Daily Mashriq

ایٹا ٹیسٹ کی شفافیت زیادہ ضروری ہے

ایٹا ٹیسٹ کی شفافیت زیادہ ضروری ہے

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے ہدایت کی ہے کہ کالجوں میں داخلوں کیلئے امتحانات کاطریقہ کار زیادہ شفاف بنانے کے علاوہ طالب علموں کوبہتر امتحانی حال، پانی، پنکھوں اور دیگر سہولیات کی فراہمی کا بھرپور خیال رکھا جائے بالخصوص امتحان دینے والی طالبات کی سہولت کا خاص اہتمام کیا جائے۔انہوں نے ایٹا ٹیسٹ دینے والے امیدواروں کی دور دراز علاقوں سے آمد اور سفری مشکلات کے پیش نظر نئے امتحانی سیشن سے صوبائی دارالحکومت کے علاوہ مردان، کوہاٹ، چکدرہ اور ایبٹ آباد سمیت بڑے ڈویژنل ہیڈکوارٹر شہروں کی یونیورسٹیوں میں ایٹا ٹیسٹ کا بندوبست کرنے کی منظوری بھی دی۔ انہوںنے ہدایت کی کہ ایٹا کو سال بھر ٹیسٹنگ کیلئے تیار رہنا چاہئے۔وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی ایٹا ٹیسٹ کے حوالے سے ہدایات پر عملدرآمد سے یقینا طالب علموں کو سہولت ہوگی اور امیدواروں کی مشکلات میں کمی آئے گی۔ ہمارے تئیں اس سے بڑھ کر اہمیت کا حامل معاملہ اس ٹیسٹ کے حوالے سے طالب علموں میں بڑھتے خدشات اور منفی تاثرات ہیں جن کے باعث اس کی شفافیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں جس کے باعث خواہ وہ داخلوں کے بارے میں ہو یا پھر سرکاری آسامیوں کے دونوں طرح کے ٹیسٹوں کی شفافیت اور وقعت میں کمی آرہی ہے۔ بہتر ہوگا کہ محولہ بالا اقدامات کے ساتھ ساتھ اس نہایت ضروری معاملے پر زیادہ توجہ دے کر طلبہ کا اعتماد بحال کیا جائے۔
بشرط عملدرآمد احسن اقدام
خیبرپختونخوااسمبلی نے شادی کی تقریبات میں بے تحاشا اخراجات اور نمود و نمائش پر پابندی عائد کرنے سے متعلق بل کی منظوری بشرط عملدرآمد احسن اقدام ہے۔بل کے مطابق شادی کی تقریبات میں ولیمہ ،بارات اورنکاح میں صرف ایک ڈش چاول ،سالن اورسویٹ دیاجائے گا۔ دولہا کو سسرال ،والدین یادیگرافرادکی طرف سے جوتحفہ دیاجائے گا اس کی مالیت ایک لاکھ سے زائد نہ ہو شادی کی تقریبات میں لائوڈسپیکرپرپابندی ہوگی تاہم ہال کے اندر اس کو استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ مہندی یا نکاح کے موقع پر کھانانہیں صرف مشروبات سے تواضع کی جائے گی۔ گلیوں ،عمارتوں یاشادی ہالوں پر برقی قمقمے نہیں لگائے جائینگے اسی طرح فائرنگ یا کریکرپربھی پابندی ہوگی۔شادی کی تقریبات میں سادگی اور کفایت شعاری کا اب تو تصور بھی نہیں رہا الٹا دولت کی نمود و نمائش اور بدعات پر مبنی رسمیں معاشرے میں پوری طرح رواج پا چکی ہیں اور اب لوگ ان کو شخصی آزادی اور بنیادی حق تک سمجھنے لگے ہیں۔ معاشرے میں ان چونچلوں کے لئے جن کے پاس وقت اور پیسہ ہو اس کے باوجود گنجائش نہیں کجا کہ خربوزے کو دیکھ کر خربوزہ رنگ پکڑتا ہے کے مصداق متوسط اور خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والے بھی ہنس کی چال چل کر اپنی چال بھی بھول جائیں اور اس طرح کی صورتحال معاشرے میں ایک دوڑ اور منفی مسابقت کابا عث بن چکی ہے جس کا تدارک بہت پہلے ہونا چاہئے تھا۔ بہر حال دیر آید درست آید اگر اب بھی محولہ قانون سازی کے ذریعے ان نواہی کا تدارک ممکن ہوسکے تو احسن ہوگا۔
نجی سکولوں کو قانون کے دائرے میں لایا جائے
پشاور میں پلے گروپ ، اول سے لیکرمڈل تک کے نتائج کا اعلان کرنے کے بعد پرائیویٹ سکول مالکان کی دونوں ہاتھوں سے کمائی ضرور ہوتی ہے لیکن سالانہ بنیادوں پر داخلہ فیس کی وصولی اور ماہانہ فیس میں بھی بے تحاشا اضافے کے ساتھ سال میں ایک بار کی بجائے دو بار فیسوں میں اضافہ تعلیم برائے فروخت کے مصداق ہے۔ پرائیویٹ سکولوں کے مالکان یونیفارم اور سٹیشنری بیچ کر نئے طریقے سے پیسے کما رہے ہیں۔بعض سکولوں کے مالکان نے اپنی کتابیں اور کاپیاں چھپوا کر من مانے نرخ پر فروخت کیلئے سکول میں ہی دکانیں سجا رکھی ہیں ۔ سرکاری سکولوں کی بے وقعتی اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتی ہے کہ خود ان سکولوں میں پڑھانے والے اساتذہ کے بچے بھی نجی تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں۔ غریب عوام کے پاس جب کوئی اور چارہ کار باقی نہیں بچتا تبھی وہ اپنے بچوں کو سرکاری سکولوں میں بھجواتے ہیں جبکہ نجی سکولوں میں بچوں کو بھجوانے والے والدین کی غالب اکثریت پیٹ پر پتھر باندھ کر اپنے بچوں کی فیس ادا کرتی ہے۔ اس کے باوجود نجی سکولوں میں طرح طرح کے حیلے بہانوں سے رقم بٹورنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ محولہ مشکلات کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبے میں تعلیم کی تجارت کرنے والوں کو لگام دینے کیلئے قوانین کے نفاذ کی ضرورت ہے۔حکومت اگر سرکاری تعلیمی اداروںکے معیار کو بہتر بناسکے تو عوام اپنے بچوں کو ان اداروں میں بھجوانے کو ضرور ترجیح دیں گے اور انہیں نجی تعلیمی اداروں سے اپنے بچوں کے لئے تعلیم خریدنے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی اور والدین پر بھاری فیسوں کا اضافی بوجھ بھی نہیں پڑے گا۔

اداریہ