Daily Mashriq


سجادبابر،شعرادب کا درخشندہ ستارہ

سجادبابر،شعرادب کا درخشندہ ستارہ

غروب کا وقت تھامقرر، سوچل پڑا میں

کسی کا پھر انتظار میں نے نہیں کیا تھا

زندگی بھی دھوپ چھائوں کا کھیل ہے ، انسانی زندگی طلوع اور غروب کے مابین کی ساعتوں سے عبارت ہے ، اپنی خوشی نہ آئے ، نہ اپنی خوشی چلے ،یہی سارا قصہ ہے ، کہیں مختصر کہیں قدرے طویل مگر انجام بالآخر فنا ہونا، کتنے آئے ، کتنے گئے، ازل سے یہی کھیل جاری ہے ابد تک جاری رہے گا۔ جب تک انسان خود زندہ رہتا ہے یہی تماشا دیکھتا رہتا ہے، حتیٰ کہ ایک روز خود اس کی باری آجاتی ہے، اور وہ گزری ہوئی کہانی بن جاتا ہے ، آج وہ کل ہماری باری ہے ،یوںیہ باری سجاد بابر نے بھی قبول کرتے ہوئے دنیا سے منہ موڑ لیا، یارطرحدار،شاعر بے بدل ، ادب وشعر میں اپنی انفرادیت کے علم بلند کرنے والا ، ادبی دنیا میں عالمی سطح پر اپنی الگ پہچان اور اپنے ملک کا نام روشن کرنے والا، دوستوں کا دوست ، دوسروں کیلئے فکر مند ہونے والا سجاد بابر ، گزشتہ روز دنیا سے عقبیٰ کا سفر اختیار کرتے ہوئے ادبی دنیا کو بھی سوگوار کر گیا۔

کرن اترنے کی آہٹ سنائی دیتی ہے

میں کیا کروں مجھے خوشبو دکھائی دیتی ہے

طلسم حرف نے ایسا حصار کھینچ دیا

جہاں بھی جست بھری ،کہکشاں پہ اتراہوں

سجاد بابر حصول رزق کیلئے کئی برس تک سعودی عرب اور دبئی میںمقیم رہے مگر ان کا ادبی سفر وہاں بھی نہ صرف جاری رہا بلکہ وہاں انہوں نے اپنے ملک کا نام یوں روشن کیا کہ عالمی سطح کے اردو مشاعروں کی بنیاد رکھی، ادبی تنظیموں کا اجراء کیا اور ان کے زیر اہتمام پاکستان،بھارت کے علاوہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں مقیم شعراء کو اکٹھا کر کے ایسے مشاعرے منعقد کئے کہ ان کی یاد آج بھی لوگوں کو گرماتی رہتی ہے، یوں انہوں نے عرب کے ریگزاروں میں شاعری کے پھول کھلا کرجنگل میں منگل کا سماں باندھنے کی کامیاب کوششیںکیں۔

اک ہوا اٹھے گی سارے بال وپرلے جائے گی

یہ نئی رت اب کے سب کچھ ساتھ ہی لے جائے گی

دوستوں کے بچھڑنے کا دکھ اپنی جگہ مگر اس سے بھی زیادہ دکھ اس وقت ہوتا ہے جب ایسے دوستوں کے رخصت ہونے کے بعد بعض لوگ مردے کے کاندھے پر بندوق رکھ کرچلانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ انہیں اندر کی بات کا قطعاً علم نہیں ہوتا۔ابھی سجاد بابر کے قبر کی مٹی خشک بھی نہیں ہوئی کہ فیس بک پر بعض پوسٹوں میں ان کو کسی سرکاری اعزاز سے''محروم''رکھنے کے حوالے سے غلط فہمیاں پھیلانے کی کوششیں شروع کردی گئیں۔اور جن کو اس قسم کے اعزازات مل چکے ان پر مفت میں الزامات دھرے جارہے ہیں گویا سجادبابر کی کسی اعزاز سے محرومی کے ذمہ داروہ لوگ ہیںجن کو اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ دراصل یہ سب کچھ غلط فہمی کا نتیجہ ہے ، کیونکہ گزشتہ کئی برس سے اس پورے عمل کے ساتھ ذاتی طور پر وابستگی کے ناتے اندر کی بات جتنی میں جانتا ہوں شاید باہر بیٹھ کر تیر چلانے والوں کو زیادہ علم نہیں ہے ، حالانکہ چند سال پہلے سجاد بابر کا نام ایک سرکاری ادارے نے بھیجا تھا، مگر اس پورے عمل سے تھوڑی بہت آگاہی رکھنے والے جانتے ہیںکہ اس پورے پراسیس کے کئی مراحل ہوتے ہیں جن سے گزر کر ہی کوئی فیصلہ حتمی صورت اختیار کرتا ہے، اور سب سے اہم مرحلہ وہ ہوتا ہے جب ایوارڈ کیلئے نامزد ہونے والوں کو خود اپنے بارے میں ضروری معلومات فراہم کرنا ہوتی ہیں۔ دراصل یہ ایک ایسا''مقدمہ'' ہوتا ہے جس میں ادبی ثقافتی''ایف آئی آر''ہی بنیادی کردار ادا کرتی ہے، اسے تکنیکی زبان میں CITATIONکہتے ہیں، جس کیلئے نہ صرف معلومات خود متعلقہ شخص کو فراہم کرنا پڑتی ہیں بلکہ بہتریہی ہوتا ہے کہ اپنی Citationوہ خود یا اپنی مرضی سے لکھوا کر دیگر ضروری دستاویزات کے ساتھ متعلقہ ادارے کو فراہم کرے۔یہ بنیادی دستاویزات جتنی مربوط اور بھر پور ہوں گی ، کیس اتنا ہی مضبوط ہوگا اور جب یہ صوبائی کمیٹی کے علاوہ مرکزی کمیٹی کے پاس جائے گا تو وہاں اس کا جائزہ لینے والے آخری اجلاس سے پہلے جو Quantficathoin شیٹ لگائیں گے اور مختلف خانوں میںنمبر گیم کے تحت کل نمبر کی بنیاد پر ہی آخری کمیٹی جس کی صدارت وفاقی وزیرکرتاہے، اور ملک کے اہم اداروں اور وزارتوں کے نمائندے ہی آخری فیصلہ کر کے ایوارڈز کا تعین کرتے ہیں۔ اس ضمن میں تمغئہ امتیاز،پرائیڈ آف پرفارمنس،ستارہ امتیازوغیرہ وغیر دئیے جاتے ہیں ، اس میں کوئی شخص کسی دوسرے کو کہنی مار کر آگے آنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا بلکہ ہر شخص کی خدمات کا جائزہ انفرادی سطح پر کر کے ہی کسی ایوارڈ کے قابل سمجھا جاتا ہے اس لئے غلط فہمیاں پھیلانے والوں کو کم از کم سجاد بابر کی رحلت پر تو اپنے تیرکمان میں رکھنے کی بجائے سنبھال کر رکھنے چاہئیں، انہیں کیچڑاچھالنے کے اور کئی مواقع مل جائیں گے ۔

میں درد کے قصبے میںبہت دیر سے پہنچا

بک جاتے ہیں سب تازہ ثمر شام سے پہلے

متعلقہ خبریں