معاملہ اب اللہ کی عدالت میں ہے لیکن اس امر کی تحقیقات از حد ضروری ہے کہ ان پر نیب کی ہراست کے دوران شدید تشدد کئے جانے کا الزام ان کے ورثا لگا رہے ہیں۔نیب قوانین اور احتساب سیل سے موجودہ نیب تک کا کردار کبھی بھی قابل تحسین نہیں رہا نیب قوانین میں ملزم کا 90دن کا ریمانڈ بھی ایک غیر انسانی قانون ہے۔ نیب کو زیر تفتیش ملزموں پر تھرڈ ڈگری تشدد کرنے کا بھی کوئی قانونی حق نہیں۔ بہت ضروری ہے اہمیت کے حامل اس ادارے کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کیا جائے۔ ملزموں کے بھی بہر طور انسانی حقوق ہوتے ہیں' قانون کے دائرے میں رہ کر تفتیش کرنا نیب کا حق ہے۔ ایک اور شکایت جو عام ہے وہ نیب میں زیر تفتیش کسی سیاستدان پر جرم ثابت ہونے سے قبل بعض نیب افسروں کا پسندیدہ صحافیوں کو چٹ پٹی خبروں کی فراہمی ہے جس سے میڈیا ٹرائل شروع ہو جاتا ہے۔ یہ سلسلہ بھی کسی تاخیر کے بغیر بند ہونا چاہئے۔ احتساب کے ادارے کے وجود اور ضرورت پر دو آراء ہر گز نہیں احتساب اور وہ بھی بلا امتیاز ہونا چاہئے۔ قانون شخصی تقدسات کے بہلا وے میں نہیں آتا جو جرم کرے گا قانون کی گرفت میں بھی آئے گا۔ عامتہ الناس' صاحبان رائے اور قانون دان طبقہ کہہ رہا ہے کہ کسی تاخیر کے بغیر نیب کے ان قوانین کی خامیاں دور کی جائیں جن سے اس ادارے اور خود احتساب کے عمل پر سوال اٹھتے ہیں۔ ثانیاً یہ کہ تمام ریاستی اداروں کو اس کے دائرہ کار میں لایا جائے۔ ثالثاً جرم ثابت ہونے سے قبل کروائے جانے والے میڈیا ٹرائل پر پابندی ہونی چاہئے۔ رابعً اس امر کو بہر صورت یقینی بنانا ہوگا کہ اب نیب سے ماضی کی طرح نجی ملیشیا جیسا کام نہیں لیا جائے گا بلکہ یہ ادارہ دستور میں دئیے گئے کردار کے مطابق ہی فرائض ادا کرے گا۔

متعلقہ خبریں