Daily Mashriq


یقیناآئین بالادست ہے

یقیناآئین بالادست ہے

سپریم کو رٹ نے بطور رکن قومی اسمبلی کے بعد سابق وزیر اعظم نو از شریف کو مسلم لیگ ن کی صدارت سے بھی فارغ کر دیا سینٹ کے مجو زہ انتخابات کے لیے ن لیگ کے نواز شریف کی جا نب سے جا ری شد ہ ٹکٹوں سمیت نو از شریف کی جانب سے کیے گئے تما م فیصلے کا لعدم قرا ر دے دیئے گئے ، نو از شریف سپر یم کورٹ کے فیصلو ں کی روشنی میں دو مرتبہ پارٹی کی صدارت سے فارغ ہو ئے ، پہلی مر تبہ جب سپر یم کورٹ نے پا نا ما کیس میں اقامہ کے حوالے سے فیصلہ دیا جس کے بعد پا رلیمنٹ کے الیکشن ایکٹ 13اکتوبر 2017ء کے ذریعے ان کو پارٹی کا دبارہ صدر منتخب کر لیاگیا تھا ،گزشتہ روز سپر یم کو رٹ کے تین رکنی بنچ نے انتخابی اصلا حات کیس(پارٹی صدارت کیس ) کا متفقہ فیصلہ سنایا ۔ عدالتی فیصلہ سے ایک روز قبل چیف جسٹس نے ایک تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا تھا کہ پا رلیمنٹ سپر یم ہے مگر آئین بالادست ہے۔ چیف جسٹس کے ان الفاظ کا صاف مطلب یہ تھاکہ آئین سے متضا د کوئی قانو ن نہیں بنا یا جا سکتا ہے ۔ یہ بات سوفی صد درست ہے۔ آج پاکستان جس پر یشان کن منج پر کھڑا ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ آئین اور قانو ن کی بالا دستی کو تسلیم نہیں کیا گیا 1956ء کے آئین کو جس کو آئین ساز اسمبلی نے منظورکیا تھا فوجی آمر نے اس کے چھیتڑے اڑا دیئے پھریحییٰ خان نے 1962ء کے آئین کے پر زے کر ڈالے بعدازاں جنرل ضیا ء الحق نے گو پا کستان کا متفقہ 1973ء کا آئین جو منتخب اسمبلی سے متفقہ منظور ہو اتھا اسکی دھجیا ںبکھیر دیں لیکن آئین کے ساتھ سب سے زیا دہ کھلواڑ پر ویز مشرف نے کیا۔ آئین جو وزیراعظم کو چیف آف آرمی سٹاف کی تقرری کا اختیار دیتا ہے جو اختیا ر نواز شریف نے استعمال کیا ، پرویزمشرف نے اس آئینی اختیا ر کو ایسیٹھوکر ما ری کہ نہ صرف انہو ں نے اپنی ذاتی غرض سے عوام کی منتخب حکومت کو غیر آئینی طور پر اچک لیا ساتھ ہی عوام کی منتخب پا رلیمنٹ کو بھی نیست ونا بو د کر دیا۔ یہ سب اقداما ت قطعی طورپر غیر آئینی اور غیر قانو نی تھے مگر پرویز مشر ف کو عدالت نے نہ صرف حق حکمر انی عطا کیا بلکہ آئین میں ترمیم کا یکطرفہ اختیار بھی دید یا حالا نکہ پر ویزمشرف نے آئین میں ترمیم کا اختیا ر طلب نہیں کیا تھا ، یہ سب کھلی کتا ب کی طر ح ہیں ۔ عاصمہ جیلانی (عاصمہ جہا نگیر )کیس میں یحییٰ خان کو غاصب قرا ر دیا تھا مگر یحییٰ خان نے بحیثیت چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور صدر پاکستان جواقداما ت کیے تھے ان کو برقرا ر رکھا یہ بھی نظریہ ضرورت کے تحت کیاگیا ، اب جو فیصلہ نو از شریف کے نا اہل ہونے کے بارے میں آیا ہے اس نے کئی سوال اٹھا دیئے ہیں کیوں کہ 28جو لائی 2017ء کو پارلیمنٹ سے نا اہل قر ار پانے بعد سے اب تک انہو ں نے جو اقداما ت یا فیصلے بحیثیت پارٹی صدر کیے ہیں ان کے بارے میں مختلف آراء آرہی ہیں مثلاًسینٹ کے لیے جو پارٹی ٹکٹ انہو ں جاری کیے ہیں وہ کا لعدم قر ار پاگئے ہیں جس پر یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اب مسلم لیگ ن کے امید وار کیا الیکشن میں حصہ لے سکیںگے یا نہیں بظاہر تو یہ ہی نظر آتاہے کہ نہیں مگر بعض ماہر ین قانون کا موقف ہے کہ وہ الیکشن میں حصہ لے پائیں گے کیوں کہ وہ الیکشن کمیشن کو درخواست دے سکتے ہیں کہ پارٹی کے صدر کی جانب سے ان کو امید وار نا مزد کرنے کا ذکر اضافی ہوگیا ہے اب وہ آزاد امید وار کی حیثیت سے انتخابات میں حصہ لینے کے متمنی ہیں آزادحیثیت میں انتخابات میںحصہ لینے پر آئین اور قانو ن کے تحت کوئی پا بند ی نہیں ہے بہر حال اس بارے میں الیکشن کمیشن کی جا نب سے ہی فیصلہ آنا ہے تب جا کر صورت حال واضح ہوسکے گی بعض ماہر ین کا گما ن ہے کہ چونکہ عدالتی فیصلہ کی روشنی میں ان کی نا مزدگی کا لعد م ہو چکی ہے اور اس لیے اب کوئی چانس نہیں ہے البتہ چند ما ہر ین کا موقف یہ ہے کہ الیکشن کمیشن میں اتنی بڑی تعدا د میں کا غذات عدالتی فیصلہ کی روشنی میں کا لعد م قرا ر پاتے ہیں توالیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخ کو بڑھا کر نئے کا غذات نا مزدگی طلب کر سکتا ہے جس سے الیکشن میں زیادہ سے زیا دہ ایک ہفتے کی تاخیر ہو سکتی ہے۔ بہر حال یہ صورت حال آئند ہ دنو ں میںواضح ہو جا ئے گی ۔ عدالتی فیصلے کی روشنی میں چونکہ نو از شریف کے پا رلیمنٹ کے لیے نااہل ہو نے کے بعد سے تما م اقدامات اور فیصلے کالعدم قرا ر پائے جا چکے ہیں تو بعض حلقوں کا مو قف ہے کہ اس سے شاید خاقان عبا سی کی وزیر اعظم کی حیثیت سے نا مز دگی بھی متا ثر ہو رہی ہے لیکن بعض کا مو قف ہے کہ وزیر اعظم کو منتخب جمہوری ادارے نے منتخب کیا ہے اور یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ان کی نا مزدگی پارٹی کے فیصلے پر مبنی ہے اس لیے وہ بچ جا تے ہیں بہرحال تما م دھند چند رو ز میں ہی چھٹ جا ئے گی ، البتہ اصل سوال میاں نو از شریف کی سیاست کا ہے کیا وہ سیا ست سے باہر ہوگئے ہیں ، ایسا نہیں لگ رہا ہے کیو ں کہ حالیہ تما م اقداما ت سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ وہ روز بہ روز مقبول لیڈ ر بنتے جارہے ہیں بلکہ جویہ دعویٰ کر تا ہے کہ اس کی پشت پر کسی امپا ئر کا ہا تھ ہے اس کی مقبولیت کا گر اف نیچے آتا دیکھا جا رہا ہے۔ پارلیمنٹ کی رکنیت سے نا اہل قر ار پا نے کے بعد جتنے ضمنی انتخا بات ہوئے اس سے مسلم لیگ کی مقبولیت کے گراف کو بلند ہو تے دیکھا گیا ہے۔ اس کے علا وہ دھا ندلی کا شور وغل مچا کر جو سڑکو ں پرآئے تھے ان کے لیے اب سڑکیں سنسان محسوس کی جا رہی ہیں۔ نو ازشر یف ما ضی کے وزرائے اعظم کی طر ح خامو شی سے گھر جا کر بیٹھنے کی بجا ئے سڑکو ں ، گلیوں محلوں اور قر یہ قریہ نکل کھڑے ہو ئے اورانہوں نے خود کو مظلو م ثابت کرنے کی مساعی کی۔ اس طرح انہوں نے خود کو مزید مقبول سیا سی رہنما ء بنا لیا ہے اور ایسا محسوس کیاجا تا ہے کہ انہو ں نے ذہنی طور پرجیل جانے کے لیے خود کو تیا ر کرلیا ہے۔ اگر وہ جیل چلے گئے تب بھی ان کی سیا سی مقبولیت گہنائے گی نہیں بلکہ اس کی چمک دمک میں اضافہ ہی ہو تا نظر آرہا ہے ۔