Daily Mashriq


اسکی آنکھ میں روشنی نہیں

اسکی آنکھ میں روشنی نہیں

میں حیران ہوں ہم اپنی روایات، اپنی اقدار، اپنا کردار بالکل ہی بھول چکے ہیں۔ بس ایک ہجوم ہیں ، ایک ایسا ہجوم جو بے سمتا ہے ، بیکراں ہے اور بے فیض ہے۔ اب ہم وہ لوگ ہیں جن سے کس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ ہم بس نقصان ہی نقصان کے داعی ہیں ۔ ہمارے ملک کو ہم سے نقصان پہنچتا ہے ۔ ہمارے بچوں کو ہم سے نقصان پہنچتا ہے ۔ ہمارے مستقبل کو ہم سے نقصان پہنچتا ہے ہماری معیشت کو ہم سے نقصان پہنچتا ہے ۔ اس نقصان کی فہرست بہت طویل ہے ۔ اور فائدوں کی گنتی بہت معمولی۔ کیا عجیب دور ہے ۔ ہمیں باہر سے دشمنوں کی ضرورت ہی نہیں۔ اپنے دشمن ہم خود بن چکے ہیں۔ ہمارے بچے ہمارے ہی ہاتھوں غیر محفوظ ہیں۔ ہمیں نہ کسی لٹیرے کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی نقصان پہنچانے والے کو۔ ہم سب باتوں میںخود کفیل ہوگئے ہیں ۔ اور یہ خود انحصاری کتنی جان لیوا ہے ۔ کتنی دُکھ دینے والی ہے، کیسی اذیت ناک ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ ہم اپنے ہی دونوں ہاتھوں سے اپنا گلا دبا دینا چاہتے ہیں ۔ کیا پاگل پن ہے ۔ چند دن پہلے کی بات ہے ، سڑک پر جاتے ہوئے اسی پاگل پن کا مظاہرہ دیکھا تو دل میں عجب بے بسی نے گھر کرلیا۔ سامنے دو گاڑیاں جارہی تھیں۔ ایک گاڑی کے ٹائروں سے بلی بچ کر بھاگی تودوسری جانب کی گاڑی کے ڈرائیور نے حتی الامکان اس معصوم بلی کو اپنے ٹائروں کے نیچے کچلنے کی کوشش کی بلکہ چند لحظے کو گاڑی اسکے پیچھے بھی بھگائی۔ اسی اثناء میں میری گاڑی نے اس گاڑی کو کراس کیا ۔ چار ہٹے کٹے مرد اپنے کارنامے پر قہقہے لگا رہے تھے۔ کیا بے حسی ہے ۔ وہ ایک بے زبان کو جان بوجھ کر مارناچاہتے تھے ۔ اور اس بات پر شرمندہ نہ تھے بلکہ محظوظ ہورہے تھے ۔ اور میں سوچ رہی تھی کہ ان کی یہ حرکت ہمارے معاشرے کی ذہنی کیفیت کی غماز تھی ایک ایسے بے حس معاشرے کی جس کو دوسری مخلوق کو ایذا پہنچانے میں تفریح محسوس ہوتی ہے ۔ دوسروں کی اذیت میں لطف محسوس کرنا ذہنی بیماری کی علامت ہوتی ہے جس کا مظاہرہ اب ہم اپنے معاشرے میں دیکھتے ہیں۔ ایک کھوکھلا دیمک زدہ معاشرہ ۔ہم لوگ ذہنی طور پر بیمار لوگ ہیں اور اس بیماری کا اظہار بار بار کرتے ہیں جولوگ ایک بے زبان جانور کو اذیت دینا چاہتے ہیں انکے لیے کیا کسی بھی اور چیز کی کوئی اہمیت ہوسکتی ہے؟تبھی تو ہمارے معاشرے میں کچھ محفوظ نہیں ۔ ہمارے بچے ہمارے ہی گھروںکے باہر سے درندگی کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ وہی بچے جو آج سے چند دہائیاں قبل سب کے سانجھے ہوا کرتے تھے ۔ محلے کی ایک بوڑھی دادی سب کی دادی ہوتی تھی ۔ شہزاد کی نانی ،سب کی نانی تھی ، رقیہ کے ماموں ،سب کے ماموں ہوا کرتے تھے۔ کوئی بچہ بد تمیزی کرتا تو اسے ایک تھپڑ جڑ دیتے اور کوئی گھر والا کبھی اعتراض نہ کرتا۔ منہ بولے رشتوں کا احترام بھی سگے رشتوں کی طرح کیا جاتا تھا۔ کئی بار منہ بولے رشتیسگے رشتوں سے آگے بڑھ جاتے تھے۔ چند دہائیاں قبل مجھے یاد ہے کہ پی ٹی وی کی مارننگ نشریات کا آغازہوا تو مستنصر حسین تارڑ اس وقت کے سارے بچوں کے چا چا جی ہوا کرتے تھے ۔ اُس وقت سے اس وقت میں ہم کیسے اور کب داخل ہوئے کہ اب نہ زینب محفوظ ہے نہ ہی عائشہ جن کے تتلیوں کی طرح اڑنے کے دن میںان کے پر نوچ کر ، کچرا کنڈیوں پر پھینک دیا جاتا ہے اور کوئی سراغ نہیں ملتا۔ میں سوچتی ہوں ہم کس عذاب کا شکار ہوگئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں نے ہمیں کس بھنور میں پھینک دیا ہے ۔ آخریہ ہم خود ہی اپنے ساتھ کیسے کر سکتے تھے؟ میں سوچتی ہوں تو کچھ سمجھ نہیں آتا۔ کچھ سُجھائی نہیں دیتا۔ اور پھر کہیں ذہن کے کسی کونے میں یہ خیال بھی ابھرتا ہے کہ یہاں تو لٹیروں کا یہ عالم ہے کہ ہمارے حاکم بھی لٹیرے رہے ہیں اور آج بھی جب اُنہیں کوئی روکنے کی ان کا احتساب کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ہمیں ہی دھمکیاں دیتے ہیں ، کبھی جمہوریت کی دہائیاں دیتے ہیں ،کبھی احتساب اور انتقام کا فرق مٹانے کی کوشش کرتے ہیں ۔ اور میڈیا جو ان کے ہاتھوں سے دانہ چُگ کر بڑا ہوا ہے ، ان کی اس آہ وزاری میں برابر کا شریک ہے ۔ وہ زاروقطار روتے ہیں تو میڈیا آگ بگولا ہو جاتا ہے ۔ اور خیال آتا ہے کہ

