Daily Mashriq


نواز شریف کی پارٹی صدارت سے نااہلی

نواز شریف کی پارٹی صدارت سے نااہلی

نواز شریف کی حکمران مسلم لیگ ن کی صدارت سے نااہلی کا فیصلہ کم ازکم ن لیگ کی حد تک متوقع تھا۔ دیگرپارٹیاں اور متعدد مبصر بھی ایسا ہی تاثر دیتے رہے کہ نواز شریف کی پارٹی صدارت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ ایک معاصر کے مطابق چند روز پہلے جاتی امرا میں پارٹی کی قیادت کے اجلاس میںیہ امکان زیرِ غور بھی آیا ۔ اس اجلاس میں کہا جاتا ہے کہ سپیکر قومی اسمبلی ‘ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی بھی شریک تھے۔ اس اجلاس کے بعد وزیر اعظم عباسی کے سٹانس میں وہ موڑ آیا جو ان کی گزشتہ پیر کے روز کی قومی اسمبلی کی تقریر میں واضح ہوا۔انہوں نے کہا کہ ججوں کا رویہ پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لانا چاہیے۔ وزیر اعظم عباسی کئی بار قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہو چکے ہیں اور آئین کے تحت آئین کی پاسداری کا حلف اُٹھا چکے ہیں انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ آئین پاکستان ججوں کے رویہ کو زیر بحث لانے کی اجازت نہیں دیتا۔ اس بیان کے ساتھ وزیر اعظم عباسی نے سپریم کورٹ سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے پارٹی صدارت سے نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے سے پہلے ہی عدالتوں کے بارے میں ’’کھل کر بات‘‘ کرنے کا آغاز کر دیا تھا۔ میاں نواز شریف کے پارٹی صدارت سے نااہل قرار دیے جانے کے فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے ترجمان نے کہا ہے کہ نواز شریف کی پارٹی صدارت کے لیے نااہلی کا فیصلہ انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔ ترجمان کے بیان میں یہ وضاحت موجود نہیں ہے کہ آیا انصاف آئین پاکستان سے ماورا کوئی چیز ہے کیوں کہ نااہلی کا فیصلہ تو آئین پاکستان کے تقاضوں کے مطابق ہوا ہے جو کہتا ہے کہ جو شخص صادق اور امین نہ ہو وہ پبلک عہدوں کے لیے نااہل ہو گا ۔ اور میاں صاحب کے بارے میں یہ اعلان سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہو چکا ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ سیاسی پارٹی کی قیادت پبلک عہدہ ہے یا نہیں تو آئین پاکستان کی موجودہ صورت کے مطابق رکن پارلیمنٹ وزیر اعظم کے انتخاب ‘ بجٹ کی منظوری اور آئین میں ترمیم پر ووٹ دینے کے حوالے سے اپنی پارٹی کے سربراہ کی ہدایت کا پابند ہو گا خواہ وہ پارٹی سربراہ خود ایوان کا رکن نہ ہو۔ اس طرح پارٹی قائد اگر خود متذکرہ بالا تین موضوعات پر ووٹ کا اہل نہ بھی ہو تو اسے پارٹی کے تمام ارکان کے ووٹ پر اختیار ہے۔ یعنی پارٹی صدر پارٹی کے تمام منتخب ارکان کے ووٹ پر اختیار کا حامل ہے۔ اس لیے اسے رسمی سربراہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ وہ پارلیمنٹ کا رکن نہ ہوتے ہوئے بھی پارلیمنٹ کی کارروائی پر اثر انداز ہونے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس لیے میاں نواز شریف کا پارٹی کی صدارت پر متمکن ہونا براہ راست سپریم کورٹ کے فیصلہ کے متصادم ہے جس کی رُو سے انہیں پبلک عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔

اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے سینیٹر فروغ نسیم نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کو عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیے جانے والے ایک شخص کو پارٹی کا صدر نہیں بنانا چاہیے تھا۔ لیکن ن لیگی ارکان کے اس ردِ عمل سے کہ نواز شریف کی پارٹی صدارت سے نااہلی متوقع تھی اور اس سے ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو گا۔ یہ اندازہ قرین قیاس ہے کہ نواز شریف کو پارٹی کا صدر منتخب ہی اس نتیجے کی توقع کو مدِ نظر رکھ کر کیاگیا تھا۔ اس لیے نواز شریف کو پارٹی صدارت سے نااہلی کے فیصلہ کے بعد وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا ججوں کے طرز عمل کو پارلیمنٹ میں زیر بحث لانے کا بیان بھی اسی حکمت عملی پر محمول نظر آتا ہے۔ کیونکہ یہ تو سب جانتے ہیں کہ آئین کے مطابق ججوں کے طرز عمل کو زیرِ بحث نہیں لایا جا سکتا۔

میاں صاحب اگرچہ کہتے رہے ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر من و عن عمل کریں گے ۔ وہ عدالتوں میں حاضر بھی ہوتے رہے ہیں اس کے باوجود انہوں نے عدلیہ کے اختیار ’’عوامی عدالت‘‘ کے فیصلوں کو فوقیت دینے کی مہم جاری رکھی ہے جسے وہ تحریک عدل کہتے ہیں۔ان کے رویے اور بیانات سے واضح تاثر ملتا ہے کہ وہ عوامی حمایت کو آئین اور قانون سے بالاتر قرار دیتے ہیں۔ گزشتہ روز ایک مقدمے کی سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے یہ واضح کر دیا تھا کہ پارلیمنٹ بالادست ہے لیکن آئین اس سے بھی بالاتر ہے۔ پارٹی صدارت سے نااہلی کے بعد نواز شریف نے آئین کی بالادستی کو مقدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کے بنائے ہوئے قوانین کو عدالتی توثیق کے تابع کرنا مناسب نہیں۔ یہ اشارہ ظاہر ہے کہ سپریم کورٹ کے الیکشن ایکٹ 2017ء کے فیصلے کے بارے میں ہے جس کے تحت میاں نواز شریف کو پارٹی کی صدارت کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہے۔ ایک طرف میاں صاحب آئین کو بالاتر بھی مانتے ہیں دوسرے اسی آئین کے تحت سپریم کورٹ کو حاصل اختیارات پر بھی نکتہ چینی کر رہے ہیں جو اسے آئین سے متصادم قوانین کو حذف کرنے کے حوالے سے حاصل ہیں۔ یہی میاں صاحب کے بیانیہ کا بنیادی سقم ہے۔ یقینا پارلیمنٹ قانون بناتی ہے لیکن قانون بنانے کا اختیار پارلیمنٹ کو ایسے قوانین بنانے کی اجازت نہیں دیتا جو آئین سے متصادم ہوں۔ انسانی حقوق کے تقاضوں اور قومی مفاد کے منافی ہوں۔ آئین کی تشریح پارلیمنٹ کا حق نہیں ہے، سپریم کورٹ کا اختیار ہے۔ عوام کا ووٹ یا حمایت پارلیمنٹ کے ارکان کا انتخاب کر سکتی ہے لیکن ’’عوامی عدالت‘‘ کہہ کر اس کی رائے کو سپریم کورٹ کے فیصلوں سے برتر نہیں کہا جاسکتا۔ یہ توہین آئین ہے۔ جس کی تشریح کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے، پارلیمنٹ کا حق نہیں۔ میاں صاحب کی منطق کے مطابق تو عوام کی رائے کے اداروں کے ہوتے ہوئے تمام عدالتیں بند کر دی جائیں اور تمام فیصلے عوامی عدالتوں میں کیے جانے چاہئیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ میاں صاحب پارٹی صدارت سے نااہلی کے بعد اس بیانیہ کو لے کر کہاں تک چلتے ہیں۔

متعلقہ خبریں