Daily Mashriq

کشمیر، ٹویٹ اور تشویش سے آگے کا متقاضی

کشمیر، ٹویٹ اور تشویش سے آگے کا متقاضی

مقبوضہ کشمیر کے عوام کیلئے ہر شام شامِ غریباں ہے اور ہر بستی کربلا ہے۔ ظالم اور سفاک فوج افسپا جیسے سیاہ قوانین کا سہارا لیکر انسانی آبادی کو مٹا ڈالنے کے درپے ہے۔ پیلٹ اور بلٹ نہتے لوگوں کا مقدر ہو کر رہ گئی ہے اور ان میں جنس کی کوئی حد ہے اور نہ عمر کی کوئی قید۔ انیس ماہ کی حبہ پیلٹ گن کے چھروں سے زخمی ہو کر سری نگر کے مرکزی ہسپتال میں مجروح آنکھ کے آپریشن درآپریشن کے عمل سے گزر رہی ہے۔ زخمی بچی اقوام عالم سے اپنا جرم اور قصور پوچھ رہی ہے؟ مگر کسی کے پاس اس کا جواب نہیں۔ دنیا کے ہنگاموں سے بے نیاز سترہ ماہ کی بچی کا قصور معصومیت اور کشمیریت کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے۔ اس جور وستم میں تازہ اضافہ پلوامہ میں انسانیت کا دامن تارتار ہونے کا واقعہ ہے جس میں بھارتی فوجیوں نے فائرنگ کر کے ڈیڑھ درجن کے قریب افراد کو شہید کر دیا جبکہ درجنوں افراد پیلٹ گن کے چھروں اور گولیوں سے زخمی ہو کر ہسپتالوں میں پہنچ گئے۔ شہید ہونے والوں میں نویں جماعت کا طالب علم عاقب اور انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی خاتون صائمہ کا پینتیس سالہ شوہر جو تین ماہ کی بچی کا باپ بھی تھا، شامل ہے۔ انڈونیشین خاتون برستے آنسوؤں میں کہہ رہی تھی کہ ''میں اب یہاں نہیں رہوں گی، میں چلی جاؤں گی۔ مجھے اس حال تک کیوں پہنچایا گیا'' خاتون کا کہنا تھا کہ مجھے معلوم نہیں تھا کہ ایک کشمیری سے شادی کرنے کا مطلب بیوگی ہے۔پلوامہ کے خونین سانحے پر آزادی پسند قیادت نے تین روزہ ماتمی ہڑتال کا اعلان کیا اور بھارت نواز سیاستدانوں ڈاکٹر فاروق عبداللہ، عمر عبداللہ، محبوبہ مفتی اور سجاد لون نے بھی اس کی شدید مذمت کی۔ حد تو یہ کہ اس واقعے کے بعد بھی بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت اس قتل وغارت کے حق میں تاویلات پیش کرتے رہے۔ جنرل راوت کا کہنا تھا کہ فوجی پر پتھر پھینکنے والا بھی بندوق بردار کی طرح خطرناک اور دہشتگرد ہے اور اس کیساتھ وہی سلوک ہوگا جس کا مستحق دہشتگرد ہے۔ امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے اس واقعے کو رپورٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس سال کے دوران بھارتی فوج نے 242حریت پسندوں کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ101عام شہری اور 82فوجی اہلکار مارے گئے۔ اخبار کے مطابق یہ گزشتہ ایک دہائی میں ہلاک شدگان کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ واقعے کے فوراً بعد متحدہ جہاد کونسل کے سربراہ سید صلاح الدین نے حکومت پاکستان کو کہا ہے کہ بھارت سے مذاکرات کی بھیک مانگنے کی بجائے کشمیریوں کی عملی مدد کی جائے۔ حکومت پاکستان کیلئے کشمیر کی موجودہ صورتحال ایک چیلنج بنتی جا رہی ہے۔ ایک طرف کشمیر کی زمینی صورتحال ہے جو روز بروز بگڑتی چلی جا رہی ہے اور جہاں روزانہ پاکستان کی پرچموں میں لاشے لپیٹ کر دفن ہو رہے ہیں تو دوسری طرف حکومت پر بھارت سے تعلقات بحال کرنے کیلئے کچھ بیرونی دباؤ اور کچھ دوستوں کے دوستانہ مشورے ہیں۔ بھارت گورنر راج کے بعد صدر راج کی آڑ میں کشمیریوں کی نسل کشی کرکے اس مسئلے کے حل کی راہ پر چل رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے مقبوضہ کشمیر کے حالیہ واقعات کی مذمت کی اور ایک بار پھر مذاکرات کو اس مسئلے کا حل قرار دیا۔وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے فون پر رابطہ کر کے کشمیر میںجاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور ظلم و بر بریت پر بات کی۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اس معاملہ کی سنگینی پر او آئی سی کے سیکرٹری جنرل سے رابطہ کرکے فوری لائحہ عمل تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ جس کے بعد او آئی سی کی طرف سے کشمیر کی موجودہ صورتحال پر جاندار بیانات سامنے آئے۔ او آئی سی سیکرٹریٹ میں ایک اجلاس کے بعد جاری کئے گئے اعلامیے میں مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ انسانی جانوں کے اتلاف پر دکھ کا اظہا رکیا گیا اور حالات کا جائزہ لینے کیلئے او آئی سی کے ایک وفد کو علاقے کا دورہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال جس طرح روز بروز بگڑتی چلی جارہی ہے اس میں حکومت پاکستان کو رسمی احتجاج سے آگے بڑھ کر ٹھوس لائحہ عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ بھارتی فوج اپنا مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے پر تیار نہیں۔ سیاست کی بساط بھارت کے پیروں تلے سے کھسک چکی ہے اور اسمبلی تحلیل ہو چکی ہے اور گورنر راج کے بعد صدر راج نافذ ہو چکا ہے۔ اگلے چند ماہ میں بھارتی سپریم کورٹ کشمیر کی خصوصی شناخت سے متعلق اہم فیصلہ سنانے جا رہی ہے۔ کشمیر ی حریت پسند تو اس پورے نظام کو ہی تسلیم نہیں کرتے مگر خود بھارت نواز سیاسی جماعتیں فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس اور محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی بھی کشمیر کی خصوصی شناخت کو چھیڑنے پر خطرناک نتائج کی دھمکی دے چکی ہیں۔ اس طرح بھارتی سپریم کورٹ اگر کشمیر کی خصوصی شناخت کو تحفظ دینے والی شق35A اور بھارتی آئین کی دفعہ370 کو ختم کرنے کا فیصلہ سناتی ہے تو اس سے وادی کشمیر میں ایک اور دھماکہ خیز صورتحال پیدا ہوگی جس کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارت کے پاس فوجی طاقت کے استعمال کے سوا اور کوئی حل نہیں۔ آباد ی کو تقسیم کرنے اور اپنا ہمنوا بنانے کی کوششیں اب ناکام ہو چکی ہیں بلکہ عوامی دباؤ اس قدر بڑھ چکا ہے جو لوگ ''اگر مگر'' کی تاویلوں اور دلیلوں کیساتھ بھارتی سسٹم کیساتھ تھے وہ بھی اگر مگر کیساتھ بھارت کی مخالفت پر مجبور ہیں۔ ان حالات میں حکومت پاکستان کو تشویش، مذمت، غور، رابطہ، ٹیلی فون اور ٹویٹ جیسی روایتی اصطلاحات سے آگے بڑھ کر مربوط اور منظم کشمیر پالیسی تشکیل دینا ہوگی۔

متعلقہ خبریں