وطن کو کچھ نہیں خطرہ نظام زر ہے خطرے میں

حقیقت میں جو رہزن ہے وہی رہبر ہے خطرے میں

جو بیٹھا ہے صف ماتم بچھائے مرگ ظلمت پر

وہ نوحہ گر ہے خطرے میں وہ دانشور ہے خطرے میں

اگر تشویش لاحق ہے تو سلطانوں کو لاحق ہے

نہ تیرا گھر ہے خطرے میں نہ میرا گھر ہے خطرے میں

اور پھر خیال آتا ہے کہ انہیں رہزنوں نے تو اس ملک کا یہ حال کیا ہے کہ اب اس ظلمت کے اندھیرے میں ہاتھ کو ہاتھ سمجھائی نہیں دیتا۔ ہم سوچتے ہیں کہ راستے نہ جانے کہاں کھو گئے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ صرف ہم انہیں دیکھ نہیں سکتے ،وگرنہ رستے تو وہیں پڑے ہیں ہمارے پیروں میں اور ہم ہیں کہ اپنی بصارتیں کھو بیٹھے ہیں ۔ جانے کب ہمارے حالات سُدھر نے ہیں ، جانے کب یہ اذیت ختم ہونی ہے جانے کب نظام زرکا خاتمہ ہونا ہے، جانے کب جھوٹے دانشوروں سے جان چھوٹنی ہے ۔ یہ تبدیلی جس کے انتظار میں ہم کتنی دہائیوں سے بیٹھے تھے ابھی اس تبدیلی کو بھی اپنی سدھ بدھ نہیں ، ابھی اسے بھی راستہ نہیں ملتا۔یہ دُکھ نہیں کہ اس کی سمت درست نہیں ، نیت درست نہیں ، دُکھ یہ ہے کہ اس کی آنکھ میں ابھی روشنی نہیں اور جانے وہ شمع کب جلے گی۔

متعلقہ خبریں