Daily Mashriq

مشرق وسطیٰ میں بھارت کی کامیاب سفارت کاری

مشرق وسطیٰ میں بھارت کی کامیاب سفارت کاری

ہندو کی نفسیات ، تاریخ اور تہذیب و ثقافت قدیم ہونے کے علاوہ بہت پیچیدہ بلکہ گمبھیرتا کی حامل ہے ۔ ہندو مذہب میں اوتا ر کا عقیدہ بہت جازب اور عام مذاہب کو بہت جلد اپنے اندر ہڑپ اور جذب کرنے کی صلاحیت کا حامل ہے ۔ اسی بناء پر ہندو مذہب میں بر ھمنیت کے تشدد ، تنگ نظری اور ذات پات کی تقسیم کیخلاف ردعمل ، مزاحمت اور اصلاح کے طور پر بدھمت ، جین مت اور سکھمت وغیرہ جیسے جو بھی مذاہب اور تحریکیں اُٹھی ہیں ایک مدت گزرنے کے بعد ان مذاہب کے بانی مبانیوں کی مورتیاں مندر کے اندررکھکر اُن کے پیرو کاروں کو اپنے مندر کے اندر لا کر اپنے مذہب (ہندومت ) میں جذب اور ہضم کروالیا ۔ ہندو مت میں برھمنیت نے ذات پات کی تقسیم کے ذریعے عام لوگوں کو خوشامد اور عاجزی وخاکساری پر اس حد تک مجبور کیا ہے کہ وہ جب اپنے بڑوں بالخصوصی برھمن کے سامنے آتے ہیں تو دونوں ہاتھ جوڑ کر آگے کر تے ہوئے نمسکار کرتے ہیں ۔ ابتداً اس کی وجہ یہ تھی کہ نچلی ذات والے برھمنوں کے ساتھ ہاتھ نہیں ملا سکتے تھے لہٰذا وہ دور سے ہاتھ جوڑ کر نمسکار کرتے تھے وقت گزرنے کے ساتھ یہ ہندو تہذیب و تمدن کے سلام کلام کی علامت بن گیا ۔ اور اب تویہ اتنا عام ہو گیا ہے کہ ہندو تہذیب کی پہچان بن گیا ہے اور بہت مئو ثر ہو کر جزیرہ نما عرب سے امریکہ و یورپ تک پھیل گیا ہے ۔
1980ء کی دہائی سے آج تک مشرق وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں جب افرادی قوت کی مانگ میں اضافہ ہوا تو بھارت کی وزارت خارجہ کے پنڈت چانکیہ کے فلسفہ میں گندھے ہوئے سفارت کاروں نے عرب شیوخ کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوتے سفارت کاری کا بہترین مظاہرہ کرکے پاکستان کے مقابلے میں کم اُجرت پر خلیجی ممالک تھوک کے حساب سے ہر شعبہ زندگی کے لئے افرادی قوت فراہم کی ۔ان لوگوں نے وہاں کمال ماتحتی و فرمانبرداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے لئے مضبوط مقام پیدا کیا اور ایک وقت آیا کہ عرب شیوخ بھارت جا کر وہاں کی رنگینوں ، شوخیوں اور شادیوں کی صورت میں لطف اُٹھاتے ہوئے افرادی قوت بھی ساتھ لانے لگے اور پاکستانیوں کے مقابلہ میں نمستے کہتے ہوئے ہاتھ جوڑنے والوں کو ترجیح دینا شروع کی اور یوں آج وہاں ہر دفتر ، بازار ، دکان وفیکٹری میں ہندوستانی ہی ہندوستانی نظر آتے ہیں ۔ یہ ایک طرف بھارت کے لئے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کماتے ہیں اور دوسری طرف تو حید پرست عربوں میں نمسکار اور اپنی رنگین و خوشنما فلموں کے ذریعے اپنی تہذیب و ثقافت کی جڑیں مضبوط کررہے ہیں ۔ لیکن ان سب کے علاوہ اس بات میںکوئی شک نہیں کہ نہرو کے دور سے لیکر آج تک بھارت سفارت کاری کے میدان میں بہت تیز ، چالاک اور مکار ہے ۔ اس کی ایک اہم وجہ تو پنڈت چانکیہ کافلسفہ ہے جو بھارت کی وزارت خارجہ کے کونے کا پتھر کہلاتا ہے اور دوسری وجہ ہندو مذہب ہے جو دنیا کے سپر پاور اور دیگر ممالک و مذاہب کے ساتھ ہر لحاظ سے گھل مل جانے میں کوئی ، ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا مثلاً شراب نوشی ،کسی بھی طریقے سے ذبح شدہ مرغی کا گوشت وغیر ہ ان اسباب کی بناء پر بھارت کو یہ سہولت مل جاتی ہے کہ کس زمانے میں دہریت پرست اشتراکی روس کے ساتھ اور اب امریکہ اور مغرب کے ساتھ جنم جنم کے ساتھیوں کی طرح مل کر عالمی سطح پر ایک ایسا بلاک بنا لیتے ہیں جو ایک دوسرے کے لئے مئوید اور پاکستان و ترکی جیسے ملکوں کے لئے خطرات کا حامل ہوتا ہے ۔ بھارت کی تاریخی اور روایتی مکاری پر مبنی سفارت کاری کا کمال دیکھئے کہ روس کو چھوڑ کر امریکہ اور امریکہ کی آنکھوں کا تار ا اسرائیل کے ساتھ ایسا شیر و شکر ہوا ہے کہ گویا یک جان دوقلب ہیں ۔گزشتہ دنوں اسرائیلی اور بھارتی وزرائے اعظم کے ایک دوسرے کے ملکوں کے دورے اور معاہدے اس بات کے واضح ثبوت ہیں ۔ لیکن اس سے بڑھ کر کمال ملا خطہ کیجئے کہ ہمارے پڑوسی ممالک افغانستان اور ایران میں بھی پنجے گاڑ ھ لئے ہیں ؟ اب دل تھام کر سینئے کہگزشتہ دنوںسشما سوراج نے سعودی عرب کا دورہ کیا اور وہاں ثقافتی میلے کا افتتاح کر آئی ہے لیکن ان ساری چیزوں کو ایک طرف رکھ کر بھارتی سفارت کاری کا سر چڑھ بولتا جادو یہ ہے کہ نریندرمودی نے متحد ہ عرب امارات کا دورہ کر کے دبئی میں اپنی تاریخ و نوعیت کے پہلے مندر کا افتتاح اس انداز میں کیا ہے کہ امارات کے اچھے اچھے شیوخ بھی اُن کے آگے پیچھے کھڑے ہیں اور ہاتھ جوڑ کر مندر میں رکھے بتوں کو پرنام کر رہے ہیں۔ ہے نا کامیاب سفارت کاری ، کہ وہ سر زمین جہاں سے دنیا بھر میں توحید کا پیغام ملا تھا آج جدید یت (ماڈرن ازم ) کی اذیت و مصیبت میں مبتلا ہو کر رجعت قہقری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بتوں کو دوبارہ اندر لا رہے ہیں ۔ فاعتبر وا یا اولی الابصار !۔ ابو دائود (احادیث کی کتاب) کی کتاب الفتن کی اس حدیث کی پیش گوئی قابل غور و فکر ہے ، قیامت قائم نہ ہوگی ، یہاں تک کہ عرب کے کچھ قبائل مشرکین کے ساتھ ملکر بتوں کی عبادت نہ کرنے لگیں ‘‘۔ پاکستان کے ارد گرد ماحول مشکل سے مشکل تر ہونے لگا ہے اللہ تعالیٰ سے نصرت و رہنمائی کی دعائیں مانگنا ضروری ہے اور عوام پاکستان کو اور سیاستدانوں کو شریعت مطہرہ کے مطابق اپنے معاملات سنورانے ہوںگے ۔ ورنہ نجات کی دوسری راہ دکھائی نہیں دیتی ۔

اداریہ