Daily Mashriq

سیاسی وفاداریاں

سیاسی وفاداریاں

پاکستان میں سیاست میں نظریات سے زیادہ مفادات کو دیکھا جاتا ہے اس لیے کوئی بھی سیاستدان پارٹی وفاداری تبدیل کرنے میں دیرنہیں لگاتا۔آج ایک پارٹی میں ہیں تو کل دوسری پارٹی کا جھنڈا ہاتھ میں اٹھایا ہوگا۔ جہاں تک وفاداری تبدیل کرنے کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں میری گزارش ہے کہ پاکستان میںوہ کونسی سیاسی پا رٹی ہے جو مو روثی سیاست اور سیاسی وفاداری تبدیل کرنے سے پاک ہو۔اگر ہم غور کریں تو شریف اور بھٹو خاندانوں کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں، باقی پاکستان کے تقریباً سب سیاست دان آپس میں رشتہ دار ہیں۔اگر ہم سیاسی وفاداریوں کی بات کریں تو پاکستان مسلم لیگ کے قائد نواز شریف پہلے تحریک استقلال میں تھے ۔ 1985ء میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ ، تین دفعہ پاکستان مسلم لیگ نواز کی طر ف سے وزیر اعظم رہے۔ اگر ہم پاکستان پیپلز پا رٹی کی موجودہ قیادت پر نظر ڈالیں سابق صدر آصف علی زرداری کے والد، بلاول بھٹو زرداری کے دادا، سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے سسر حاکم علی زرداری عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے نا ئب صدر تھے اور اب وہ خودپاکستان پیپلز پا رٹی میں ہیں۔ اگر ہم 2013 کے عام انتخابات پر نظر ڈالیں تو مسلم لیگ نواز کے قومی اسمبلی ، صوبائی اسمبلی اور سینیٹ میں تقریباً 200ایسے سیاست دان ہیں جو ماضی قریب میں مشرف اور پاکستان مسلم لیگ (ق) اور پی پی پی کا حصہ تھے۔ان میں مشرف دور اور نواز شریف کے وزیر قانون زاہد حامد ، امیر مقام ، ما روی میمن ، دانیال عزیز ، راجہ جا وید اخلاص ، میجر طاہر اقبال اورا نکے علاوہبھی بہت سے ایسے ایم این اے ، ایم پی اے اور سیاست دان تھے جو نواز شریف کے جانی دشمن پر ویز مشرف کے خا ص تھے۔ دوسری سیاسی پا رٹیوں میں بھی وفا داریاں تبدیل ہو تی رہیں۔مثلاً بلو چستان کے سیاست دان محمد اکبر خان بگٹی1960 میں نیشنل عوامی پا رٹی میں تھے۔ پھر پاکستان پیپلز پا رٹی میں شمولیت اختیار کی ، 1972 میں گو رنر بنے۔1988 میں بلو چستان نیشنل الائنس میں وزیر اعلیٰ، اور 1990 میں خود اپنی پا رٹی جمہوری وطن پا رٹی بنائی۔اسی طرح بلو چستان سے جمالی اور مگسی خاندان بھی کئی پا رٹیوں کا حصہ رہے ہیں۔پشاور سے ارباب جہانگیر 1977 میں پی پی پی میں تھے۔ اسکے بعد 1990 میں عوامی نیشنل پا رٹی ، 1993 میں پی پی پی اور 1997 میں پھر نیشنل عوامی پا رٹی کا حصہ رہے۔خیبر پختون خوا سے شیر پائو خاندان کے آفتاب شیر پائو پہلے پی پی پی میں تھے پھراُنہوں نے قومی وطن پا رٹی کی بنیاد ڈالی۔اگر ہم سیف اللہ خاندان کو لیں ۔کلثو م سیف اللہ 1970میں نیشنل عوامی پا رٹی سے صو با ئی اسمبلی کی ممبر، اُنکے بیٹے سلیم سیف اللہ خان پاکستان مسلم لیگ کا حصہ رہے۔اُنکے دوسرے بیٹے انور سیف اللہ 1990 سے 1997تک مسلم لیگ کے سینیٹ کے ممبر، ہمایوں سیف اللہ خان 2008 سے 2013 تک مسلم لیگ (ق) کے قومی اسمبلی کے ممبر رہے۔ انور سیف اللہ خان، نواز شریف کابینہ میں ما حولیات کے وزیر اور پی پی پی حکومت میں وفاقی وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل تھے۔اسی طرح جاوید ہا شمی نے پہلے جماعت اسلامی اسکے بعد مسلم لیگ(ن) اور اسکے کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور اب پھر مسلم لیگ نواز میں شامل ہوگئے۔امیر مقام پہلے جماعت اسلامی میں تھے ۔اسکے بعد مسلم لیگ (ق) اور مشرف کے خاص بنے رہیجن کو پر ویز مشرف نے پستول بھی دیا تھا ۔ اب امیر مقام مسلم لیگ(ن) کے خیبر پختون خوا کے صدر اور قومی اسمبلی کے ممبر ہیں۔سابق وزیر قانون بابر اعوان پہلے پی پی پی میں تھے اور اب پی ٹی آئی میں ہیں۔اسی طر ح نذر محمد گوندل ، فردوس عاشق اعوان ، امتیاز صفدر وڑائچ ، رانا آفتاب احمد خان، صمصام بخاری اور غلام سرور خان نے پی پی پی سے علیحدگی اختیار کر کے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی۔شاہ محمود قریشی پہلے مسلم لیگ ،پھر پی پی پی اور اب تحریک انصاف کا حصہ ہیں۔مانسہرہ سے اعظم خان سواتی پہلے جے یو آئی میں تھے اور اب پی ٹی آئی کے سینئر لیڈر ہیں۔فیلڈ مارشل ایوب خان کے بیٹے گو ہر ایوب 1985میں جونیجو لیگ سے قومی اسمبلی کے سپیکر تھے پھر اسکے بعد مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وزیر خارجہ بنے اور اب اس خاندان کا رُجحان پی ٹی آئی کی طرف ہے۔ان تمام باتوں سے میرا مطلب یہ ہے کہ ان سیاسی لیڈروں کی کوئی سیاسی ونظریاتی وابستگی اور وفاداری نہیں ہوتی۔ جدھر انکے مفادات ہوتے ہیں یہ اُدھر چلے جاتے ہیں ۔ جہا ں تک غریب کو دھوکہ دینے کا فن ہے وہ ان سب کو آتا ہے۔ یہ سب اپنے مفادات کے لئے تگ و دو کر رہے ہیں۔ آج کل جسکے پاس پیسے ہیں وہ ملک کی بڑ ی سیاسی پا رٹی کے سربراہ اور لیڈر دونوں ہیں۔

اداریہ